آبارِ مدینہ کی برکتیں: بئر الہُجَیم اور بئرِ غَرْس کی مستند تاریخ…قسط3۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
تاریخِ اسلام کا افق مدینہ منورہ کی ان گنت تابندہ یادوں، معطر گلیوں اور بابرکت مقامات سے روشن ہے۔ ارضِ مدینہ کا ذرہ ذرہ اور یہاں کا قطرہ قطرہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ کی لمسِ پاک کا امین ہے۔ مدینہ منورہ کے تاریخی کنویں (آبارِ نبوی) محض پانی کے ذخائر نہیں، بلکہ یہ سیرتِ طیبہ کے وہ خاموش عینی شاہد ہیں جن کی گہرائیوں میں نبوت کے معجزات اور صحابہ کرام کی عقیدتوں کے ان مٹ نقوش محفوظ ہیں۔ موجودہ دور میں معلومات کی کمی اور سوشل میڈیا کے بے لگام بہاؤ کے باعث بہت سے کم علم یوٹیوبرز اور عام لوگ ان مقامات کے ناموں اور حقائق کو خلط ملط کر دیتے ہیں۔ زیرِ نظر مضمون میں مدینہ منورہ کے دو عظیم اور تاریخی کنوؤں—بئر الہجیم اور بئرِ غرس—کی اصل حقیقت، ان کی لافانی تاریخ اور عظمت کا مستند علمی و ادبی احاطہ کیا گیا ہے۔
1۔ بئر الہُجَیم: اسلام کا پہلا سفارت خانہ اور فدایانِ اسلام کا اولین مسکن
عوامی حلقوں، عام بول چال اور تحریر و املا کی فاش غلطی کے سبب بہت سے لوگ اس مبارک کنویں کو “بئر الجحیم” (نعوذ باللہ، جہنم کا کنواں) پڑھ اور لکھ دیتے ہیں۔ یہ ایک بدترین لفظی مغالطہ ہے، کیونکہ شہرِ رسول ﷺ کی پرنور فضاؤں میں کسی بھی ایسی منفی یا ملعون نام کی جگہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اس کا اصل، درست اور مستند نام “بئر الہُجَیم” (Bir Al-Hajeem) ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے یہ تاریخی کنواں مدینہ منورہ میں قبا کے مغرب میں واقع ایک انتہائی قدیم اور تاریخی بستی “العصبہ” کے دامن میں مرجعِ خلائق ہے۔ عہدِ نبوت سے قبل، تاریخِ عرب کے جاہلی دور میں یہ کنواں مدینہ کے غیرت مند قبیلہ اوس کی ایک معزز شاخ “بنی جَحْجَبا” کی ملکیت اور ان کا مرکزِ حیات تھا۔ بئر الہجیم کو یہ ابدی سعادت حاصل ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کے قدمِ مہموز یہاں پڑے۔ مدینہ منورہ کے مایہ ناز مؤرخ اور جغرافیہ دان علامہ السمہودی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مستند تصنیف میں رقمطراز ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ نے اس کنویں کے جوار میں واقع “مسجد العصبہ” میں، جسے تاریخ میں “مسجد التوبہ” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، اپنے انوارِ وجود کے ساتھ نماز ادا فرمائی تھی اور اس خطے کو رہتی دنیا تک کے لیے متبرک بنا دیا تھا۔اس مقام کی عظمت کا اصل رخ ہجرتِ مدینہ کے اس سنہری دور سے وابستہ ہے جب مدینہ کی فضا ابھی اسلام کی روشنی سے شناسا ہو رہی تھی۔ مکہ مکرمہ سے ہجرتِ مدینہ سے دو سال قبل، جب حضورِ اقدس ﷺ نے اسلام کے سب سے پہلے سفیر، سفیرِ اسلام حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کو یثرب کے باسیوں کی تعلیم و تربیت اور دعوتِ حق کے لیے روانہ فرمایا، تو انہوں نے اسی بئر الہجیم کے سائے کو اپنا مسکن بنایا۔
حضرت مصعب بن عمیرؓ اسی جگہ اہل مدینہ سے ملاقات کیا کرتے تھے، انہیں قرآن کی آیات سناتے اور کائنات کے سب سے سچے دین کے اسرار و رموز سے آگاہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ نویسوں نے بئر الہجیم اور اس کے اطراف کو “اسلام کا پہلا سفارت خانہ” (The First Embassy of Islam) قرار دیا ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی؛ جب مکہ کے ستم رسیدہ مسلمانوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی، تو مہاجرینِ مکہ کا جو بھی قافلہ مدینہ پہنچتا، وہ سب سے پہلے اسی العصبہ کے علاقے میں بئر الہجیم کے پاس آ کر اپنے ڈیرے لگاتا تھا۔ جب تک تاجدارِ کائنات ﷺ خود مدینہ منورہ تشریف نہیں لائے، یہ مبارک جگہ مہاجرینِ مکہ کی پناہ گاہ اور ان کا پہلا مرکز بنی رہی۔
