Skip to content

انوارِ مدینہ کے امین: بستانُ المستظل، بئرِ عذق اور بئرِ خاتم کی تاریخی و ایمان افروز داستان۔۔۔ تحریر ۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

انوارِ مدینہ کے امین: بستانُ المستظل، بئرِ عذق اور بئرِ خاتم کی تاریخی و ایمانی داستان ۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
سیرتِ پاک کا ہر ورق اپنے اندر عقیدت و محبت کا ایک بحرِ بے کنار رکھتا ہے، اور جب ذکرِ حبیب ﷺ مدینہ منورہ کی شاداب وادیوں، کھجور کے جھرمٹوں اور ان کے درمیان بہتے شیریں چشموں کا ہو، تو روح وجد میں آ جاتی ہے۔ مدینہ پاک کی تاریخی سرزمین پر، مسجدِ قباء کے قرب و جوار میں واقع دو ایسے ہی مقامات ہیں جن کا ذکر کتبِ سیر و تواریخ میں سنہرے حروف سے کیا گیا ہے۔ ایک وہ مقام جہاں سے خلافت اور ہجرتِ مدینہ کے استقبال کی سحر طلوع ہوئی (بستانِ مستظل و بئرِ عذق)، اور دوسرا وہ مقام جہاں نبوت کی مہر گم ہوئی اور تاریخِ اسلام نے ایک گہرا موڑ لیا (بئرِ خاتم)۔

3 بستانُ المستظل اور بئرِ عذق: ہجرتِ پاک کا پہلا پڑاؤ اور مہر و وفا کا گلستاں
مدینہ منورہ میں مسجدِ قباء کے مشرقی جانب واقع ”بستانُ المستظل” (سایہ دار باغ) اور اس کے قلب میں جاری تاریخی کنواں ”بئرِ عذق”، تاریخِ اسلام کے اس درخشاں اور بے مثل منظر کے گواہ ہیں جب مکہ کی وادیوں سے اٹھنے والا آفتابِ رسالت ﷺ یثرب کی تقدیر بدلنے پہنچا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انصارِ مدینہ کی بے قرار آنکھوں کو اپنے محبوب ﷺ کا پہلا دیدار نصیب ہوا اور ہجرتِ مدینہ کا سفرِ شوق اپنے پہلے پڑاؤ کو پہنچا۔
شوقِ دید کا یہ عالم تھا کہ جب مدینہ منورہ میں رسولِ کائنات ﷺ کی مکہ سے روانگی کی خبریں پہنچیں، تو انصارِ مدینہ کا جذبہ عشق بپھر گیا۔ تاریخِ اسلام کے مستند مصادر بتاتے ہیں کہ انصار کا یہ معمول بن چکا تھا کہ وہ روزانہ صبح سویرے اپنے گھروں سے نکلتے اور مدینہ کے بیرونی مضافات میں جمع ہو کر مکہ کی سمت نگاہیں جما دیتے۔ وہ اس وقت تک تپتی ہوئی ریت اور کڑی دھوپ میں کھڑے انتظار کرتے، جب تک دوپہر کے سورج کی تمازت اور لو انہیں واپس لوٹنے پر مجبور نہ کر دیتی۔ایک روز، جب انتظار کی گھڑیاں طویل ہوئیں اور سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمکنے لگا، تو انصارِ مدینہ حسبِ معمول مایوس ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ عین اسی وقت، ایک یہودی شخص اپنے اونچے مکان یا قلعے (جسے عربی میں ‘آطم’ کہا جاتا ہے) پر کسی کام سے چڑھا۔ اس کی نظر دور افق پر پڑی جہاں تپتی ہوئی ریت کے سراب کو چیرتے ہوئے دو مسافر سفید لباس میں ملبوس، اونٹنیوں پر سوار مدینہ کی طرف بڑھ رہے تھے۔ یہودی نے فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی ہستی ہے جس کا مدینہ کو انتظار ہے۔ اس نے پوری قوت سے آواز لگائی اور بلند آواز میں پکارا:
”یا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ! ہَذَا جَدُّکُمُ الَّذِی تَنْتَظِرُونَہُ”
(اے انصار کی جماعت! لو، تمہارا وہ مطلوب و مقصود آ پہنچا جس کا تم روزانہ انتظار کرتے تھے!)
