مدینہ منورہ کا تاریخی معرکہِ خندق اور سبعہ مساجد: ایمان، حکمت اور نصرتِ الٰہی کی لازوال داستان۔۔۔۔قسط14۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
گلزار مدینہ کی تپتی ہوئی فضا میں جب کفر و باطل کی تمام قوتیں یکجا ہو کر اسلام کی شمع کو بجھانے کے ارادے سے اُمڈ آئیں، تو کوہِ سلع کی وادی ایک ایسی لازوال تاریخ کا پیش خیمہ بنی جس نے حق اور باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی۔ یہ غزوۂ خندق (غزوۂ احزاب) کا معرکہ ایک ایسا لمحہ جہاں ایک طرف کفر کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا اور دوسری طرف صحابہ کرامؓ کے ہمراہ پیکرِ صبر و استقامت، سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی رفاقت۔۔آج کوہِ سلع کے دامن میں واقع “سبعہ مساجد” (سات مساجد) کا تاریخی مجموعہ اسی عظیم عزیمت اور نصرتِ الٰہی کا پروقار شاہد ہے۔ اگرچہ وقت کے گزرنے کے ساتھ اب یہاں عملاً چھ مساجد موجود ہیں، لیکن تاریخ کے اوراق میں یہ مجموعہ آج بھی ‘سبعہ مساجد’ کے نام سے معطر ہے، جو زائرین کو اس دورِ عزیمت کی یاد دلاتا ہے جب خاکِ مدینہ پر ایمان و حکمت نے مل کر تاریخ کا رخ موڑ دیا تھا۔ناظرین کرام بدقسمتی سے جب میں احزاب کے مقام پر حاضر ہوا تو تعمیراتی کام کی وجہ سے تمام راستے بند تھے غالبا کچھ مساجد کو ملا کر ایک بڑی مسجد بنانے کا کام جاری تھا مکمل زیارت تو نہ ہو سکی جہاں تک ممکن ہو ا قارئیں کی خدمت سے تاریخی حقائق کے ساتھ پیش ہے
مسجد الفتح: خیمۂ رسول ﷺ اور نصرتِ الٰہی کی تجلّی کے نمایاں اثرات میں سے ایک ہے۔ سبعہ مساجد کے اس مقدس قافلے میں سب سے نمایاں، جلیل القدر اور بلند مقام مسجد الفتح کو حاصل ہے، جو جبلِ سلع کے مغربی ڈھلوان پر واقع ہے۔یہ وہی بابرکت مقام ہے جہاں غزوۂ خندق کے سخت اور آزمائش سے بھرپور ایام میں خاتم النبیین ﷺ نے اپنا خیمہ مبارک نصب فرمایا تھا۔ یہ خیمہ اسلام کی عسکری حکمتِ عملی اور دفاعی تدبیر کا مرکزی کمانڈ پوائنٹ تھا، جہاں سے پوری خندق کی نگرانی کی جا رہی تھی۔جب صحابہ کرامؓ سخت سردی، فاقہ کشی اور دشمن کے محاصرہ میں خندق کھودنے اور دفاع میں مصروف تھے، تب اسی مقام پر رحمتِ عالم ﷺ نے مسلسل تین روز تک بارگاہِ الٰہی میں عاجزی و انکساری سے نصرت کی التجا فرمائی۔غزوۂ خندق کے دوران یہاں رسول اللہ ﷺ کا خیمہ (کمانڈ پوسٹ) مبارک نصب تھا۔ آپ ﷺ نے پیر، منگل اور بدھ کے دن یہاں مسلسل مشرکین کے لشکر پر فتح کے لیے رقت آمیز دعائیں فرمائیں۔ بدھ کے دن ظہر اور عصر کے درمیان اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی دعا قبول فرمائی، جبرائیل علیہ السلام فتح کی بشارت لے کر آئے اور کافروں کا لشکر آندھی کے طوفان سے تباہ ہو گیا۔ اسی مناسبت سے اسے “مسجد الفتح” (فتح کی مسجد) کہتے ہیں۔ تیسرے دن ربِ کریم کی رحمت جوش میں آئی؛ ایک شدید و تند و تیز آندھی اور غیبی طوفان نے کفارِ مکہ اور ان کے اتحادیوں کے خیمے کے پرخچےاکھاڑ پھینکے، ان کے دیگچے الٹ دیے اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ یوں بغیر کسی بڑے معرکے کے، نصرتِ الٰہی کے ذریعے مسلمانوں کو مبین فتح حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس مقام پر قائم مسجد کو “مسجد الفتح” (فتح کی مسجد) کا نام دیا گیا۔
مسجد الفتح کے گرد و پیش میں واقع دیگر مساجد ان جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے عزم، پہرے داری اور خلوصِ نیت کی علامت ہیں جنہوں نے اس معرکے میں بے مثال کردار ادا کیا
مسجد سلمان فارسیؓ
مسجد الفتح کے قریب واقع یہ مسجد اس عظیم صحابی سے منسوب ہے جنہوں نے اہلِ فارس کی جنگی حکمتِ عملی کو سامنے رکھتے ہوئے خندق کھودنے کا تاریخی مشورہ دیا تھا، جسے آپ ﷺ نے انتہائی پسند فرمایا۔یہ مسجد جلیل القدر صحابی رسول حضرت سلمان فارسیؓ کے نام سے منسوب ہے۔ حضرت سلمان فارسیؓ وہ صحابی ہیں جنہوں نے مدینہ کے دفاع کے لیے شہر کے گرد خندق (کھائی) کھودنے کا تاریخی مشورہ دیا تھا، جسے عربوں میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ جنگ کے دوران ان کا خیمہ اور پوزیشن اسی جگہ کے قریب تھی۔ جہاں پر اج مسجد سلمان فارسی موجود ہے
