Skip to content

مدینہ منورہ کی دو عظیم تاریخی و روحانی مساجد: مسجدِ امام بخاری اور مسجدِ قبا ۔۔۔ قسط 10 ۔۔۔تحریر ۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

مدینہ منورہ کی دو عظیم تاریخی و روحانی مساجد: مسجدِ امام بخاری اور مسجدِ قبا ۔۔۔۔ قسط 10 ۔۔۔۔تحریر ۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

مدینہ منورہ کی بابرکت سرزمین تاریخِ اسلام کا وہ درخشان باب ہے جس کی گلیوں اور کھجور کے باغات نے نبوت کی روشنی اور علمِ حدیث کی تابانیاں دیکھی ہیں۔ اس دیارِ مقدس میں جہاں ہر قدم پر سجدوں کی تاریخ رقم ہے، وہاں مسجدِ نبوی الشریف کے جوار میں دو ایسی مساجد واقع ہیں جو اپنے دامن میں بے مثال روحانی، تاریخی اور علمی عظمت سمیٹے ہوئے ہیں:

مسجدِ امام بخاری ۔

مسجدِ امام بخاری علمِ حدیث اور تحقیق کا درخشندہ منارمسجدِ نبوی کے شمال مشرق میں، محض ۲۵۰ میٹر کے فاصلے پر “المنطقۃ المرکزیۃ الشمالیۃ” میں شارعِ ابی ذر الغفاری پر واقع ہے مسجدِ امام بخاری، اسلام کی علمی تاریخ کی ایک عظیم یادگار ہے۔ تاریخی نسبت اور علمی سفر کایہ مبارک مقام تاریخی روایات کے مطابق اس جگہ پر ہے جہاں امیر المؤمنین فی الحدیث، امام محمد بن اسماعیل البخاریؒ نے اپنے قیامِ مدینہ کے دوران سکونت اختیار کی۔ روایات بتاتی ہیں کہ امام بخاریؒ کا خیمہ اسی مبارک زمین پر نصب تھا، جہاں بیٹھ کر انہوں نے عشق و عقیدت کے ساتھ احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کی۔ عالمِ اسلام کا سب سے بڑا علمی اثاثہ صحیح بخاری کا ایک اہم حصہ اسی جگہ پر تحقیق و تحریر کے مراحل سے گزرا۔یہ جگہ اصل میں مدینہ منورہ میں مقیم ایک معزز بخارائی خاندان کی ذاتِ ملکیت تھی۔ اس خاندان نے امام بخاریؒ کی علمی خدمات اور ان کی ذات سے برکت (تیمّن) حاصل کرنے کی خاطر اس زمین کو وقف کر کے یہاں ایک مسجد قائم کی اور اسے امام صاحب کے نام سے موسوم کیا۔ ابتدائی دور میں یہ مسجد روایتی طرز پر تعمیر کی گئی تھی۔ بعد ازاں، عہدِ سعودی (خصوصاً شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دورِ حکومت) میں جب مسجدِ نبوی کی قریبی توسیع کا کام شروع ہوا، تو اس مسجد کو بھی عصری تقاضوں کے مطابق اور خوبصورت فنِ تعمیر کے ساتھ جدید انداز میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

مسجدِ قبا

اسلام کی پہلی مسجد جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی اور تقویٰ کا مسکن مدینہ منورہ کے جنوب مشرق میں مسجدِ نبوی سے تقریباً ۳.۵ کلومیٹر کے فاصلے پر “قبا” نامی تاریخی بستی میں واقع مسجدِ قباہے جوکہ تاریخِ اسلام کی سب سے پہلی مسجد ہونے کا اعزاز رکھتی ہے۔ سنہ ۶۲۲ء میں جب نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی، تو آپ ﷺ نے قبا کے مقام پر بنو سالم بن عوف (قبیلہ اوس) کی زمین پر قیام فرمایا۔ اسی قیام کے دوران آپ ﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس مسجد کا پہلا پتھر رکھا۔ صحابہ کرامؓ کے ساتھ مل کر حضور اکرم ﷺ نے خود گارا اور پتھر اٹھا کر اس کی تعمیر میں حصہ لیا۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ (آیت ۱۰۸) میں اس مسجد کی عظمت کی گواہی یوں دی:لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ”بے شک وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، اس قابل ہے کہ آپ اس میں قیام فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ کا معمول مبارک تھا کہ آپ ہر ہفتے کے دن مسجدِ قبا تشریف لاتے اور یہاں نماز ادا فرماتے۔فرمانِ نبوی ﷺ کے مطابق، جو شخص اپنے گھر سے باوضو ہو کر مسجدِ قبا آئے اور یہاں دو رکعت (نفل) نماز ادا کرے، اللہ تعالیٰ اسے ایک مقبول عمرے کا اجر عطا فرماتا ہے۔تاریخ کے مختلف ادوار میں خلفائے راشدین اور بعد کے حکمرانوں نے مسجدِ قبا کی توسیع و تزئین کی۔ابتدائی دورنبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی سادہ و مبارک تعمیر تھی عصرِ حاضر میں(شاہ سلمان و ولی عہد)تاریخ کی سب سے بڑی توسیع کا آغازکیا، جس کا مقصد رقبہ بڑھا کر ۵۰,۰۰۰ مربع میٹر تک وسیع کرنا ہے تاکہ لاکھوں زائرین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ مسجدِ قبا اسلام کی سیاسی، اجتماعی اور عبادتی بنیادوں کے آغاز کا مظہر ہے، وہاں مسجدِ امام بخاری امتِ مسلمہ کے علمی رتبے اور سنّتِ نبویہ کی حفاظت کی عظیم یادگار ہے۔ یہ دونوں مساجد زائرینِ مدینہ کے لیے ہدایت، برکت اور تاریخِ اسلام سے جڑے رہنے کا ایک قوی ذریعہ ہیں۔ (جاری ہے)