Skip to content

سایۂ عاطفت، قاری محمد زرین صاحب ،علم و حلم کا ایک زرین عہد ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

سایۂ عاطفت، قاری محمد زرین صاحب ،علم و حلم کا ایک زرین عہد ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر: حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

علم کی وادیوں میں زندگی کا سفر طے کرتے ہوئے جب کبھی ماضی کے دریچوں سے گزر ہوتا ہے، تو دل و دماغ احسان مندی کے ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتاہے جس کا کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا۔ انسان کی ذات ایک بے رنگ، بے شکل اور نامکمل پتھر کی مانند ہوتی ہے، جسے تراش خراش کر گوہرِ آبدار بنانے کا معجزہ صرف اور صرف استاد کے دستِ ہنر مند کا مرہونِ منت ہے۔

آج جب دنیا “یومِ اساتذہ” کی تقریب سجائے کھڑی ہے، تو میرے سامنے اعترافِ عظمت کا ایک وسیع و عریض چمن لہلہا رہا ہے۔ میرے لیے یہ لمحہ انتہائی نازک اور روح پرور ہے کہ میں کس کس کا نام لوں اور کسے یاد کر کے کس کا شکریہ ادا کروں؟ یہ میرے لیے بلاشبہ ایک دشوار مرحلہ ہے، کیونکہ دبستانِ حیات کے اس طویل علمی سفر میں ہر استاد نے اپنے خونِ جگر سے میرے فکری شجر کی آبیاری کی ہے۔ میرے تمام تر اساتذۂ کرام میرے لیے قابلِ صد احترام، سر آنکھوں پر سجانے کے لائق اور میری روحانی زندگی کے روشن مینار ہیں۔

اگر میں مروجہ علوم، سائنس اور زبان و ادب کے اساتذہ کا ذکر کروں تو ان کی شفقتوں نے ذہن کے بند کواڑوں کو کھول کر دنیا کو برتنے اور تسخیر کرنے کا سلیقہ بخشا۔ انہوں نے فکر کو پرواز دی، شعور کو جلا بخشی اور الفاظ کو معنی کا جامہ پہنایا۔ ان کی سختیاں بھی ہمارے لیے تازیانۂ عبرت تھیں اور ان کی شاباش ہماری کامیابیوں کا سب سے بڑا انعام۔ ان تمام محسنین کا مجھ پر ایسا قرض ہے جو زندگی کے آخری سانس تک بھی اتارا نہیں جا سکتا۔

لیکن جب میں ان تمام علمی راستوں کے منبع اور اخروی نجات کے سرچشمے پر نظر ڈالتا ہوں، تو سر عقیدت سے مزید جھک جاتا ہے۔ وہ اساتذہ جن کے دم سے میرے سینے میں وحیِ الٰہی کا نور اترا، جنہوں نے قرآنِ حکیم کے حروف اور تجوید کی باریکیاں روح میں پیوست کیں، اور اخلاقِ نبوی کے سانچے میں ڈھلنے کا درس دیا، وہ تو میرے وجود کی اصل بنیاد ہیں۔ ان کا رشتہ تو فقط دنیاوی شعور کا نہیں بلکہ روح کا روح سے اور ازل کا ابد سے بندھا ہوا پیمان ہے۔ اس گلستانِ علم کا ہر گل اپنی جگہ خوشبو بکھیر رہا ہے، اور ہر ستارہ اپنی جگہ تابندہ ہے۔ ایک کا نام لوں تو دوسرے کی شفقت کا دریا سامنے موجزن دکھائی دیتا ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ اساتذہ کا وجود وہ پارس پتھر ہے جو گرد آلود مٹی کو بھی چھو لے تو کندن بنا دیتا ہے۔ آج کے پرمسرت اور مبارک دن پر، میں اپنے تمام تر اساتذۂ کرام کے حضور، جنہوں نے الف سے لے کر ابجدِ حیات کے ہر باب میں میری انگلی پکڑ کر مجھے چلنا سکھایا، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ تحسین اور سلامِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔

