مدینہ منورہ کی فضاؤں میں آج بھی قدسیانِ عرش کی سرگوشیاں اور محبوبِ خدا ﷺ کے قدموں کی آہٹ لمحہ لمحہ محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس مقدس شہر کی مٹی کا ہر ذرہ تاریخ اسلام کی روشن روایات کا امین ہے اور اس کا ہر گوشہ کسی نہ کسی ایمان افروز واقعے کی گواہی دیتا نظر اتا ہے۔ انہی بابرکت اور تاریخی مقامات میں مدینۃ المنورہ کی چند ایسی ناپید اور موجود مساجد بھی شامل ہیں، جو اپنے اندر ایمان پرور داستانیں سمیٹے ہوئے ہیں۔ آپ کی خدمت میں چند ایسے مساجد کا تذکرہ کرنے کو میں سعادت سمجھتا ہوں
۱۔ مسجد بنو انیف (مسجد مُصَبَّح): تاریخ و روحانیت کا سنگم
مسجدِ قباء کے جنوب مغرب میں، تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر، سادگی و وقار کی ایک مجسم تصویر انسان کی شش جہت کو منور کر رہی ہے، جسے دنیا مسجد بنو انیف یا مسجدِ مُصَبَّح کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہی دلفریب اور بقعۂ نور مقام ہے جہاں سرورِ کائنات، فخرِ موجودات ﷺ نے سفرِ ہجرت کے درخشندہ ایام میں اپنے مبارک قدم رنجہ فرمائے اور بارگاہِ الٰہی میں سر بسجود ہوئے۔
روایات بتاتی ہیں کہ حضورِ اکرم ﷺ اس علاقے میں آباد قبیلہ بنو انیف کے مسکن کے قریب تشریف لائے، اپنے پرخلوص صحابی حضرت طلحہ بن البراء رضی اللہ عنہ کی عیادت فرمائی اور یہاں نمازِ فجر ادا کر کے اس زمین کو سجدوں کی معطّر خوشبو عطا کی۔ تقریباً 35 مربع میٹر پر محیط یہ مختصر مگر عظیم مسجد، ابتدائی اسلامی دور کی سادہ اور بے ساختہ طرزِ تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔ اس کی دیواریں مدینہ کی مخصوص سیاہ بیسالٹ کی چٹانوں سے تراشی گئی ہیں۔ اس کی کوئی چھت نہ تھی، بلکہ کھلی فضا میں بلند ہوتی پتھریلی دیواریں اور روایتی تراشیدہ محراب اس کے تاریخی شکوہ کو دوچند کرتی ہیں۔ صدیوں کی گردش سے یہ عمارت خستہ حالی کا شکار ضرور ہوئی، لیکن اس کا روحانی جاہ و جلال قائم رہا۔ سعودی حکومت کے “قومی پروگرام برائے بحالیِ مساجدِ تاریخیہ” کے تحت اس کی اصل قدیم ہیئت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی جدید و نفیس مرمت کی گئی ہے، تاکہ قرونِ اولیٰ کی یہ عظیم الشان یادگار ابد تک محفوظ رہے۔ اور آج بھی اپنی دیدہ زیب ساخت کے ساتھ موجود ہے
۲۔ مسجد السَّبَق (مسجد بنی زریق): عزائم اور تاریخ کا گمنام باب
مدینہ منورہ کے قدیم کھلے میدان “میدانِ باب الشامی” کی وسعتوں میں کبھی مسجد السَّبَق یا مسجد بنی زریق قائم تھی—ایک ایسی مسجد جس کا نام ہی شجاعت، مہارت اور مسابقت کا استعارہ ہے۔ “السبق” عربی زبان میں دوڑ اور مقابلے کو کہتے ہیں۔صحیح بخاری کی درخشندہ روایات کی روشنی میں، یہ وہ تاریخی میدان تھا جہاں سلطانِ دو عالم ﷺ کی زیرِ سرپرستی صحابہ کرام کے گھوڑوں کی دوڑ کے مقابلے منعقد ہوا کرتے تھے۔ حیفاء سے ثنیات الوداع اور وہاں سے مسجد بنی زریق (مسجد السبق) تک کا یہ رقبہ دراصل مجاہدینِ اسلام کی جنگی تربیت، گھڑ سواری کی مہارت اور دفاعی حکمت عملیوں کا مرکز تھا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس مقام پر سرور کونین ؑ اور اماں عائشہ کے درمیان دوڑ کا مقابلہ ہو ا تھا جس میں ایک مرتبہ سرور کونین ؑ جیت گئے تھے اور ایک مرتبہ اماں عائشہ صدیقہ جیت گئی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ مدینۃ المنورہ کی جدید توسیعی منصوبوں اور شاہراہوں (شاہراہِ ابوبکر الصدیق اور شاہراہِ شاہ فیصل) کی تعریض کے باعث یہ تاریخی مسجد اپنی اصل ظاہری صورت میں قائم نہ رہ سکی اور منہدم ہو گئی۔آج اس تاریخی و جنگی تربیت گاہ کے مقام پر جدید دور کا سعودی پبلک ٹرانسپورٹ کمپنی (SAPTCO) کا بس اسٹیشن اور کنکریٹ کی جدید عمارتیں کھڑی ہیں، مگر تاریخ کے صفحات میں اس مسجد کی اذانیں اور گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں آج بھی زندہ ہیں۔طیبہ کی یہ وادیاں، عشق، وِجدان اور تاریخِ اسلام کے وہ درخشندہ باب ہیں جنہیں چھو کر ایمان کو نئی جلا ملتی ہے۔ (جاری ہے)
پسند ائے تو صدقہ جاریہ کے طور پر شیئر کیجئے اور مزید مدینہ منورہ کی تاریخی مقامات کو جاننے کے لئے پیچ کو فالو کیجئے