صدیوں کی گرد میں چھپ جانے والے اس عظیم تاریخی اثاثے کو سعودی حکومت نے اپنے حالیہ منصوبوں کے تحت ایک نئی زندگی دی ہے۔ اس کنویں کی شاندار علمی و ظاہری تزئین و آرائش کی گئی ہے، اس کے تاریخی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اسے لوہے اور پتھروں کے حسین حصار میں محفوظ کر دیا گیا ہے، تاکہ آنے والی نسلیں اسلام کے اس اولین سفارت خانے کے سائے میں بیٹھ کر اسلاف کی قربانیوں کو یاد کر سکیں۔
6۔ بئرِ غَرْس: جنت کا چشمہ اور غسلِ نبوی ﷺ کا امین
مدینہ منورہ کی نبوی تاریخ کا ایک اور درخشندہ ستارہ وہ کنواں ہے جسے علمِ لغت اور تاریخ کی مستند کتابوں میں “بئرِ غَرْس” (Bir Ghars) لکھا گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ کم علم یوٹیوبرز اور سطحی معلومات رکھنے والے لوگ تلفظ کی معمولی سی مشابہت کے باعث اسے غلطی سے “بئر عرس” کہہ دیتے ہیں، جو کہ تاریخی اسناد کے بالکل خلاف ہے۔ بئرِ غرس مدینہ منورہ کے ان گنتی کے چند کنوؤں میں شمار ہوتا ہے جنہیں رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی سے ایک خاص، قلبی اور براہِ راست نسبت حاصل تھی۔
یہ بابرکت کنواں مدینہ منورہ کے جنوب میں واقع ایک سرسبز و شاداب محلے “العوالی” (قربان روڈ) کی آغوش میں واقع ہے، جو مسجدِ قبا کے پرنور صحن سے لگ بھگ 1.5 کلومیٹر شمال مشرق کی سمت بنتا ہے۔ تاریخِ مدینہ کے اوراق الٹائے تو معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اس کنویں کی کھدائی مالک بن النحاط نے کی تھی۔ بعد ازاں، جب آفتابِ نبوت مدینہ کے افق پر طلوع ہوا، تو اس وقت اس کنویں کے مالک بنو عمر بن عوف کے نامور صحابی حضرت سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ وہی جلیل القدر صحابی ہیں جن کے مکان کو حضورِ اکرم ﷺ نے مدینہ آمد کے موقع پر چند روز کے لیے اپنے قیامِ مبارک کا شرف بخشا تھا۔
سیرتِ پاک اور احادیثِ مبارکہ کی کتب بئرِ غرس کی فضیلت اور حضور ﷺ کی اس کنویں سے والہانہ محبت کے تذکروں سے لبریز ہیں:
طیب و لذیذ پانی: سیدِ عالم ﷺ کو بئرِ غرس کا پانی بے حد مرغوب اور پسندیدہ تھا۔ اس کا پانی غیر معمولی طور پر شیریں، لطیف اور ہاضم تھا۔ سیدنا حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ خاص طور پر نبیِ رحمت ﷺ کے پینے کے لیے روزانہ مشک بھر کر اسی کنویں سے پانی لایا کرتے تھے۔
لعابِ مبارک اور شہد کی آمیزش: تاریخی روایات میں مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضورِ اقدس ﷺ نے اس کنویں کے پانی سے وضو فرمایا اور اپنے وضو کا مابقیہ (بچا ہوا) پانی برکت کے لیے اسی کنویں میں انڈیل دیا۔ صرف یہی نہیں، بلکہ آپ ﷺ نے اپنے دہنِ مبارک کا لعاب اور تھوڑا سا شہد بھی اس میں ملایا، جس کے بعد اس کا پانی رہتی دنیا تک کے لیے نہ صرف معطر اور شیریں ہو گیا بلکہ اس کے ذخیرے میں بے پناہ کثرت اور برکت پیدا ہو گئی۔ جامع سنن ابن ماجہ کی مستند روایات کے مطابق، آقائے نامدار ﷺ نے ایک رات خواب میں خود کو جنت کے ایک نہایت خوبصورت چشمے پر جلوہ افروز دیکھا۔ جب صبحِ نو کا آغاز ہوا تو آپ ﷺ نے صحابہ کے سامنے اپنے خواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنت کے اس چشمے کی ہو بہو مشابہت زمین پر میرے کنویں یعنی “بئرِ غرس” سے ہے، اور آپ ﷺ نے اسے اعلانیہ طور پر “جنت کے کنوؤں میں سے ایک کنواں” قرار دے کر اس کی عظمت پر مہرِ تصدیق ثبت فرمائی۔
