Skip to content

نقوشِ جاوداں۔۔۔ یادِ رفتگاں۔۔۔ ایک اور ہیرے کی تصویر مل گئی۔۔۔تحریر ۔۔۔نصیر اللہ منصور چترالی

نقوشِ جاوداں۔۔۔۔ یادِ رفتگاں۔۔۔۔۔ ایک اور ہیرے کی تصویر مل گئی ۔۔تحریر ۔۔۔۔۔نصیر اللہ منصور چترالی

بستیوں کا حسن اور دیار کی آبادیاں محض دیسی کھانوں کی مرہونِ منت نہیں ہوتیں، بلکہ یہ ان برگزیدہ، باصفا اور روشن ضمیر بزرگوں کے دم قدم سے جگمگاتی ہیں جن کا وجود سراپا فیض اور رحمت ہوتا ہے۔ یہ وہ درویش صفت نفوسِ قدسیہ ہیں جن کے قلوب ریاکاری، حرص اور دنیاوی آلودگیوں سے یکسر پاک ہوتے ہیں۔ جب یہ مصلّائے بندگی پر سر بسجود ہوں تو خشوع و خضوع کا پیکرِ جمیل دکھائی دیتے ہیں، اور جب خلقِ خدا کی دستگیری کے لیے کمربستہ ہوں تو ایثار و اخلاص کی وہ تابندہ مثال بنتے ہیں جس پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔

انہیں جلیل القدر اوصاف کے پیکر اور اخلاقِ حسنہ کے سچے امین اور ہمارے دیار کی قابلِ احترام و تعظیم شخصیت محمد نادر خان مرحوم المعروف دورغشو تبلیغی میکی تھے۔ محمد نادر خان صاحب مرحوم ہماری بستی کی مسجد کی روحِ رواں اور چشم و چراغ تھے۔ سحر گاہوں اور شام کے دھندلکوں میں ان کے لحن سے گونجنے والی پنج وقتہ اذان کی دلنواز صدائیں فضاؤں میں نور گھول دیا کرتی تھیں۔ بیت اللہ کی خدمت گزاری ان کے دل کی تسکین اور حیات کا حاصل تھی۔

کڑکڑاتی سردیوں کی جاں گسل سحروں میں جب ہر ذی روح لحاف میں پناہ ڈھونڈتا، وہ مسجد کو گرم رکھنے کے لیے ایندھن کا اہتمام کرتے اور نمازیوں کے وضو کے لیے گرم پانی کی فراہمی میں جتے نظر آتے۔ مسجد کی دہلیز پر ہر آنے والے کا پرتبسم، کشادہ پیشانی اور بے پناہ خلوص سے استقبال کرنا ان کا شیوۂ حیات تھا۔

دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ احوال کے مشن سے وابستگی ان کا والہانہ عشق کا مظہر تھی۔ وہ دینِ حق کی سچی تڑپ لے کر جئے اور دعوت و عزیمت کے تقاضوں کو کماحقہ نبھایا۔ دین داری کے ساتھ ساتھ وہ بستی کے باہمی معاملات، فلاحی جرگوں اور سماجی بہبود کے ہر محاذ پر ہمیشہ ہر اول دستے کے سپہ سالار ثابت ہوئے۔ ان کا وصال ایک درخشاں عہد کا خاتمہ تھا، جس نے بستی کو بے رونق مسجد کو ویران اور دلوں کو سوگوار کر دیا تھا

آج ڈیجیٹل دنیا کے ہنگاموں کے بیچ ناگہاں ان کے چہرۂ پُرنور کی تصویر نظر سے گزری، تو ان کی وہی دھیمی مسکراہٹ، پروقار تمکنت اور درویشانہ شکوہ دل کی اتھاہ گہرائیوں میں یادوں کے ہزاروں چراغ جلا گیا۔ وہ بلاشبہ مروت، شرافت اور اوصافِ حمیدہ کا چلتا پھرتا مجسمہ تھے۔وہ میرے والد صاحب کے مخلص رفقاء میں سے تھے۔

دعا ہے کہ ربِ کائنات ان کے مرقد کو اپنے انوار و تجلیات سے منور فرمائے، ان کی روح کو دارِ بقا میں ابدی راحتیں اور سکون عطا کرے، اور ان کے پسماندگان کو صبرِ جمیل کے ساتھ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ باری تعالیٰ بشری لغزشوں سے درگزر فرماتے ہوئے ان کے درجات کو بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اپنے مقربین کا قرب نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