دنیا کے نقشے میں اسرائیل کیسے وجود میں آیا …..مختصر تاریخی حقائق…… حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
اسرائیل کیسے وجود میں آیا؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے تاریخ کا وسیع مطالعہ بہت ضروری ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کی نافرمانی اور ان کو شہید کرنے کی کوشش کی پاداش میں یہودی اللہ کے عذاب کا شکار ہوئے۔وقتا فوقتا ان پر مختلف قسم کا عذاب آتا رہا۔ جب سلطنت روم کے حکمران حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لائے تو ان پر زندگی کے لمحات تنگ ہونا شروع ہوگئے۔ حضرت عیسی کے بعد یہودیوں کی پہلی سلطنت 1945 میں اس وقت قائم ہوئی جب انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ صلح کر کے عیسائیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا یوں برطانوی سلطنت کی ان کو حمایت حاصل ہو گئی۔ یہ اس وقت کی بات تھی جب برطانیہ پوری طاقت کے ساتھ دنیا پر جبری حکمران تھا اور جرمنی بھی اس وقت ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے اٹھ ریا تھا۔اور یورپ میں بھی طاقت کے نشے کی دوڑ لگ گئی تھی۔یہود جو کہ ایک حقیر اقلیت تھی اس نے اپنے آپ کو علمی اور مالی طور پر منظم کیا۔ٹیکنالوجی پر دن رات محنت کی پس پردہ ان کو معلوم تھا کہ دنیا ان پر تنگ ہو سکتی ہے بعد میں ہٹلر کے ظلم وستم کی صورت میں تنگ ہو گئی اسی پس منظر میں جب 1914 میں پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو ترکی نے کچھ وجوہات کی بنا پر جرمنی کا ساتھ دیا۔اس وقت ترکی خلافت عثمانیہ کا مرکز تھا اسی وجہ سے برطانیہ اور اس کی اتحادی افواج نے ترکی کے مقبوضات جن میں فلسطین بھی شامل تھا اپنا ٹارگٹ بنا کر ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے۔ اسی دوران مسلمانوں میں بے اتفاقی اور قومیت کا زہر ابھر چکا تھا اوریہودو ونصاری کی پس پردہ سازشوں کی وجہ سے آپس میں ایک دوسرے کے خون کے درپے ہوگئے تھے۔ برطانیہ نے ترکی کو شکست دینے کے لیے پلان بنایا اور یہودیوں کو بھی اس پلان کا حصہ بنایا اور اس کے علاوہ برطانیہ نے ان طاقتوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا جو ترکوں کے خلاف تھے ان بدلتے ہوئے حالات میں یہودیوں نے اپنے آپ کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ اس پورے مشن میں یہودیوں کی تنظیم صیہون آرٹ سب سے آگے تھی جس کے سربراہ مشہور یہودی پیشوا پروفیسر ڈاکٹر وائنر مین سیہونی نے برطانیہ کو ایسی ایجادات اور دیگر سازوسامان فراہم کردئے جو یہودیون کے پس پردہ ایجادات تھے جن سے جنگ میں برطانیہ کا پلڑا بھاری رہا اور اس کے عوض اس نے برطانوی حکام سے وعدہ لیا کہ جنگ جیتنے پر وہ فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک الگ وطن قائم کریگا اس بات پر ان کا اتفاق ہوگیا تھا چونکہ برطانیہ بھی ترکی کی دشمنی میں خلافت کے ساتھ فلسطین کو مستقل طور پر ختم کرنا چاہتا تھا۔1917 میں برطانوی وزیر خارجہ لارڈ بالفور نے ان سے ایک خفیہ خط کے ذریعے یہ وعدہ لیا جسے عرف عام میں اعلان بالفور بھی کہا جاتا ہے اس وقت عربوں کا یہ حال تھا کہ وہ اپنے مستقبل سے بے خبرتھے ترکوں کی دشمنی میں برطانیہ کے گن کا رہے تھے اور یہی اصل وجہ تھی جب دسمبر 1917 میں برطانوی افواج یوروشلم میں پہلی بار داخل ہو گئی تو پورے فلسطین کے لوگوں نے شہرسے باہر نکل کر ان کا والہانہ استقبال کیا۔حالانکہ اس وقت یہود اور برطانیہ کے درمیان ہوئے تمام معاہدے سامنے آ چکے تھے۔ اس کے بعد اگلے 30 سال برطانیہ نے جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے فلسطین میں یہود کی آبادکاری شروع کی اور یہی اسرائیل کے قیام کی راہ ہموا ر کرنا تھی۔ اس سے اندازہ لگائیے کہ مصر، شام اور لبنان میں بیٹھے تمام فلسطینی زمینداروں نے منہ مانگی قیمت پر اپنی زمینیں یہودیوں کو فروخت کرنا شروع کر دی اور یہی نہیں بلکہ خود فلسطینیوں نے بھی زیادہ بھاری قیمت کے چکر میں اپنی زمینیں یہودیوں کو بیچ ڈالی۔ اس وقت ہندوستان کے جید علماء نے فلسطینیوں کی زمینوں کی فروخگی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے خلاف ایک توانا آواز بھی بلند کی جس کی کچھ نہ سنی گئی۔ جب وہاں یہودیوں کی آبادکاری بڑھ گئی اور یہودی غالب آگئے تب مسلمانوں کو ہوش آیا اور ان کے خلاف آواز بلند کر کے برطانیہ کے خلاف بغاوت شروع کردی۔ 1936 سے39 19 تک یہودی ریاست منظم ہوگئی تھی مگر اب پانی سر کے اوپر سے گزر چکا تھا۔ برطانوی افواج اور یہودیوں نے اس بغاوت کو کچل دیا۔ یہودی آبادی بڑھتی جا رہی تھی اور ساری دنیا سے یہودی اپنے مستقبل کے وطن کی طرف بڑھ رہے تھے اس وقت بھی ان کا سلوگن یہی تھا کہ دنیا پر حکمرانی صرف یہودیوں کی ہو نی چاہئے اور آج بھی ان کا سلوگن گریٹر اسرائیل یہ ہے۔ یہ ہر معاملے کے پیچھے سازشوں میں مصروف ہوتے تھے ان کی سازشی کارستانیوں کی وجہ سے جرمنی میں مسٹر ہٹلر نے یہود یوں کا قتل عام شروع کیا تقریبا 60 لاکھ یہودیوں کو گیز چمبرز میں زندہ جلا دیا اور بچ جانے والے چند یہودی فلسطین کی طرف جان بچا کر نقل مکانی کی۔اس وقت ہٹلر نے ایک تاریخی جملہ بولا تھا (یہ چند یہودیوں کو میں زندہ چھوڑ رہا ہوں تاکہ میرے بعد دنیا ان کے بارے میں میری ملامت نہ کریں) 1948 میں اسرائیلی آبادی جب 7 لاکھ 58 ہزار تک پہنچ گئی تو برطانیہ نے محسوس کیا کہ اب یہ ایک مضبوط ریاست بن گئی ہے تو اس نے اس علاقے کو اقوام متحدہ کی جھولی میں ڈال دیا۔ امریکہ اور روس اس وقت اسرائیل کے حامی تھے۔اقوام متحدہ نے قرارداد کے ذریعے فلسطین کودو حصوں میں تقسیم کر دیا جس میں اسرائیل کو 56 فیصد جب کہ فلسطین کو 44 فیصد حصہ دیاگیا۔ یہ ایک ناجائز تقسیم تھی اس لیے اس کے لیے عربوں نے اس کی مخالفت کی۔ مگر اب مخالفت کام نہ آئی۔ 14 مئی 1948 میں برطانیہ کے آخری یہودی باشندے کے اسرائیل منتقلی کے بعد اسرائیل نے اپنی آزادریاست کا اعلان کر دیا۔ اسرائیل مسلمانوں کی اپنی نا اتفاقی اور اپس کی نفرت کی وجہ سے دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ شام اردن مصر اور عراق وغیرہ نے اسرائیل کی مخالفت کی لیکن کچھ نہ بنا۔ عراق نے اعلان جنگ بھی کیا مگر عراق کی مخالف قوتیں اسرائیل کو اس کی حرکات سے آگاہ کر تے رہے اور نتیجہ بدترین شکست کی صورت میں سامنے آیااور اسرائیل نے مزید علاقوں کو بھی اپنے قبضے بھی لے لیااور واضح طور پر گریٹر اسرائیل کا اعلان کر دیا جب کہ ہمارے مسلمانوں نے مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کر دیا نتیجے یہ نکلا کہ فلسطینی مسلمان اسرائیل کی ظلم و بربریت کا شکار ہیں۔آج مڈل ایسٹ میں صرف ایران کی وہ طاقت ہے جو ان کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ایران بھی مسلم طاقتوں کی حمایت حاصل کر نے سے قاصر ہے۔ عرب ممالک دونوں طرف لٹکے ہوئے ہیں۔ہر طرف خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں ایسے حالات میں جنگ بندی ہی وہ واحد حل ہے اور پائیدار آمن ہی تمام ممالک کے حق میں بہترین آپشن ہے۔ اس وقت پاکستان ہی دنیا کے لئے مرکز نگاہ ہے اور اللہ تعالی سے امید ہے کہ وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب کی دن رات کی انتھک محنت اور کوشش انشا ء اللہ کامیاب ہوگی اور دنیا اس نازک مرحلے کو عبور کرکے حالات جنگ سے نجات پائےگی۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔پسند آئے تو لائیک شیئر اور کومنٹ کرکے اپنی رائے سے ضروراگاہ کیجئے
