Skip to content

مسجد سجدہ (مسجد شکر / مسجد ابی ذر / مسجد اسواف): ایک تاریخ ساز مقام۔۔۔۔ قسط 9۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

مسجد سجدہ (مسجد شکر / مسجد ابی ذر / مسجد اسواف): ایک تاریخ ساز مقام۔۔۔۔ قسط 9۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

مدینہ منورہ کی فضاؤں میں ایمان کی روح پرور مہک بس انداز بیاں کی محتاج نہیں، لیکن کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں تاریخ اور عقیدت باہم مل کر دلوں کو گداز کر دیتے ہیں۔ مسجد نبوی کے باب نمبر 26 سے باہر قدم نکالیں اور شمال کی جانب شارع ابو ذر غفاری پر تقریبًا 900 میٹر کا فاصلہ طے کریں، تو وہ بابرکت مقام آتا ہے جس میں ایک خوبصورت مسجد بھی ہے جسے تاریخ میں “مسجد سجدہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

آج کل اس مسجد کے قریبی علاقے میں مدینہ منورہ کا بس اڈہ واقع ہے، لیکن اس کی روحانی قدروقیمت صدیوں سے عشاقِ رسول ﷺ کے دلوں کو گرماتی آ رہی ہے۔اس مقدس مسجد کو مختلف مبارک ناموں سے یاد کیا جاتا ہے، جن کے پسِ پردہ ایمان افروز واقعات پوشیدہ ہیں:

مسجد سجدہ / مسجد الشکر: یہ وہ جگہ ہے جہاں کائنات کی سب سے عظیم ہستی، نبی کریم ﷺ نے ربِ کریم کی بارگاہ میں خشوع و خضوع کے ساتھ ایک طویل ترین سجدہ شکر ادا کیا۔مسجد ابی ذر: شارع ابو ذر غفاری (ابو ذر روڈ) پر واقع ہونے کی وجہ سے اسے مسجد ابی ذر بھی کہا جاتا ہے۔

مسجد اسواف: علامہ سمہودیؒ کی تحقیق کے مطابق “اسواف” اس مسجد کے قریب واقع ایک علاقے کا نام تھا۔ عہدِ رسالت میں یہاں بیت المال کے صدقات کا ایک باغیچہ ہوا کرتا تھا جہاں آپ ﷺ تشریف فرما ہوئے۔

اس مبارک مسجد کی بنیاد جس ایمان افروز واقعے پر قائم ہے، اس کی روایت حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ملتی ہے۔

“ایک دن رسول اللہ ﷺ بیت المال کے صدقات (اسواف کے باغیچے) کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں آپ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کیا—ایک ایسا طویل سجدہ کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ بیان کرتے ہیں کہ سجدے کی طوالت دیکھ کر میرے دل میں یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں سجدے کی اس حالت میں آپ ﷺ کی روحِ مبارک پرواز تو نہیں کر گئی! میں تشویش کے عالم میں آپ ﷺ کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔جب آپ ﷺ نے سرِ مبارک اٹھایا تو پوچھا: ‘کون ہے؟’

میں نے عرض کیا: ‘عبدالرحمٰن۔’آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ‘کیا بات ہے؟’

میں نے عرض کیا: ‘یا رسول اللہ! آپ نے اتنا طویل سجدہ فرمایا کہ مجھے خدشہ ہوا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض فرما لی ہو۔’

اس پر سرورِ کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا:’میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “جو شخص آپ پر درود بھیجے گا، میں اس پر اپنی رحمت نازل کروں گا؛ اور جو آپ پر سلام بھیجے گا، میں اسے سلامتی عطا کروں گا।” بس اس عظمت اور نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے میں نے اپنے رب کے حضور یہ سجدہ شکر ادا کیا۔'”مسجد سجدہ محض ایک عمارت یا اینٹ پتھر کا نام نہیں، بلکہ یہ امتیوں کے لیے درود و سلام کی بے پناہ فضیلت اور نعمتِ الٰہی پر سجدہ شکر کی اہمیت کا ایک دائمی پیغام ہے۔جب بھی کوئی زائر اس مبارک مسجد کے سائے میں قدم رکھتا ہے، تو اسے اپنے آقا ﷺ کا وہ طویل سجدہ اور امتیوں پر رحمتِ خداوندی کا وہ پیغام یاد آ جاتا ہے، جو تا قیامت درود پڑھنے والوں کے لیے بخشش و سلامتی کا ضامن ہے۔ (جاری ہے )