مکہ مکرمہ کے تاریخی مشاہدات اور مقدس زیارات: ایک ایمان افروز سفر کا تذکرہ (قسط6) ۔۔۔تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
مکہ مکرمہ کی سرزمین صرف وحی الہی کا مسکن ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اسلام کے عہدِ زریں کی عظیم داستانوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ ذیل میں ان مقامات کا عقیدت کے ساتھ تاریخی تذکرہ پیشِ خدمت ہے جو زائرینِ حرم کے لیے بصیرت اور عقیدت کا باعث ہیں۔
37۔ شہدائے غزوہ حنین کا مسکنِ ابدی
مکہ مکرمہ سے طائف کی جانب جاتے ہوئے جعرانہ کے مقام پر، مسجدِ جعرانہ کے عین مقابل وہ خاموش بستی آباد ہے جسے “قبرستانِ شہدائے حنین” کہا جاتا ہے۔ سن 8 ہجری میں جب وادیِ حنین حق و باطل کے معرکے سے گونج اٹھی، تو اس کارزارِ شوق میں جن نفوسِ قدسیہ نے جامِ شہادت نوش کیا، انہیں اسی خاکِ پاک کا پیوند بنا دیا گیا۔ چونکہ یہ معرکہ مکہ کے مضافات میں بپا ہوا تھا، اس لیے ان کی تدفین کے لیے اسی قرب و جوار کا انتخاب کیا گیا۔ روایات کے مطابق اس غزوے میں صحابہ کرام کی ایک مختصر مگر جلیل القدر جماعت نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جن میں حضرت ایمن بن ام ایمن اور حضرت یزید بن زمعہ بن الاسود (رضی اللہ عنہم) جیسے جاں نثار شامل ہیں۔ یہ قبرستان ان سرفروشوں کی یادگار ہے جنہوں نے فتحِ مکہ کے بعد اسلام کے استحکام کے لیے اپنا لہو پیش کیا۔
38۔ مسجد الفتح: فتحِ مبین کا سنگِ میل
جموم کے پرسکون علاقے میں واقع یہ مسجد تاریخِ سیرت کا ایک روشن باب ہے۔ قدیم کتبِ حدیث میں اس خطے کو “مرالظہران” کے نام سے پکارا گیا ہے، جو مکہ سے شمال مغرب کی جانب تقریباً 25 سے 30 کلومیٹر کی دوری پر واقع ایک شاداب وادی ہے۔یہ وہی مقام ہے جہاں محسنِ انسانیت ﷺ نے 10,000 جاں نثار قدسی صفات صحابہ کے ہمراہ خیمہ زن ہو کر فتحِ مکہ کا نقشہ ترتیب دیا تھا۔ یہاں لشکرِ اسلام کا پڑاؤ قریشِ مکہ کے لیے ایک فیصلہ کن نفسیاتی دباؤ ثابت ہوا۔ یہی وہ مقامِ خیر ہے جہاں مکہ کے سردار حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے، اور یوں مکہ میں داخلے سے قبل ہی فتحِ مبین کی نوید مل گئی۔ آج یہ علاقہ “وادیِ فاطمہ” کے نام سے اپنی ہریالی اور زرخیزی کے باعث معروف ہے۔
39۔ مزارِ مبارک ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث (رضی اللہ عنہا)
مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کی حدود میں داخل ہوتے ہوئے، جب مسافر مکہ مکرمہ کے چیک پوائنٹ سے گزرتا ہے، تو شاہراہ کے دائیں جانب ایک سادہ مگر پرنور مزار نظر آتا ہے۔ یہ کائنات کی عظیم خاتون، رسولِ کریم ﷺ کی آخری زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی آرام گاہ ہے۔
آپ ﷺ نے ان سے نکاح عمرۃ القضاء کے موقع پر فرمایا، اور یہ آپ ﷺ کا آخری نکاح تھا۔ آپ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ بھی تھیں۔
یہ تاریخ کا ایک عجیب اتفاق ہے کہ جس مقام (سرف) پر آپ کا نکاح ہوا، وہیں آپ کا وصال ہوا اور وہیں مدفن بنا۔ ازواجِ مطہرات میں صرف حضرت خدیجہ الکبریٰ (جنت المعلیٰ) اور حضرت میمونہ (سرف) مکہ کی زمین میں آسودہ خاک ہیں، جبکہ باقی تمام مخدوماتِ عالم مدینہ منورہ کے قبرستانِ بقیع میں محوِ استراحت ہیں۔
40۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما): مینارِ اتباعِ سنت
مکہ کی زیارات میں ایک درخشندہ نام امام المتقین حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہے، جن کا مزارِ مبارک زائرین کے لیے مرجعِ خلائق ہے۔ آپ کی شخصیت صحابہ کرام میں “اتباعِ سنت” کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ آپ ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کا ایسا والہانہ جذبہ آپ کی پہچان تھا کہ تاریخِ اسلام آپ کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ علمِ حدیث کے میدان میں آپ کا مقام اس قدر بلند ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے زیادہ روایات آپ ہی کے واسطے سے امت تک پہنچیں۔
41۔ معرض عمارۃ الحرمین الشریفین: تاریخ کا آئینہ خانہ
ام الجود کے علاقے میں واقع یہ عجائب گھر (میوزیم) حرمین شریفین کی چودہ سو سالہ تعمیراتی تاریخ کا امین ہے۔ یہ صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ فنِ تعمیر کے ارتقاء اور اسلامی ندرت کی ایک بولتی ہوئی داستان ہے۔
یہاں بیت اللہ کے قدیم لکڑی کے ستون، مسجد الحرام کے تاریخی دروازے، اور قرونِ اولیٰ کے وہ نقش و نگار محفوظ ہیں جو صدیوں تک زائرین کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے رہے۔ میوزیم کے سات ہالوں میں پھیلی اس نمائش میں سب سے زیادہ پرکشش شے “مصحفِ عثمانی” ہے، یعنی وہ نسخۂ قرآن جو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہدِ مبارک میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یہاں آبِ زمزم کے کنویں سے پانی نکالنے والے قدیم آلات و بالٹیاں بھی ماضی کی یاد دلاتی ہیں۔
42 کنگ عبدالعزیز کمپلیکس: غلافِ کعبہ کی تیاری کا مرکز
میوزیم کے قرب و جوار میں ہی وہ مبارک فیکٹری واقع ہے جہاں کعبہ کا غلاف یعنی “کسوہ” تیار کیا جاتا ہے۔ 1397ھ سے قائم یہ ادارہ جدید ٹیکنالوجی اور قدیم فنِ کڑھائی کا شاہکار ہے۔
یہاں اطالوی ریشم اور خالص سونے و چاندی کے تاروں سے قرآنی آیات کی خطاطی کی جاتی ہے۔ اگر آپ اس بابرکت مقام کی زیارت کرنا چاہیں، تو “نسک” (Nusuk) ایپ کے ذریعے پیشگی اجازت نامہ حاصل کر سکتے ہیں۔ خوش نصیب زائرین کو یہاں غلافِ کعبہ پر اپنے ہاتھوں سے ٹانکا لگانے کی سعادت بھی نصیب ہوتی ہے، جو بلاشبہ زندگی کا سب سے یادگار اور بابرکت لمحہ ثابت ہوتا ہے۔
امید ہے کہ یہ مکہ مکرمہ کی زیارات پر مبنی تحریر آپ کے ذوق کے مطابق ہوگا اور ان مقامات کی اہمیت کو قارئین کے دلوں میں راسخ کرے گا۔ پسند آئے تو لائک ،شیئر اور کومنٹ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں پیچ کو لازمی فالو کیجئے(جاری ہے)
