Skip to content

مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات (قسط 12) تحریر: حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات (قسط 12) تحریر: حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

مدینہ طیبہ کی ہر گلی، ہر پتھر اور ہر موڑ اپنے اندر تاریخ کا ایک عظیم باب چھپائے ہوئے ہے۔ یہ وہ مبارک سر زمین ہے جہاں سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے قدمِ مبارک جلوہ گر ہوئے اور جہاں اسلام کی شوکت و عظمت کا سورج طلوع ہوا۔ انہی بابرکت اور تاریخی مقامات میں دو مسجدیں ”مسجدِ اَلدِّرْعْ“ اور ”مسجدِ المستراح“ اپنی ایک جداگانہ اور ایمان افروز تاریخ رکھتی ہیں، جو غزوۂ احد کے لازوال واقعات کی شاہد ہیں۔

1. مسجدِ اَلدِّرْعْ (مسجدِ شیخین): سیف و قلم اور ایمان کی درسگاہ

مسجدِ نبوی الشریف اور جبلِ احد کے درمیان، تاریخی راہوں پر واقع یہ مبارک مقام ”مسجدِ اَلدِّرْعْ“ (جسے مسجدِ شیخین بھی کہا جاتا ہے) کے نام سے معروف ہے۔ یہ وہ منزل ہے جہاں حبیبِ خدا ﷺ نے حق و باطل کے معرکے ”غزوۂ احد“ کے سفر کے دوران قیام فرمایا تھا۔

عربی زبان میں ”درع“ زرہ (جنگی لباس) کو کہتے ہیں۔ سرورِ کائنات ﷺ نے شجاعت و حکمت کی مثال قائم کرتے ہوئے، دشمن کے مقابلے کے لیے اسی مقام پر اپنی مبارک زرہ زیبِ تن فرمائی تھی۔ اسی تاریخی واقعے کی نسبت سے اس پورے علاقے کو ”مقام الدرع“ اور اس مسجد کو ”مسجد الدرع“ کہا گیا۔تاریخی روایتوں کے مطابق، حضور اکرم ﷺ نے میدانِ جنگ کی طرف روانگی کے وقت یہاں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا فرمائیں اور پوری رات صحابہ کرامؓ کے ساتھ یہاں قیام فرمایا۔ اگلے روز فجر کی نماز بھی اسی مقام پر ادا کی گئی اور پھر لشکرِ اسلام جبلِ احد کی طرف گامزن ہوا۔

یہ مسجد سیاہ پتھروں سے بنی اپنی قدامت اور دلفریب و سادہ اسلامی طرزِ تعمیر کی وجہ سے آج بھی زائرینِ مدینہ کے لیے گہری عقیدت اور دلکشی کا مرکز ہے۔ اس کے سیاہ پتھر بظاہر خاموش ہیں، مگر ان سے آج بھی صدرِ اسلام کا جاہ و جلال محسوس ہوتا ہے۔

2. مسجد المستراح (مسجد بنو حارثہ)

مسجدِ نبوی سے تقریباً ڈھائی کلومیٹر شمال مغرب میں، بنو حارثہ کی بستی میں قائم ”مسجد المستراح“ تاریخِ اسلام کے ایک اور پرتاثر اور جذباتی واقعے کی یاد دلاتی ہے۔عربی میں ”المستراح“ کے معنی آرام کرنے کی جگہ کے ہیں۔ غزوۂ احد کا معرکہ ختم ہونے کے بعد، جب صحابہ کرامؓ زخمی حالت میں، تھکن اور غم کے سائے میں واپس لوٹ رہے تھے، تو رحمتِ عالم ﷺ نے ان کی راحت کی خاطر اس مقام پر قیام فرمایا اور آرام کا موقع دیا۔ اسی لیے اس کا نام ”المستراح“ پڑ گیا۔روایات میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب بھی شہدائے احد کی قبورِ مطہرہ پر حاضری اور دعا کے لیے تشریف لے جاتے، واپسی پر بنو حارثہ کے اس مقام پر ضرور آرام فرماتے اور نفل ادا کرتے۔ یوں یہ مقام حضور ﷺ کے معمولاتِ مبارکہ کا حصہ بن گیا۔یہ ایک خوبصورت اور چھوٹی مستطیل شکل کی مسجد ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً 491 مربع میٹر ہے۔ اس کے دروازے شمال، مشرق اور مغرب تینوں سمتوں میں کھلتے ہیں۔ روایتی اسلامی گنبد اور منفرداً کھڑا مینار اس مسجد کی بالائی ساخت کو اک خاص حسن عطا کرتے ہیں۔مسجد الدرع اور مسجد المستراح اطاعت، شجاعت، اور ایثار و صبر کے وہ چراغ ہیں جو 1400 سال سے فروزاں ہیں۔ جب کوئی زائر ان مقامات پر حاضری دیتا ہے، تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ عہدِ رسالت کے لافانی واقعات مشاہدہ ہو رہا ہو۔”مدینہ کی ان فضاؤں میں آج بھی عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشبو مہکتی ہے، جو دلوں کو ایمان کی تازگی بخشتی ہے۔“ آپ کو اللہ تعالی موقع عطا فرمائیں تو زیارت کیجئے (جاری ہے) پسند ائے تو مزید معلومات کے لئے فالو کیجئے