مکہ مکرمہ کی مقدس زیارات: ایمان و تاریخ کے درخشاں باب(قسط5) ۔۔۔۔تحریر حافظ نصیراللہ منصور چترالی
سرزمینِ حجاز کا ہر ذرہ تاریخِ اسلام کے کسی نہ کسی عظیم واقعے کا مظہر ہے۔ مکہ مکرمہ اور اس کے گرد و نواح میں پھیلی یہ نشانیاں محض عمارتیں یا مقامات نہیں، بلکہ اس عہدِ زریں کی گواہ ہیں جب حق و باطل کا معرکہ برپا تھا اور اسلام کی شمع دنیا کو روشن کرنے کے لیے تیار ہو رہی تھی۔
29 مسجد البیعہ: ریاستِ مدینہ کا سنگِ بنیاد
وادیِ منیٰ میں جبلِ عقبہ کے دامن میں واقع یہ سادہ سی مسجد اپنی تاریخ میں ایک جہانِ نو کی بشارت لیے ہوئے ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں نبوت کے بارہویں اور تیرہویں سال یثرب سے آئے ہوئے انصارِ مدینہ نے رسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پر وہ عہد کیا جس نے ہجرتِ مدینہ کی راہ ہموار کی۔
بیعتِ عقبہ اولیٰ (12 نبوی): 12 خوش نصیبوں نے شرک، چوری اور بدکاری سے بچنے کا عہد کر کے اسلامی اخلاقیات کی بنیاد رکھی۔ اسی کے بعد حضرت مصعب بن عمیرؓ کو معلم بنا کر مدینہ بھیجا گیا۔
بیعتِ عقبہ ثانیہ (13 نبوی): اگلے برس 73 مردوں اور 2 خواتین نے آپ ﷺ کی حفاظت اور پناہ کا وہ تاریخی بیعت نامہ مرتب کیا جس نے صدیوں کی قبائلی دشمنی کو ختم کر کے مدینہ کو “اسلامی ریاست” کا دارالخلافہ بنانے کی بنیاد رکھی۔
30 مسجد الخیف: انبیاء کی سجدہ گاہ
منیٰ کے میدان میں جبلِ صائف کے نیچے واقع “مسجد الخیف” وہ عظیم المرتبت مقام ہے جس کے بارے میں روایاتِ مبارکہ بتاتی ہیں کہ یہاں حضور ﷺ سمیت ستر انبیاء کرام نے نماز ادا فرمائی، جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی شامل ہیں۔
عرب میں “خیف” پہاڑ کے دامن کو کہتے ہیں۔ روایات یہاں تک کہتی ہیں کہ یہاں ستر انبیاء کرام کے مدفن بھی موجود ہیں۔ اس مسجد کی روحانیت کا یہ عالم ہے کہ اسے دعاؤں کی قبولیت کا خاص مقام مانا جاتا ہے۔ امام مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ اگر حج کے دوران ممکن ہو تو یہاں ایک نماز بھی قضا نہ کی جائے، کیونکہ یہاں قدم قدم پر انبیاء کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔
31 نہرِ زبیدہ: خدمتِ خلق کا عظیم شاہکار
تاریخِ اسلام میں ملکہ زبیدہ (اہلیہ ہارون الرشید) کا نام ایک ایسے عظیم الشان رفاہی منصوبے سے جڑا ہے جس نے بارہ سو سال تک حجاجِ کرام کو سیراب کیا۔ طائف کی وادیِ نعمان سے مکہ، عرفات، مزدلفہ اور منیٰ تک پھیلی یہ نہر اس دور کی انجینئرنگ کا وہ شہکار ہے جس پر آج کی عقل بھی دنگ رہ جاتی ہے۔
پہاڑوں کے پیچ و خم اور اونچے نیچے راستوں کے باوجود پانی کا لیول برقرار رکھنا اور جبلِ رحمت پر بنی سبیل تک پانی کا خود بخود پہنچنا ملکہ زبیدہ کے اخلاص اور اس دور کے معماروں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگرچہ 1950 کے بعد زیرِ زمین پانی کی سطح گرنے سے یہ خشک ہوگئی، مگر اس کے آثار آج بھی اس عظیم خدمت کی داستان سناتے ہیں۔
32 وادیِ محصر: عبرت کا مقام
مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان واقع یہ چھوٹی سی وادی تاریخِ انسانی کے ایک بڑے معجزے کی گواہ ہے۔ یہاں ابرہہ کا وہ ساٹھ ہزار کا لشکر تباہ ہوا جو خانہ کعبہ کو ڈھانے کے ناپاک عزائم لے کر آیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں کے ذریعے ننھے کنکر برسوا کر ہاتھیوں والے اس مغرور لشکر کو “چبائے ہوئے بھوسے” (عصفِ ماکول) کی طرح کر دیا۔ بعض مورخین کے نزدیک یہ واقعہ وادیِ مغمس میں پیش آیا، تاہم وادیِ محصر کو عذاب کی جگہ ہونے کی وجہ سے “مقامِ عبرت” مانا جاتا ہے، جہاں سے حضور ﷺ نے تیزی سے گزرنے کی ہدایت فرمائی تھی۔
33 مسجدِ عائشہؓ (تنعیم): میقاتِ اہل مکہ
مسجدِ حرام سے شمال مغرب میں ساڑھے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ مسجد مکہ کے مکینوں اور زائرین کے لیے احرام کا اہم ترین مرکز ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر جب حضرت عائشہ صدیقہؓ کو عمرہ کی خواہش ہوئی تو آپ ﷺ کے حکم پر اسی تنعیم کے مقام سے انہوں نے احرام باندھا تھا۔ آج یہ ایک وسیع و عریض مسجد کی شکل میں موجود ہے جہاں زائرین اپنے عمرے کی نیت کی تجدید کے لیے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔
34 مسجد و بیرِ جعرانہ: برکتوں کا چشمہ
طائف روڈ پر مکہ سے تقریباً 26 کلومیٹر دور “جعرانہ” وہ مقام ہے جہاں غزوہ حنین کے بعد حضور ﷺ نے قیام فرمایا اور اموالِ غنیمت تقسیم فرمائے۔
مسجد جعرانہ: یہاں سے آپ ﷺ نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اسی لیے یہاں سے احرام باندھنے کی فضیلت بہت زیادہ بیان کی جاتی ہے۔
35 بیرِ جعرانہ: اس مسجد کے بائیں جانب وہ تاریخی کنواں ہے جس کے میٹھے پانی سے حضور ﷺ نے غسلِ احرام فرمایا تھا۔ یہ کنواں آج بھی اس دورِ مسعود کی یاد دلاتا ہے اور زائرین اس کے پانی کو تبرکاً پیتے ہیں۔
حاصلِ کلام:
مکہ مکرمہ کے یہ مقامات محض جغرافیائی حدود نہیں، بلکہ یہ وہ آئینے ہیں جن میں ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیاں، انبیاء کی عبادتیں اور اللہ کی قدرت کے نشانات نظر آتے ہیں۔ ان مقامات کی زیارت ایمان کو تازگی اور روح کو بالیدگی عطا کرتی ہے۔ معزز قارئیں ۔۔ تحریر پسند آئے تو پیچ کو فالو کیجئے لائک اور دوسر ے مسلمانوں کےایمان کو تازکی بخشنے کے لئے ثواب کی نیت سے شیئر کیجئے جزاکم اللہ(جاری ہے)
