Skip to content

ایثار و استقامت، شجاعت اور مہر ووفا کا کوہِ گراں ۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

ایثار و استقامت، شجاعت اور مہر ووفا کا کوہِ گراں ۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

وہ وادیٔ چترال کے ایک معزز اور نامور گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ ریاستِ چترال کا عہد اپنے اختتام کو چھو رہا تھا جب ان کی جوانی کے نقوش ابھر رہے تھے۔ بلا کا ذہن اور فطری ذہانت سے مالامال ہونے کے باوجود وہ اپنے خانوادے کے دیگر افراد کے برعکس رسمی تعلیم سے محروم رہے جس پر وہ اکثر بڑی شگفتگی سے فرمایا کرتے کہ ”تعلیم کے راستے میں میری سب سے بڑی رکاوٹ شکار کا بے پناہ شوق بنا۔“

وہ محض شوقین ہی نہیں بلکہ ایک بے مثل اور یکتا نشانہ باز تھے۔ ایئر گن سے دسیوں میٹر کے فاصلے پر رکھی ماچس کی تیلی کو بے خطا نشانہ بنانا ان کے کمالِ فن کا ادنیٰ ثبوت تھا۔ نشانہ بازی کا عالم یہ تھا کہ گویا پرندے خود کھنچے چلے آتے اور ان کی بندوق کی زد میں آ بیٹھتے۔ ان کا دسترخوان ہمیشہ مہمانوں کے لیے کشادہ رہتا اور گھر میں شکار کے لذیذ گوشت سے مہمان نوازی ایک مستقل روایت تھی۔ عالی نسب ہونے کے باعث ان کا آستانہ مرجعِ خلائق تھا۔ گفتگو کا دلنشیں و مسحور کن انداز، شستہ و ادیبانہ الفاظ کا برمحل چناؤ اور بذلہ سنجی و زندہ دلی ان کی طبیعت کا خاصا تھیں—جو ایک بار ملتا، عمر بھر کے لیے ان کے اخلاق کا اسیر ہو جاتا۔

عہدِ شباب میں روایتی رسمِ روزگار کے تحت انہوں نے کراچی کا رخ کیا۔ وہاں ایک طویل عرصہ قیام رہا اور بلوچستان کے مقتدر جمالی قبیلے کے سرداروں کے ساتھ قریبی مراسم اور رفاقت کا ایک خوبصورت دور گزرا۔ جب اپنے آبائی وطن چترال لوٹے تو اسی تعلق کی یادگار کے طور پر ”جمالی“ کو اپنے نام کا جزو لاینفک بنا لیا؛ یوں وہ نادر حسین جمالی کے نام سے متعارف ہوئے اور اہلِ قصبہ انہیں آج بھی انتہائی محبت و احترام کے ساتھ ”جمالی میکی“ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے لب و لہجے میں ترشی یا کڑواہٹ کا شائبہ تک نہ تھا، ہمیشہ چشمِ مروت اور دلِ کشادہ کے ساتھ لوگوں سے پیش آئے۔

ایامِ رفتہ میں سرزمینِ حرمین شریفین میں مقیم رہے، جہاں عربی زبان و بیان پر عبور حاصل کیا اور پروردگار نے فریضۂ حج کی توفیق سے سرفراز فرمایا۔ اس طرح نام کے ساتھ “حاجی” کے بابرکت لاحقے کا اضافہ ہوا اور وہ حاجی نادر حسین جمالی کے روپ میں واپس تشریف لائے۔

خدمتِ خلق کا بے لوث جذبہ ان کے رگ و پے میں سمایا ہوا تھا۔ ایک بار جب وادی میں قیامت خیز برفباری ہوئی اور معلوم ہوا کہ برفانی طوفان نے بستی کے کئی مکینوں کو گھروں کے اندر محصور و مدفون کر دیا ہے، تو یہ باہمت نوجوان بیلچہ اٹھا کر بغیر کسی خوف کے اپنے ساتھیوں سمیت مظلوموں کی جان بچانے نکل کھڑا ہوا۔ ایک مکان کے دروازے سے منوں وزنی برف ہٹانے میں مصروف ہی تھے کہ اچانک پہاڑ سے ایک برفانی تودہ ان پر آن گرا اور وہ برف کے بے رحم ملبے تلے دب گئے۔ جب ایک طویل جدوجہد کے بعد انہیں ملبے سے نکالا گیا تو وہ معجزاتی طور پر زندہ و سلامت تھے اور زبان پر ربِ کائنات کی شکر گزاری جاری تھی۔ تاہم، ہسپتال پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اس حادثے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہو چکی تھی، جس نے ان کی شاداب اور متحرک جوانی کو تاحیات بستر کی معذوری میں بدل دیا۔

زندگی کا ایک طویل حصہ بستر پر گزرا، مگر استقامت اور شکر گزاری کا یہ عالم تھا کہ کبھی شکوہِ تقدیر زبان پر نہ لائے۔ معذوری ان کے جینے کی امنگ اور چہرے کے تبسم کو نہ چھین سکی۔ بستر پر لیٹے لیٹے بھی ہر آنے والے کا استقبال کھلے دل اور پُرتپاک مسکراہٹ سے کرتے۔ ان کا بستر غمزدہ دلوں کے لیے سکون کا مرکز بن چکا تھا؛ علاقے کا جو شخص بھی رنج و الم کا بوجھ لیے ان کی دہلیز پر قدم رکھتا، ان کے شیریں لہجے اور ڈھارس بندھاتے الفاظ کی بدولت اپنے سارے دکھ بھول کر ہشاش بشاش لوٹتا۔ وسیع خاندانی تعلقات اور ان کے مقناطیسی اخلاق کی وجہ سے ان کے ہاں ملاقاتیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔

کسی بھی عظیم انسان کی اصل میراث اس کی تربیت یافتہ صالح اولاد ہوا کرتی ہے، اور جمالی صاحب مرحوم اس اعتبار سے بھی بے حد خوش بخت اور غنی واقع ہوئے تھے۔ قدرت نے انہیں ایسی باوقار، ملنسار، شریف النفس اور روشن ضمیر اولاد سے نوازا ہے جو اپنے والدِ گرامی کی اعلیٰ اقدار، روایات اور اخلاقِ حسنہ کا جیتا جاگتا نمونہ ہے۔

ان کے فرزندان نہ صرف معاشرے میں اپنی شرافت، دیانت اور حسنِ سلوک کے باعث عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، بلکہ اپنے والد کے ایثار، جود و سخا اور خدمتِ خلق کے مشن کو بھی پورے وقار کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے خاندانی نام اور وقار کو چار چاند لگائے ہیں، اور ان کا بااخلاق اور مخلصانہ رویہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جمالی صاحب کا فیضانِ تربیت آج بھی ان کے گھرانے میں پوری تابانی کے ساتھ زندہ ہے۔

خدمت، ایثار اور صبر و شکر کا یہ درخشاں پیکر بالاخر اپنے رب کا شاکر و صابر بندہ بن کرجنوری 2021 ء میں خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جمالی صاحب مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ علیین اور کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، ان کی بشری لغزشوں کو درگزر فرما کر درجات بلند فرمائیں،ان کے مرقد کو نور سے بھر دے اور ان کے فیوض وبرکات کو تا قیامت جاری و ساری رکھیں اور ان کی لائق و فخر اولاد کو ہمیشہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انسانیت اور خدمتِ خلق کی اس مشعل کو فروزاں رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین