Skip to content

انوارِ مدینہ: تاریخی مقامات، متبرک کنویں اور یادگارِ مصطفیٰ ﷺ (قسطِ اول) تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

انوارِ مدینہ: تاریخی مقامات، متبرک کنویں اور یادگارِ مصطفیٰ ﷺ (قسطِ اول)………..تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

معزز و محترم ناظرینِ کرام آج ہم دلوں میں عقیدت کے چراغ جلائے، مدینہ منورہ کے ان عظیم الشان اور تاریخی مقامات کی روحانی زیارت کے لیے رختِ سفر باندھ رہے ہیں، جن کے ذرے ذرے کے ساتھ ہمارے پیارے نبی، احمدِ مجتبیٰ، محمدِ مصطفیٰ ﷺ کی لازوال اور مقدس یادیں وابستہ ہیں۔ مدینہ منورہ کی یہ بستی ہمارے لیے محض ایک شہر نہیں، بلکہ ان گنت خوشیوں، بے پناہ محبتوں اور لازوال عقیدتوں کا وہ مرکزِ تجلی ہے جہاں پہنچ کر روح کو قرار ملتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ سب کو اپنے حبیب پاک ﷺ کے اس دیس کی بار بار باادب زیارت نصیب فرمائے (آمین)۔ یہ وہ بابرکت اور تاریخی مقامات ہیں کہ اگر زندگی میں کبھی آپ کو مدینہ منورہ کی حاضری کا شرف حاصل ہو، تو آپ خود بھی انتہائی آسانی اور سہولت کے ساتھ وہاں جا کر اپنی آنکھوں کو نور اور دل کو سرور بخش سکتے ہیں۔

یہ ایک قسط وار معلوماتی اور ایمانی تحریر ہے، اس کا مکمل مطالعہ فرمائیے تاکہ تاریخِ اسلام کے ان روشن ابواب سے آپ کا دل منور ہو سکے۔ جن ایمان افروز مقامات کے بارے میں مَیں آپ کو بتانے والا ہوں، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ اس روحانی سفر میں مدینہ منورہ کے 10 تاریخی کنویں، 30 مقدس مساجد اور 20 دیگر جلیل القدر مقامات شامل ہوں گے۔

آئیے! ہم اپنے اس سفرِ عشق کا آغاز مدینہ منورہ کے ان تاریخی اور متبرک کنووں سے کرتے ہیں، جن کا شیریں پانی اہلِ ایمان کے لیے ‘آبِ شفا’ بھی ہے اور ربِ کریم کی لازوال برکتوں کا ابدی ذریعہ بھی۔

۱۔ بئرِ حاء: دیارِ نبی ﷺ کا سب سے بابرکت اور محبوب کنواں

یہ وہ عظیم کنواں ہے جو اس وقت مسجدِ نبوی شریف کے گیٹ نمبر 21 اور 22 کے اندرونی مصلّے (سائیڈ) کی طرف موجود ہے۔ بئرِ حاء مدینہ طیبہ کے ان 7 مشہور اور متبرک کنووں میں شمار ہوتا ہے جنہیں تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اگر آپ مسجدِ نبوی شریف میں ‘بابِ فہد’ سے داخل ہوں تو بائیں جانب ستون (پلر) کے ساتھ ہی اس مقامِ مقدس کی زیارت کی جا سکتی تھی۔ تاہم، مسجدِ نبوی شریف کی حالیہ وسیع و عریض توسیع (ایکسٹینشن) کی وجہ سے اب یہ تاریخی کنواں قالینوں کے نیچے آ چکا ہے، مگر اس کی خوشبو آج بھی وہاں رچی بسی ہوئی ہے۔

تاریخی پس منظر کے لحاظ سے یہ کنواں جلیل القدر صحابی حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس خوبصورت باغ کا حصہ تھا، جو انہوں نے قرآنِ پاک کی اس روح پرور آیت کے نازل ہونے کے بعد فوراً اللہ کی راہ میں وقف کر دیا تھا جس میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

“تم نیکی کے کمال اور سچی فضیلت کو اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے، جب تک اپنی سب سے محبوب اور پسندیدہ چیز اللہ کے راستے میں صدقہ اور قربان نہ کر دو۔”(لن تنالو البر حتی تنفقو مما تحبون)

احادیثِ مبارکہ اور معتبر روایات میں آتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کو اس کنویں کا عذْب (میٹھا اور ٹھنڈا) پانی بے حد مرغوب اور پسند تھا۔ حضورِ اکرم ﷺ اکثر دوپہر کے وقت قیلولہ اور آرام فرمانے کے لیے اسی باغ میں تشریف لاتے تھے اور اس کنویں کا مبارک پانی نوش فرمایا کرتے تھے۔ پس یہ وہ تاریخی اور سحر انگیز جگہ ہے جو اب مسجدِ نبوی شریف کے اندرونی صحن کا حصہ بن کر ابدی سعادت پا چکی ہے۔

۲۔ بئرِ عثمان: سخاوتِ عثمانی کا ابدی شاہکار اور چشمۂ فیض

مدینہ منورہ کا دوسرا تاریخی کنواں ‘بئرِ عثمان’ ہے، جسے تاریخ کے صفحات میں ‘بئرِ روما’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

بئر عثمان رضی اللہ عنہ مسجد نبوی شریف سے تقریبا 4، 5 کلو میٹر اور مسجد قبلتین سے تقریبا 1 کلو میٹر کے فاصلے پر ازہری محلہ میں وادی عقیق کے کنارے واقع ہے ۔جب نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو میٹھے پانی کا یہ کنواں ایک یہودی کی ملیکت تھا جو لوگوں کو پینے کا پانی قیمتا مہنگا دیتا تھا ۔ نبی خاتم ﷺ نے فرمایا: جو شحص مسلمانوں کے لیئے بئررومہ خریدے گا اسے جنت میں اس سے بہتر انعام ملے گا۔یہ وہ تاریخی کنواں ہے جسے پیکرِ شرم و حیا، امیر المؤمنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک یہودی سے 20 ہزار درہم کی خطیر رقم کے عوض خریدا تھا اور خریدنے کے فوراً بعد اسے قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے بلا معاوضہ وقف فرما دیا تھا، تاکہ جو بھی پیاسا یہاں سے پانی لینا چاہے، وہ بلا روک ٹوک اپنی پیاس بجھا سکے۔اس کنویں کو خرید کر تشنہ لب مسلمانوں کے لیے وقف کرنے کے صلے میں کائنات کے تاجدار، نبیِ رحمت ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دنیا ہی میں ‘جنت کی ابدی بشارت’ سے سرفراز فرما دیا تھا۔ یہ مدینہ منورہ کے ان مایہ ناز اور تاریخی کنووں میں سے ہے جو گزشتہ 1400 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے اور انسانوں کو سیراب کر رہا ہے۔ یعنی صحیح معنوں میں یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ایک ایسا ‘صدقۂ جاریہ’ ہے جو وقت کی دھول سے بے نیاز، ان کی عظیم اور بے مثال سخاوت کا منہ بولتا ثبوت بن کر رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔

ناظرین کرام اسی طرح مدینہ منورہ کے باون تاریخی مقامات کی آپ کو زیارت کروانے کی کوشش کرینگے تحریر پسند آئے تو لائک شیئر کرکے کومنٹ سیکشن میں اپنی رائے سے اگاہ کئجئے پیچ کو فالو کرنا مت بھولئے(جاری ہے)