آہ ۔۔شہیدِ وفا: حماد سعید (جنت کا ننھا پھول) از قلم: (حافظ نصیر اللہ منصور چترالی)
یہ دنیا دائم و قائم رہنے کی جگہ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی امتحان گاہ ہے جہاں خوشی اور غم، وصال اور فراق کے تمام لمحے انسان کی آزمائش کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔ قدرت انسان کو انہی بدلتے ہوئے حالات کے ترازو میں تولتی ہے کہ وہ مصائب کی کٹھالی میں ڈھل کر اخلاقِ حسنہ کے اعلیٰ مقام پر فائز رہتا ہے یا رذائل کی وادیوں میں بھٹک جاتا ہے۔بندہء مومن کے لیے اس کارگاہِ حیات میں دو ہی راستے ہیں: خوشی کے لمحات میں شاکر بن کر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہو جانا، اور غم و اندوہ کی گھڑیوں میں صابر بن کر تقدیر کے فیصلوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا۔ لیکن جب صدمہ اولاد کی اچانک فرقت کا ہو—خاص طور پر جب کوئی پھول جیسا نوجوان جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی جدا ہو جائے—تو یہ والدین اور عزیزوں کے لیے ایک ایسا نا قابلِ برداشت صدمہ ہوتا ہے جس پر صبر کرنا صرف انتہائی عالی ظرف اور ضبط والے انسانوں ہی کا کام ہے۔اللہ رب العزت نے قرآنِ حکیم میں مصائب کے مواقع اور ان پر صبر کی جزا کو انتہائی واضح انداز میں بیان فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
“اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں۔”(سورۃ البقرہ 155)علماء و مفسرین فرماتے ہیں کہ آیتِ کریمہ میں “نقص” (کمی) سے مراد دو پہلو ہیں:کم دینا (مثلاً انسان کو فقر و مفلسی میں رکھنا)یادیے ہوئے کو واپس لے لینا (مثلاً تونگری کے بعد مال کا چھن جانا یا نعمت کا سلب ہو جانا)اسی طرح “جانوں میں کمی”سے مراد عزیز و اقارب، خصوصاً اولاد، ماں باپ، یا بہن بھائیوں کی وفات ہے۔ اگر انسان ان دل دوز مصائب میں بھی شکوہ و شکایت کے بجائے صبر کا دامن تھامے رکھے، تو وہ خدا کی بارگاہ سے اس ابدی بشارت کا مستحق قرار پاتا ہے جس کا وعدہ اس آیت میں کیا گیا ہے۔اولاد کی موت ماں باپ کے جگر کا ٹکڑا کٹ جانے کے مترادف ہے۔ اسی لیے شارعِ اسلام ﷺ نے ایسے صبر کرنے والے والدین کے لیے عظیم الشان اجر و ثواب کی بشارت سنائی ہیں۔ مسند امام احمد ابن حنبل میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں، وہ جنت کے آٹھوں دروازوں پر اس کا استقبال کریں گے کہ جس سے چاہے داخل ہو جائے۔”صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! اور اگر دو بچے فوت ہوجائے؟” فرمایا: “دو پر بھی وہی انعام ہے۔” عرض کیا گیا: “یا رسول اللہ اگر ایک فوت ہو تو؟” فرمایا: “ایک پر بھی وہی انعام ہے۔” پھر آپ ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا:
“قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! سِقط (وہ بچہ جو پیٹ ہی میں ضائع ہو جائے) بھی اپنی ماں کو اپنی نال (ناف کے تعلق) سے کھینچ کر جنت میں لے جائے گا، بشرطیکہ اس کی ماں نے اللہ سے ثواب کی امید پر صبر کیا ہو۔ مسند احمد بن حنبل / سنن ترمذی میں”حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا دو عالم ﷺ نے فرمایا:”جب بندے کا بچہ فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے: ‘تم نے میرے بندے کے بچے کی روح قبض کر لی؟’ وہ کہتے ہیں: ‘ہاں۔’ اللہ فرماتا ہے: ‘تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا؟’ وہ کہتے ہیں: ‘ہاں۔’ اللہ پوچھتا ہے: ‘میرے بندے نے کیا کہا؟’ فرشتے عرض کرتے ہیں: ‘اس نے تیری حمد بیان کی اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا۔’ اس پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ‘میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک مکان بناؤ اور اس کا نام “بیت الحمد” (شکر کا گھر) رکھو۔'”