یہ آواز سننی تھی کہ مدینہ کی گلیوں میں ایک ہلچل مچ گئی۔ انصارِ مدینہ اپنے ہتھیار سنبھالے، دلوں میں محبت کے چراغ جلائے، استقبال کے لیے دیوانہ وار ”ظَہر الحَرّۃ” (مدینہ کا بیرونی پتھریلا علاقہ) کی طرف دوڑ پڑے۔
”مستظل” اور ”عذق” کی روح پرور وجہِ تسمیہ اس طرح ہے کہ عقیدت مندوں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کو پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ ”بستانِ مستظل” کے اندر لے آیا، جہاں ”بئرِ عذق” کا کنواں موجود تھا۔بستانِ مستظل (سایہ پانے کا باغ): عربی زبان میں ‘مستظل’ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں سایہ حاصل کیا جائے۔ جب نبی کریم ﷺ اس باغ میں تشریف فرما ہوئے، تو کھجور کے درختوں کے باوجود دھوپ کی تمازت آپ کے رخِ انور کو چھونے لگی۔ یہ دیکھ کر سفر کے رفیقِ خاص، یارِ غارِ نبوت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے۔ انہوں نے فوراً اپنی چادر مبارک تانی اور اللہ کے رسول ﷺ کے سرِ انور پر سایہ کر دیا۔ یہ منظر اتنا دلنشین اور تاریخی تھا کہ مدینہ کے وہ لوگ جو ابھی تک رسول اللہ ﷺ کو شکل و شباہت سے نہیں پہچانتے تھے (کیونکہ وہ پہلی بار زیارت کر رہے تھے)، وہ جان گئے کہ اللہ کے رسول کون ہیں اور ان کا خادمِ خاص کون ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اسی مہر و وفا کے سائے کی نسبت سے اس پورے باغ کا نام تاریخ میں ”بستانُ المستظل” محفوظ ہو گیا۔
بئرِ عذق (پھوٹ کرنکلنے والے پانی کا چشمہ): لفظ ‘عذق’ کے لغوی معنی عربی میں ‘پھوٹ کر نکلنے’ یا ‘کھجور کے خوشے’ کے ہیں۔ چونکہ اس کنویں کی بناوٹ ایسی تھی کہ اس کی تلو چھٹ سے پانی بڑی کثرت، روانی اور جوش کے ساتھ پھوٹ پھوٹ کر ابھرتا تھا، اس لیے اہلِ مدینہ نے اسے ”بئرِ عذق” کا نام دیا۔ سیدِ دو عالم ﷺ نے اس کنویں کا ٹھنڈا اور شیریں پانی نوش فرمایا، اس سے وضو کا شرف حاصل کیا، اور اس شاداب باغ کے گھنے درختوں کے سائے تلے آرامِ جاں فرمایا۔ یہ کنواں انصار کی مہمان نوازی اور اسلام کی نئی سحر کا پہلا گواہ بنا۔

4 بئرِ خاتم (بئر ارِیس): عظمتِ رسالت، مہرِ نبوت کے کھوئے جانے کی جگہ اور فتنوں کی پیشگوئی ۔۔۔ بئر خاتم (جسے بئر اریس بھی کہا جاتا ہے) مدینہ منورہ، میں مسجد قبا سے محض 32 میٹر کی دوری پر مغرب کی جانب
مسجدِ قباء کے بیرونی صحن میں واقع یہ کنواں تاریخِ اسلام کے چند مظلوم ترین مگر اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ اسے تاریخ کی کتابوں میں ”بئرِ خاتم” (انگوٹھی والا کنواں) یا ”بئرِ اَرِیس” کہا جاتا ہے۔ یہ مقام جہاں ایک طرف عظمتِ نبوت اور راز دارِ رسول صحابہ کی بیٹھک تھا، وہیں دوسری طرف یہ خلافتِ راشدہ پر آنے والے ایک عظیم المیے کا نقطہ آغاز بھی ثابت ہوا۔ بئرِارِیس کی وجہِ تسمیہ اس طرح ہے کہ اس کنویں کا اصل تاریخی نام ”بئرِ اَرِیس” ہے۔ ارِیس’ دراصل مدینہ کے ایک فلاح یا یہودی کا نام تھا جس نے اس کنویں کی کھدائی کی تھی اور اس کا مالک تھا۔ مدینہ کے دیگر کنووں کی طرح اس کا پانی بھی نہایت مصفا اور میٹھا تھا، اسی لیے رسول اللہ ﷺ اکثر یہاں تشریف لاتے اور اس کے پانی سے محظوظ ہوتے۔ مہرِ مبارک کا کنویں میں گرنا اور ”بئرِ خاتم” بننا بھی ایک تاریخ واقعہ ہے اس کنویں کو ”بئرِ خاتم” کا نام دینے کے پیچھے ایک ایسا واقعہ ہے جس نے پوری اسلامی تاریخ کا رخ بدل دیا۔ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک مبارک انگوٹھی تھی جو چاندی کی بنی ہوئی تھی اور اس کے نگینے پر تین سطروں میں ”محمد – رسول – اللہ” کندہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ اپنی حیاتِ مبارکہ میں مختلف ممالک کے بادشاہوں (جیسے قیصر و کسریٰ اور مقوقس) کو لکھے جانے والے دعوتی و سیاسی خطوط کے آخر میں اسی انگوٹھی مبارک سے مہر لگایا کرتے تھے، کیونکہ اس زمانے کے سفارتی آداب میں مہر کے بغیر خط معتبر نہیں سمجھا جاتا تھا۔
حضورِ اکرم ﷺ کے پردہ فرما جانے کے بعد یہ انگوٹھی بطورِ ورثہ اور علامتِ خلافتِ راشدہ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس رہی۔ ان کے بعد فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے زیبِ تن کیا۔ ان کے بعد یہ مہرِ مبارک امیر المؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دستِ مبارک میں آئی۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے چھ سال یہ انگوٹھی ان کے پاس محفوظ رہی۔ پھر ایک دن، خلافت کے چھٹے سال، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسی بئرِ اعرِیس کی منڈیر پر تشریف فرما تھے اور انگوٹھی کو اپنے ہاتھ میں گھما رہے تھے کہ ناگہاں وہ ان کی انگشتِ مبارک سے پھسلی اور کنویں کے گہرے پانیوں میں جا گری۔ اس واقعے سے حضرت عثمان شدید مضطرب ہو گئے۔ تاریخِ اسلام بتاتی ہے کہ اس انگوٹھی کی تلاش میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ کنویں کا تمام پانی مشینوں اور ڈول کے ذریعے باہر نکالا گیا، اس کی مٹی اور گاد کو چھانا گیا، تین دن تک مسلسل جستجو کی گئی، لیکن وہ مہرِ نبوت ایسی غائب ہوئی کہ پھر کبھی کسی کو نہ مل سکی۔
بہت سے مؤرخین اور اہلِ نظر کا ماننا ہے کہ اس انگوٹھی کا گم ہونا خلافتِ راشدہ کے پرامن دور کے خاتمے اور فتنوں کے آغاز کا ایک علامتی اشارہ تھا، کیونکہ اس کے بعد ہی سلطنتِ اسلامیہ میں اندرونی فتنوں نے سر اٹھایا۔
صحیح بخاری کی کتاب الفضائل میں اس کنویں کا ایک انتہائی رقت آمیز اور ایمان افروز واقعہ تفصیل سے مذکور ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ مدینہ کے ایک باغ (بئرِ ارِیس) میں تشریف لائے۔ آپ ﷺ کنویں کی منڈیر کے وسط میں بیٹھ گئے، اپنی چادر مبارک گھٹنوں سے کچھ اوپر اٹھا لی اور پاؤں کنویں کے اندر لٹکا لیے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے سوچا کہ آج میں اللہ کے رسول ﷺ کا دربان بنوں گا اور کسی کو آپ کے سکون میں خلل نہیں ڈالنے دوں گا۔
