چترال کے قابل فخر فرزند سید فدا حسن کی شاہی مسجد چترال آمد
چترال لوئر (آفیشئل رپورٹ)سرزمین چترال کے قابل فخر سپوت محترم سید فدا حسن آر پی پو ملاکنڈ نے چترال میں واقع تاریخی جامع مسجد اور دارلعلوم چترال کا خصوصی دورہ کیا۔ شاہی مسجد چترال کے خطیب اور صدر دارالعلوم چترال مولانا خلیق الزمان کاکاخیل اور دیگر اساتذہ کرام سمیت عمائدین چترال کی کثیر تعداد نے مہمانِ مکرم کا پرتپاک استقبال کیا۔ سید فدا حسن نے شاہی مسجد چترال کے ساتھ دارالعلوم چترال کے دفتر سمیت دیگر شعبہ جات کا تفصیلی دورہ کیا۔خطیب شاہی مسجد چترال کے دفتر میں عمائدین چترال اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ نامور شخصیات کی ایک دلچسپ بیٹھک لگی۔ چترال کے نامی گرامی شخصیات ڈاکٹر شجاع صاحب ، عباد الرحمن صاحب (اے این پی) قاری محمد گل فراز صاحب (مہتمم مدرسہ تحفیظ القرآن دنین) , مولانا عبد الرحمن صاحب (سابق ایم پی اے چترال)، مولانا عبد الشکور (سابق امیر جے یو آئی چترال) محترم بشیر احمد (سابق صدر بازار چترال) سمیت کئی اہم شخصیات بھی رونق محفل تھے۔سید فدا حسن صاحب سمیت چترال کے ساتھ ڈی ایس پی صاحبان اور پولیس ڈیپارٹمنٹ سے متعلقہ معزز افسران کی پوری ٹیم موجود تھی۔ خطیب شاہی مسجد چترال معزز مہمان کا خیر مقدم کیا اور کلمات تشکر پیش کیا۔چترال میں قیام امن سمیت دیگر تعلیمی و سماجی اعتبار سے شاہی مسجد چترال اور دارالعلوم چترال کی کاوشوں کا جامع نقشہ پیش کیا۔ خطیب شاہی مسجد نے اس موقع پر چترال پولیس کی بہترین کارکردگی پر اطمینان اظہار کیا۔ اور کہا کہ چترال پولیس صوبہ بھر کیلئے ایک مثالی حیثیت رکھتاہے۔ چترال میں قائم امن و امان میں چترال پولیس کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ روایت کے مطابق معزز مہمان کو چترال ٹوپی کا تحفہ پیش گیا ہے۔ اور سید فدا حسن کے اعزاز میں چائے کی شاندار ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا۔محترم سید فدا حسن نے اس موقع پر خطیب شاہی مسجد چترال سمیت عمائدین و اکابرین چترال کا شکریہ ادا کیا۔ کہا کہ تاریخی شاہی مسجد چترال میں اس نشست کو میں اپنے لئیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ اور چترال میں مذہبی رواداری اور امن و امان کا قیام علماء کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ کہا کہ چترال کی اصل خوبصورتی یہاں کی رواداری اور ہماری باوقار شناخت ہے۔ جسے چترالی ثقافت سے تعبیر کی جاتی ہے۔ چترال کی اس اصل خوبصورتی کو بچائے رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اور ہمارے معزز علماء کرام پر اس کی ذمہ داری کہیں زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ چترال کو مثالی ضلع بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ اور میں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنے علماء کے شانہ بشانہ ہونگے۔ اور ہمیں اس بات پر ہمیشہ فخر ہے کہ چترال کے علماء اور مساجد و مدارس کے منتظمین چترال کی خوبصورتی میں اپنا بھر پور ادا کررہے ہیں۔ خطیب شاہی مسجد چترال کی دعا سے یہ خوبصورت نشست اختتام پذیر ہوئی