ان احادیث سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتا ہے کہ معصوم بچوں یا جوانی میں رخصت ہونے والے بچوں کی وفات پر اگر والدین صبر و استقامت کا مظاہرہ کریں، تو یہ حادثہ ان کے لیے جہنم سے آزادی اور درجات کی بلندی کا سبب بن جاتا ہے۔ ان کی یاد میں آنسو بہانا فطری امر ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں، البتہ زبان سے شکوہ یا جزع فزع کرنا منع ہے۔
شہید حماد سعید بھی انہی میں سے ایک ہے ایک شمع جو جل کر بجھ گئی
حماد سعید… جوانی کی شاداب وادی میں قدم رکھ رہا تھا، ایک خوبرو، بااخلاق اور معصوم لہجے کا مالک حافظ قرآن نوجوان تھا، اس کی ناگہانی اور مفارقتِ غم ناک نے دل کو اس قدر افسردہ کر دیا ہے کہ قلم کانپتا ہے اور الفاظ ساتھ دینے سے قاصر ہیں۔ لکھنے کی تاب تو نہیں، لیکن دلِ بے قرار کو تسلی دینے کے لیے یہ چند سطریں سپردِ قلم کر رہا ہوں۔حماد سعید رحمہ اللہ سے میرا تعلق صرف رسمی نہیں تھا، بلکہ ایک گہرا روحانی اور علمی رشتہ تھا۔ وہ میرے واجب الاحترام استاذِ محترم مولانا ڈاکٹر رشید احمد تھانوی صاحب کے صاحبزادے، اور میرے مشفق و مربی استاذِ محترم حضرت مولانا قاری ڈاکٹر احمد میاں تھانوی مدظلہ العالی کے پوتے تھے۔استاذِ محترم نے مجھے ہمیشہ اپنی اولاد کی طرح شفقت دی؛ آج علمی و اخلاقی میدان میں، میں جس مقام پر بھی کھڑا ہوں، یہ انھی کی محبتوں اور دعاؤں کا مرہونِ منت ہےانہوں نے ہاتھ پکڑ کر لکھنا پڑھنا سکھایا ۔ دوسری طرف، حفظِ قرآنِ کریم کے دنوں میں حماد سعید کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان کی اعلیٰ ظرفی، شائستہ گفتگو، معصومانہ مسکراہٹ اور حسنِ اخلاق کا میں ذاتی طور پر گرویدہ تھا۔تھانوی خانوادے کا علمی تسلسل سے تو پوری دنیا واقف ہے ۔حماد سعید شہید ایک ایسے بلند مرتبے اور تاریخی خاندانی سلسلے کے چشم و چراغ تھے، جس نے برصغیر پاک و ہند میں علم و تصوف اور دینِ حق کی جو شمع روشن کی تھی، وہ آج بھی پوری دنیا میں جگمگا رہی ہے۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ العزیز کی علمی و روحانی میراث جس طرح اس خانوادے میں نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے، وہ امتِ مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔اسی خانوادے کے چشم وچراغ میرے استاذ محترم میرے مشفق و مربی حضرت قاری ڈاکٹر احمد میاں تھانوی صاحب کا شمار ان عظیم شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے پوری دنیا میں لوگوں کو درست تلفظ اور ادا کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کر نا سکھایا اور آپ کے تلامذہ کی تعداد کروڑوں میں ہے جو قرآن کی تعلیمات کے لئے زندگیاں وقف کر رکھے ہیں ۔استاذِ محترم اور میرے بھائی جناب ڈاکٹر رشید احمد تھانوی کے پہلے صاحبزادے، محترم احمد جمیل تھانوی صاحب بھی انہی اخلاقِ حسنہ کے پیکر اور اعلیٰ تربیت کا نمونہ ہیں، جن کے ساتھ میرا گہرا اور محبت بھرا تعلق ہے۔ حماد سعید کے اس فانی دنیا سےشہادت کے اعلی درجے پر فائز ہوکر پردہ فرمانے کے بعد، دل سے یہی دعا نکلتی ہے ۔کہ اللہ تعالیٰ احمد جمیل صاحب کو عمرِ خضر عطا فرمائے، ان کا سایہ قائم ودائم رکھے اور انہیں اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ میری حرفِ آخر و التجا ہےاگرچہ معصوم اور شہید بچے کو اپنی مغفرت کے لیے دعاؤں کی حاجت نہیں ہوتی، لیکن ان کے لیے کی جانے والی دعائیں ان کے درجات کی بلندی اور رفعت کا باعث بنتی ہیں۔اے اللہ! شہید حماد سعید کی اس اچانک جدائی کو ان کے والدین اور گھر والوں کے لیے رفعِ درجات کا ذریعہ بنا دیجئے۔ ان کی شہادت کو اپنی بارگاہِ عالی میں قبول و منظور فرما ،اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما۔اے ربِ کریم! ہمارے شیخ و مربی حضرت اقدس مولانا قاری ڈاکٹر احمد میاں صاحب تھانوی مدظلہ العالی اور استاذِ محترم مولانا ڈاکٹر رشید احمد تھانوی صاحب کا سایہِ عاطفت ہم پر تا دیر قائم و دائم رکھ، اور ان کے قلبِ حزیں کو اس ناقابلِ برداشت صدمے پر صبرِ جمیل اور سکینہ کی نعمت سے مالامال فرما۔آمین یا رب العالمین ۔
