Skip to content

مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات۔۔۔قسط 13 ۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات ۔۔۔۔ قسط 13 ۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

مدینہ منورہ کی ہر گلی اور گوشہ تاریخِ اسلام کے انمٹ نقوش اور سرورِ کائنات ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے ایمان افروز واقعات کا امین ہے۔ ان مقدس مقامات میں سےتین مساجد اپنی منفرد تاریخی اور روحانی حیثیت کی بدولت تاریخ میں خاص مقام رکھتی ہیں۔

مسجدِ قبلتین (دو قبلوں والی مسجد)

یہ تاریخی مسجد مدینہ منورہ کے شمال مغرب میں واقع ہے اور عہدِ نبوی میں قبیلہ بنو سلمہ کی بستی میں قائم تھی۔تحویلِ قبلہ کا واقعہ اسی مسجد میں پیش آیا تھا۔ ہجرتِ نبوی کے تقریباً ۱۶ یا ۱۷ ماہ بعد (۲ ہجری، ماہِ شعبان یا رجب) حضور اکرم ﷺ صحابیہ ام بشر بنت البراء رضی اللہ عنہا کی دعوت پر تشریف لائے۔ ظہر کی نماز کے دوران، جب دو رکعتیں بیت المقدس کی طرف ادا ہو چکی تھیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی دیرینہ تمنا کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے یہ آیت قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا نازل فرمائی (البقرہ: ۱۴۴) رسول اللہ ﷺ نے نماز ہی کی حالت میں اپنا رخ شمال (بیت المقدس) سے جنوب (خانہ کعبہ) کی جانب ۱۸۰ درجے موڑ لیا اور مقتدیوں نے بھی پیروی کی۔ اسی نسبت سے اس مسجد کو “قبلتین” (دو قبلوں والی مسجد) کا نام ملا۔ صدیوں تک اس کی دونوں سمتوں میں محرابیں اس تاریخی واقعہ کی گواہ رہیں۔

مسجدِ الفَسَح (مسجدِ الفسیح)

یہ مقدس مسجدِ جبلِ احد کے دامن میں اس گھاٹی کے قریب واقع ہے جہاں غزوۂ احد کے بعد صحابہ کرام نے قیام فرمایا تھا۔ یہ بھی غزوۂ احد کی یادگار مقامات میں سے ایک ہے شوال ۳ ہجری میں غزوۂ احد کے اختتام پر جب معرکہ تھم گیا تو رسولِ اکرم ﷺ شدید زخمی اور نڈھال تھے۔بیٹھ کر نماز کی ادائیگی فرمائی۔ نقاہت اور زخموں کی شدت کے باعث نبی کریم ﷺ نے یہاں ظہر اور عصر کی نمازیں بیٹھ کر ادا فرمائیں، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی آپ کی اقتدا میں بیٹھ کر ہی نماز مکمل کی۔ اسے مسجدِ الفَسَیح بھی کہا جاتا ہے، بعض روایات کے مطابق اس مقام پر کشادگی اور مجلس کے آداب سے متعلق قرآنی حکم (تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ) کی عملی جھلک بھی دیکھی گئی۔

مسجدِ الرایہ (پرچم والی مسجد)

یہ مسجد مدینہ منورہ کے شمالی رخ پر واقع چھوٹی سی پہاڑی جبلِ ذباب پر قائم ہے۔ مسلمانوں کی عسکری و دفاعی مرکز بن گئی تھی۔ غزوۂ خندق (۵ ہجری) کے دوران رسولِ کریم ﷺ نے خندق کی کھدائی کے وقت اس مقام پر اپنا خیمہ نصب فرمایا تھا۔ عربی زبان میں “رایہ” جھنڈے یا پرچم کو کہتے ہیں۔ اس مقام پر لشکرِ اسلام کا مرکزی پرچم نصب کیا گیا تھا جہاں سے آپ ﷺ پورے دفاعی محاذ اور خندق کی کھدائی کی نگرانی فرماتے تھے۔

اسی مقام پر دورانِ خندق نبی کریم ﷺ کی دعاؤں اور معجزات کے متعدد ایمان افروز واقعات بھی رونما ہوئے، جس کی یاد میں بعد میں یہاں مسجد تعمیر کی گئی۔یہ مساجد دینِ حق کی بقا، اطاعتِ رسول ﷺ اور صحابہ کرام کے بے مثال ایثار و فا کے وہ جیتے جاگتے مینار ہیں جو آج بھی زائرین کے دلوں کو نورِ ایمانی سے منور کرتے ہیں۔ (جاری ہے) مزید تاریخی مقامات جاننے کے لئئے پیچ کو فالو کیجئے اور ثواب کی نیت سے اگے شیئر کیجئے