مسجد ابو بکر صدیقؓ
یہ مسجد سلمان فارسی کے جنوب مغرب میں واقع ایک چھوٹی مسجد ہے۔ غزوۂ خندق کے دوران اس مقام پر خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کا خیمہ اور دفاعی مورچہ قائم تھا۔ انہوں نے اس جگہ نمازیں ادا کیں اور محاذ کی نگرانی کی۔ بعد میں مسلمانوں نے ان کی یادگار اور برکت کے لیے یہاں مسجد تعمیر کی۔سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے قیام، نماز اور خیمے کی یادگار کے طور پر قائم کی گئی ایک پروقار اور چھوٹی تاریخی مسجد ہے جو اسی مقام پر موجود ہے۔
مسجد عمر بن الخطابؓ
یہ مسجد ابو بکر صدیق سے تھوڑے فاصلے پر، جنوب کی طرف واقع ہے۔یہ مسجد خلیفہ دوم حضرت عمر بن الخطابؓ کے نام سے منسوب ہے۔ یہ اس مقام پر بنائی گئی جہاں حضرت عمرؓ کا خیمہ تھا اور انہوں نے غزوۂ خندق کے کٹھن دنوں میں یہاں نمازیں پڑھیں اور اپنے حصے کے محاذ کی رات بھر پہرہ داری کی تھی۔ اس کی بناوٹ مسجد ابوبکر کی طرح ہی چھوٹی تھی۔فاروقِ اعظمؓ کے مقامِ عبادت اور دفاعی مورچے کی یادگار، جو ان کی ہیبت اور جلالِ ایمان کی گواہ ہے جس کی یاد میں خندق کے مقام پر ایک تاریخی مسجد بنائی گئی ہے۔
مسجد علی بن ابی طالبؓ
یہ مسجد ایک اونچے پہاڑی ٹیلے پر واقع ہے جو مسجد الفتح کے بالکل مشرق میں ہے۔غزوۂ خندق کے دوران یہ حضرت علی بن ابی طالبؓ کا عسکری مرکز اور خیمہ گاہ تھی۔ حضرت علیؓ نے اسی محاذ سے مشرکین کے نامور پہلوان عمرو بن عبدود کا مقابلہ کیا تھا اور اسے واصلِ جہنم کیا تھا۔ یہ مسجد رقبے میں بہت چھوٹی تھی اور اس کی بلندی سے پورے خندق کے علاقے پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔حیدرِ کرار، شیرِ خدا حضرت علیؓ کے مقامِ پہرہ اور شجاعت سے وابستہ پہاڑی ٹیلے پر قائم مسجد، جہاں سے انہوں نے کفر کے نامور شہسواروں کو واصلِ جہنم کیا۔ ان کی یاد گار خوبصورت مسجد ہے۔
مسجد فاطمہ الزہراؓ
یہ ان تمام مساجد میں سب سے چھوٹی مسجد ہے جو مسجد علیؓ کے قریب واقع ہے۔یہ سیدہ فاطمہ الزہراؓ (رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی) سے منسوب ہے۔ جنگ کے دوران سیدہ فاطمہؓ اور دیگر خواتین اسی مقام کے قریب موجود تھیں اور مجاہدین کے لیے کھانا تیار کرتی تھیں اور زخموں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ اسے “مسجد الخندق” بھی کہا جاتا تھا۔سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہؓ سے منسوب یہ مقدس مقام، جسے بعض روایات میں ‘مسجد قبلہ’ بھی کہا جاتا ہے، روح کو ایمانی پاکیزگی بخشتا ہے۔
مسجد سعد بن معاذؓ
یہ مسجد ان چھ مساجد سے تھوڑا دور بنو حرام کے علاقے میں واقع تھی۔یہ قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذؓ کے نام سے منسوب ہے، جو غزوۂ خندق کے دوران اسی محاذ پر تیر لگنے سے شدید زخمی ہوئے تھے اور بعد میں اسی زخم کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ بعض مورخین اس مسجد کو سبعہ مساجد کا ساتواں حصہ شمار کرتے ہیں۔قبیلہ بنو اوس کے عظیم سردار اور مجاہد حضرت سعد بن معاذؓ کے خیمے اور مورچے کی یادگار، جنہوں نے اس جنگ میں اسلام کے لیے تابناک خدمات انجام دیں۔
موجودہ صورتحال میں مسجد الخندق الکبیر سعودی حکومت نے زائرین کی سہولت، مساجد کی حفاظت اور رش کو سنبھالنے کے لیے ان چھوٹی مساجد کے دامن میں ایک بہت بڑی، خوبصورت اور جدیدمسجد الخندق تعمیر کر دی ہے۔ اب تمام زائرین اسی بڑی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں، جب کہ پہاڑی پر موجود پرانی تاریخی مساجد (خصوصاً مسجد الفتح) کو ان کی تاریخی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ (جاری ہے )
پسند آئے تو ثواب کی نیت سے اگے شیئر کئجئے اور چینل کو فالو کیجئے

