سابق صوبائی وزیر سلیم خان: چترال کی ایک متحرک سیاسی قیادت اور عوامی خدمت کا تابناک سفر۔۔۔۔۔۔۔ تحریر۔۔۔۔۔۔۔ حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
ہندوکش کے برف پوش سلسلوں، سرسبز وادیوں اور دریا کے دامن میں بسی سر زمینِ چترال نے ہمیشہ سادگی، وقار اور حیا کے رنگ اوڑھے ہیں۔ چترال کے سیاسی افق پر نظر ڈالی جائے تو اکثر وہاں موروثی اثر و رسوخ یا خاندانی نفوذ کا غلبہ دکھائی دیتا ہے، مگر اسی دھرتی کے بطن سے ایک ایسا کردار بھی ابھرا جس نے موروثیت کے حصار کو توڑ کر خالصتاً دیانت، محنت، خاندانی نظریاتی اساس اور عوامی خدمت کے بل بوتے پر اپنی شناخت قائم کی۔ یہ نام سابق صوبائی وزیر سلیم خان کا ہے—وہ مدبر سیاست دان جس کی زندگی اس امر کا زندہ ثبوت ہے کہ اگر ارادوں میں اخلاص اور عزم میں سچائی ہو تو ایک متوسط گھرانے کا فرد بھی ایوانِ اقتدار کے زینے طے کر کے اپنی پسماندہ مٹی کا قرض چکا سکتا ہے۔
ایک صحافی اور کالم نگار کی حیثیت سے بے شمار سیاست دانوں کے انٹرویو کرنے اور ان کے افکار کی پرکھ کا موقع ملتا رہا ہے، لیکن سلیم خان سے کی گئی دو نشستیں فکر و نظر پر گہرے نقوش چھوڑ گئیں۔ چترال کی جن سیاسی شخصیات کے مکالمے نے دل کو سب سے زیادہ متاثر کیا، ان میں سلیم خان بلاشبہ سرفہرست ہیں۔ (دوسرے نمبر پر سابق ایم پی اے بی بی فوزیہ کا انٹرویو یادگار رہا، جن کے الفاظ کا کھردرا پن، جرات مندانہ انداز اور حقائق پر مبنی بے باک لہجہ دل کو چھو گیا، جن پر قلم اٹھانا کسی اگلے مضمون کا متقاضی ہے)۔ سلیم خان کی انفرادیت ان کی غیر معمولی خوش گفتاری، متانت اور شائستگی میں مضمر ہے۔ وہ سیاست کے اس نایاب قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو مخالف کو زیر کرنے کے لیے تضحیک کا راستہ نہیں چنتا، بلکہ خاموش احترام اور باوقار مکالمے کو شعار بناتا ہے۔ ان کی طویل سیاسی زندگی کا سب سے روشن پہلو یہ رہا کہ اقتدار کے ایوانوں میں بااختیار رہنے کے باوجود ان کا دامن بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے ہر داغ سے پاک رہا۔
سلیم خان نے چترال کی روایتی قدروں کے سائے میں آنکھ کھولی۔ ان کے خاندان کا سیاسی شعور پاکستان پیپلز پارٹی اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو کے فکری منشور سے بندھا ہوا تھا، جہاں محروم طبقات کی داد رسی سیاست کا محور تھی۔ ابتدائی تعلیم کی بنیاد گورنمنٹ ہائی سکول گرم چشمہ میں رکھی گئی، جہاں کی چٹانوں اور موسموں نے ان کے ارادوں کو استحکام بخشا۔ گورنمنٹ ڈگری کالج چترال سے انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کے بعد انہوں نے علم کے بحرِ بے کراں سے فیض یاب ہونے کے لیے عروس البلاد کراچی کا رخ کیا۔
کراچی سے گریجویشن کی تکمیل کے بعد پشاور یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات (Sociology) سے ماسٹرز کی سند حاصل کی۔ یہ تعلیمی پس منظر ان کی سیاست کی ابتدا تھی اسی عمرانیاتی ادراک نے انہیں چترال کے پیچیدہ قبائلی، جغرافیائی اور سماجی ڈھانچے کو سمجھنے، غربت کے اسباب جانچنے اور زمینی حقائق کی روشنی میں دیرپا پالیسیاں تراشنے کی بصیرت عطا کی۔
طلبہ سیاست سے بلدیاتی ایوان تک کوئی زیادت عرصہ نہ لگا اور نہ ہی خاندانی کمک کارفرما رہا سلیم خان کا سیاسی تدبر اتفاقی نہیں تھا بلکہ یہ مرحلہ وار سیاسی تربیت کا ثمر تھا۔ زمانۂ طالب علمی میں انہوں نے پختونخوا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) کے پلیٹ فارم پر طلبہ کے حقوق کی شمع روشن کی اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ بعد ازاں وہ چترال میں پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے صدر بنے اور نوجوانوں کو سیاسی عمل کا حصہ بنایا۔
عملی سیاست کا پہلا بڑا عوامی امتحان بلدیاتی نظام تھا۔ سلیم خان جب چترال کے ڈسٹرکٹ نائب ناظم منتخب ہوئے تو انہوں نے اقتدار کے روایتی کروفر کے بجائے کوچہ و بازار کا رخ کیا۔ چار سال تک ضلعی حکومت کے فورم سے یونین کونسل کی سطح تک عوامی مسائل کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور محدود فنڈز میں شفاف طریقے سے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانا وہ عملی درس گاہ تھی جس نے انہیں نچلی سطح کی عوامی قیادت کے فن سے آراستہ کیا۔