بئرِ غرس کی تاریخ کا سب سے رقت آمیز، منفرد اور عظیم ترین اعزاز اس کی وہ وصیت ہے جو تاجدارِ کائنات ﷺ نے اپنے وصالِ سے چند روز قبل شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو فرمائی تھی۔
سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“فإذا أنا مِتُّ فَاغْسِلُونِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ”
ترجمہ: “پس جب میں وفات پا جاؤں، تو مجھے میرے کنویں یعنی ‘بئرِ غرس’ کے سات مشکیزوں کے پانی سے غسل دینا۔” (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 1468)اگرچہ علمِ حدیث کے بعض ماہرین اور محدثین نے اس روایت کی سند میں موجود بعض راویوں کے سبب اس کی اسنادی حیثیت پر کلام کرتے ہوئے اسے ضعیف قرار دیا ہے، لیکن تاریخِ مدینہ کے تمام چوٹی کے مؤرخین (بشمول علامہ سمہودی) کا اس بات پر غیر متزلزل اتفاق ہے کہ کائنات کی سب سے پاکیزہ ہستی، رسولِ محتشم ﷺ کا غسلِ مبارک اسی بئرِ غرس کے پانی سے ہی انجام پایا تھا۔ غسل کے لیے سات مشکیزوں کی تخصیص کے پیچھے یہ حکمت کارفرما تھی کہ متبرک پانی جسمِ اطہر کے ہر ہر حصے پر پوری روانی اور اچھی طرح سے بہایا جا سکے۔
زمانے کے بے رحم تھپیڑوں، صدیوں کے تواتر اور مدینہ کے تاریخی سیلابوں کے باعث یہ کنواں ایک طویل عرصے تک مٹی تلے دب کر بند ہو چکا تھا اور اس کا نام و نشان مٹنے کے قریب تھا۔ تاہم، موجودہ سعودی حکومت نے اپنے مایہ ناز ضیافتِ رحمان پروگرام “Pilgrim Experience Program” کے تحت اس تاریخی نبوی ورثے کا ازسرِ نو احیاء کیا ہے۔
آج اگر کوئی زائر وہاں جائے تو اسے بئرِ غرس ایک نئے اور انتہائی خوبصورت روپ میں نظر آتا ہے۔ کنویں کے دہانے پر مضبوط پتھروں کی دیوار کھڑی کر کے اس کے اوپر لوہے کا ایک مضبوط حفاظتی جالی دار چھت نصب کر دیا گیا ہے۔ یہاں آنے والے عشاقِ رسول کی سہولت اور پیاس بجھانے کے لیے کنویں کے بالکل ساتھ پینے کے صاف پانی کے جدید نل (Taps) لگا دیے گئے ہیں، جہاں سے بئرِ غرس کا میٹھا پانی چوبیس گھنٹے دستیاب رہتا ہے۔ کنویں کے اطراف میں ایک دلکش چھوٹا سا باغیچہ اور ایک خوبصورت مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے، جو زائرین کو عہدِ نبوت کی یادوں میں گم ہونے کے لیے ایک پرسکون اور معطر ماحول فراہم کرتی ہے۔
حاصلِ کلام
7…بئر الہجیم اور بئرِ غرس مدینہ منورہ کے وہ تاریخی مینار ہیں جو ہمیں اسلام کے ابتدائی دور، صحابہ کی محنتوں اور خود رسول اللہ ﷺ کی مبارک عادات و برکات سے جوڑتے ہیں۔ ان مقامات کی مستند تاریخ کو محفوظ رکھنا اور انہیں غلط ناموں یا من گھڑت کہانیوں سے پاک رکھنا ہر مسلمان کی علمی ذمہ داری ہے۔ زائرینِ مدینہ کے لیے لازم ہے کہ وہ ان مقامات پر حاضری دیتے وقت انہیں محض ایک جغرافیائی سیر گاہ نہ سمجھیں، بلکہ ان کے تاریخی پس منظر کو ذہن میں رکھ کر بارگاہِ رسالت ﷺ کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کے رشتے کو مزید استوار کریں۔
اگر تحریر پسند آئے تو مدینہ منورہ کی مزید 52 تاریخی مقامات کی مستند معلومات حاصل کرنے کے لئے پیچ کو FALLOWکیجئے اور صدقہ جاری کے طور پر شیئر اور لائک کیجئے (جاری ہے)