تھوڑی ہی دیر میں دروازے پر دستک ہوئی۔ دیکھا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی۔ حضرت ابو موسیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔” آپ ﷺ نے فرمایا:
”اِءْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ”
(انہیں اجازت دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو)
حضرت ابوبکر داخل ہوئے اور حضور ﷺ کی دائیں جانب کنویں کی منڈیر پر پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔
کچھ دیر بعد پھر دستک ہوئی۔ اس بار حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت ابو موسیٰ کی عرض پر آپ ﷺ نے پھر وہی الفاظ دہرائے: ”انہیں اجازت دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو۔” حضرت عمر داخل ہوئے اور آپ ﷺ کی بائیں جانب منڈیر پر بیٹھ گئے۔
پھر تیسری بار دستک ہوئی۔ جب معلوم ہوا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے ہیں، تو رسولِ پاک ﷺ نے، جو اب تک آرام دہ حالت میں تشریف فرما تھے، فوراً اپنی چادر مبارک نیچے کر لی، اپنی پنڈلیوں کو ڈھانپ لیا اور سنجیدہ ہو گئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے جب عثمان غنی کے لیے اجازت مانگی، تو آپ ﷺ نے ایک تاریخی اور دردناک جملہ ارشاد فرمایا:
”اِءْذَنْ لَہُ وَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ عَلَی بَلْوَی تَصِیبُہُ”
(انہیں اندر آنے کی اجازت دو اور انہیں جنت کی بشارت دو، لیکن ایک ایسی سخت مصیبت اور آزمائش پر صبر کرنے کے بدلے جو ان پر ٹوٹ پڑے گی!)
جب حضرت عثمان اندر داخل ہوئے، تو چونکہ منڈیر کی وہ سائیڈ جہاں حضور ﷺ اور شیخین بیٹھے تھے، بھر چکی تھی، اس لیے وہ عاجزی کے ساتھ کنویں کی دوسری طرف، آپ ﷺ کے بالکل سامنے والی سمت آ کر بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے حضرت عثمان کی حیا کا پاس رکھتے ہوئے فرمایا تھا کہ: ”میں اس شخص سے کیوں کر حیا نہ کروں جس سے آسمان میں اللہ کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟”نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان دراصل ایک غیبی پیشگوئی تھی، جس میں اس ہولناک فتنے کی طرف واضح اشارہ تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے آخری ایام میں چند باغیوں اور مفسدین کی طرف سے اٹھایا جانا تھا۔ اس مصیبت پر صبر کا صلہ اللہ پاک نے حضرت عثمان کو شہادت کی صورت میں عطا فرمایا، جب انہیں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوئے ان کے اپنے ہی گھر میں پیاسا شہید کر دیا گیا۔

حاصلِ کلام
بستانِ مستظل اور بئرِ عذق جہاں اسلام کی سحرِ نو، انصار کی بے لوث محبت اور خوشی کا استعارہ ہیں، وہیں بئرِ خاتم (بئرِ اریس) عظمتِ عثمان، حیاِ عثمانی اور امت پر آنے والی آزمائشوں کا ایک خاموش مرثیہ ہے۔ مدینہ منورہ کے یہ دونوں کنوئیں اور باغات رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے عقیدت، عبرت، بصیرت اور تاریخِ اسلام کے گہرے فہم کا سرچشمہ رہیں گے۔
موزز قاریئں تحریر پسند آئے تو پیچ کو فالو کیجئے سیئر اور کومنٹ بھی کئجئے