2008ء کے عام انتخابات خیبر پختونخوا اور چترال کی تاریخ میں جمہوری تبدیلی کا نقیب ثابت ہوا سلیم خان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی سے شاندار کامیابی حاصل کی۔ یہ فتح دراصل موروثی اشرافیہ پر عوامی شعور کا غلبہ تھی۔ ان کے تدبر، دیانت اور عمرانی شعور کو سراہتے ہوئے انہیں صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا اور وزیر برائے بہبودِ آبادی (Minister for Population Welfare) کا قلمدان سونپا گیا۔
صوبائی کابینہ میں ایک طویل عرصے بعد چترال جیسے پسماندہ سرحدی ضلع کو نمائندگی ملنا پورے خطے کے لیے ایک تاریخی اعزاز تھا، جس کا حق سلیم خان نے چترال کی تعمیر و ترقی کے لیے غیر متزلزل جدوجہد کر کے ادا کیا۔ یہ چترال کے لئےسنہری تعمیر و ترقی تعمیرات اور عوامی فلاح کا انقلابی دور تھا۔سلیم خان کے دورِ وزارت کو چترال کی معاشی اور ترقیاتی تاریخ میں بلاشبہ ایک نئے باب کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے روایتی نعروں کے بجائے بنیادی انفراسٹرکچر، توانائی، معیشت اور روزگار پر توجہ مرکوز کی۔
توانائی کے عظیم منصوبے اور خود انحصاری کا خواب سلیم خان کا وژن تھا کہ چترال کے پگھلتے گلیشیئرز اور تیز رفتار دریا خطرات کی علامت نہ بنیں بلکہ تاریک وادیوں کو روشن کریں۔ انہوں نے تاریخی لاوی پن بجلی منصوبہ (Lawi Hydro Project)، شغور ٹنل پراجیکٹ، اور تورکھو کے دور افتادہ مقام پر شوشیلک منصوبے کی تکنیکی و مالی منظوری کے لیے وفاقی اور صوبائی فورمز پر غیر معمولی کردار ادا کیا تاکہ پن بجلی کی پیداوار اور صوبائی رائلٹی سے چترال کی قسمت بدلی جا سکے۔ چترال کی غریب اور سفید پوش آبادی کے لیے نادہندہ قرضوں کی معافی کا تاریخی کارنامہ انجام دیا، جس کے تحت تقریباً ڈیڑھ سو ارب روپے کے حجم کے قرضوں کا خاتمہ ممکن بنایا گیا، جس سے دیہی معیشت کا سانس بحال ہوا۔ چترال کی تاریخ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر مقامی نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر روزگار فراہم کیا گیا۔ ان کے دور میں تقریباً 1600 نئی ملازمتیں وجود میں لائی گئیں، جن میں خیبر پختونخوا پولیس، بارڈر پولیس اور محکمہ تعلیم کے شعبہ جات شامل تھے۔ انہوں نے حساس سرحدی علاقوں کے مکینوں کو سیکیورٹی اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی، جس سے نہ صرف پسماندہ گھرانوں کی کفالت ہوئی بلکہ علاقے کا دفاع بھی مقامی اور بااعتماد ہاتھوں میں گیا۔
انہوں نے دروش میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے جامع منصوبے (Water Supply Scheme) کی بنیاد رکھی، چترال بھر میں سڑکوں اور پلوں کا جال بچھا کر وادیوں کے رابطے بحال کیے، اور خواتین کی تعلیم کے فروغ کے لیے گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن کے قیام اور ترقی میں تاریخی کردار ادا کیا۔
سلیم خان کی سیاست کا بنیادی منشور دو ستونوں پر کھڑا ہے: رواداری اور عوامی احتساب۔ انہوں نے سیاست کو منافرت کے ہتھیار کے بجائے خدمت کے پُل کے طور پر استعمال کیا۔ مخالفین پر کیچڑ اچھالنا یا اپنے اقتدار کے گھمنڈ میں رعونت دکھانا ان کے مزاج کا حصہ کبھی نہیں رہا۔ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ:
“سیاست مراعات، پروٹوکول اور اختیارات کی نمائش کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا بارِ امانت ہے جہاں ہر سانس پر خدا اور عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔”ان کے نزدیک چترال کا حقیقی اثاثہ اس کی تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوان نسل ہے، جن کی صلاحیتوں کو اگر جدید تعلیم اور باوقار روزگار کے مواقع مل جائیں تو یہ کوہسار کسی ترقی یافتہ خطے سے کم نہیں رہیں گے۔ سلیم خان چترال کی سیاست میں ایک ایسا نام ہیں جس پر آنے والی نسلیں ناز کریں گی۔ وہ ایوانوں میں گئے تو عوام کی آواز بن کر، اور جب واپس لوٹے تو بغیر کسی داغ اور الزام کے، اسی درویشانہ وقار کے ساتھ۔ ان کا سفر اس سچائی کا اعلان ہے کہ اقتدار عارضی اور عوامی خدمت لافانی ہوتی ہے۔ تاریخ کے اوراق جب بھی چترال کے مخلص خدمت گاروں کی فہرست مرتب کریں گے، سلیم خان کا نام خطے کی فلاح اور باوقار سیاست کی تابندہ علامت بن کر چمکے گا۔