بارگاہِ رب العزت میں دست بدعا ہوں کہ جو اساتذہ حیات ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا سایۂ عاطفت ہم پر سلامت رکھے، انہیں صحت و عافیت اور درازیِ عمر عطا فرمائے؛ اور جو نفوسِ قدسیہ اس فانی دنیا سے رخصت ہو کر جوارِ رحمت میں جا بسے ہیں، مولائے کریم ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور ان کے درجات کو بلند فرمائے۔ بلا شبہ، جن کے فیض سے ہمارے چراغ جل رہے ہیں یاد رکھنے کی بات ہے کہ کارخانۂ قدرت کا یہ ازلی و ابدی اصول ہے کہ ہر انسان اپنی تخلیق، جبلت، کردار اور فکری زاویوں کے اعتبار سے ایک منفرد اور یکتا شاہکار واقع ہوا ہے۔ تنوع کا یہ دلکش رنگ درس و تدریس کے گلستان میں اور بھی نکھر کر سامنے آتا ہے۔ معلمین بھی اپنے علمی ذوق، طبعی میلان اور مزاج کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کلیتاً مختلف ہوتے ہیں۔ طبیعیات، حیاتیات اور ریاضی کے اساتذہ کا استدلالی و حسابی اندازِ تدریس اپنی جگہ، اور علمِ لسان و اخلاقیات کے مربیین کا شگفتہ پیرایہ اپنی جگہ؛ لیکن ان تمام اصنافِ علم کے درمیان علومِ نبویہ اور قرآن کریم کے اساتذہ کا وقار اور طرزِ تخاطب ایک جداگانہ اور قدسی فضا کا امین ہوتا ہے۔میرے محترم قاری استاد کا اسلوب اور کردار بھی اساتذہ کے اس ہجوم میں سب سے منفرد اور تابناک تھا۔ چونکہ دینی مدارس کا سارا نظامِ تربیت ہمدردی، رواداری، للہیت اور بے لوث اخلاص کی بنیادوں پر استوار ہوتا ہے، اسی لیے ان کے قلبِ منور سے پھوٹنے والی مشفقانہ شفقت اور ہمدردانہ رویہ ہر طالب علم کے دل میں گھر کر جاتا تھا۔ہمارا دور وہ تھا جب درسگاہوں میں اساتذہ کی ہیبت اور رعب ہی طلبہ کے لیے حصولِ علم اور نظم و ضبط کا بنیادی ضامن سمجھا جاتا تھا۔ کسی جائز اور ناگزیر ضرورت کے تحت بھی اگر چھٹی کی درخواست کرنی ہوتی تو استادِ محترم کے روبرو جاتے ہوئے طلبہ کے ہاتھ پاؤں لرز اٹھتے تھے۔ خاص طور پرمیرے گورنمنٹ ہائی سکول ذوندرانگرام میں مولانگاہ نگاہ صاحب مرحوم کا رعب و دبدبہ اس درجے کا تھا کہ ان کے سامنے لب کشائی کی ہمت باندھنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ایسے پرآشوب اور ہیبت ناک لمحات میں طلبہ کے لیے واحد سایۂ عاطفت اور جائے پناہ ہمارے قاری استادصاحب ہی تھے۔ وہ بے خوف و خطر طالب علم کی مجبوری کا ازالہ کرتے، خود رخصت عنایت فرماتے اور گاہے بگاہے اعلیٰ حکام کے سامنے ایک شفیق سفارشی بن کر کھڑے ہو جاتے۔ یہی وجہ تھی کہ ہر جمعرات کو ان کی خدمت میں طلبہ کی درخواستوں اور عرضیوں کا تانتا بندھ جاتا، مگر اس کریم النفس مربی کا کشادہ دل کبھی کسی طالب علم کو نامراد یا مایوس نہیں لوٹاتا تھا۔قاری استاد یقیناً اپنے نام کی طرح اسم با مسمیٰ ہیں۔ قاری محمد زرین صاحب واقعی عہدِ حاضر کی ایک یگانۂ روزگار شخصیت اور علم و حلم کا مصفا سونا ہیں۔ وہ فہم و فراست، معلوماتی وسعت اور سراپا مہر و وفا ہونے کے اعتبار سے حقیقی معنوں میں ایک “زرین” انسان ہیں۔ خونی رشتے کے اعتبار سے وہ میرے ماموں جان ہیں، جس کی بدولت مجھے ان کا خصوصی قرب اور شفقت میسر رہی۔ دوسری طرف میرے سینے میں موجزن حفظِ قرآن کی تڑپ نے مجھے ان کے چشمۂ فیض سے اور زیادہ وابستہ کر دیا تھا۔ان کی شخصیت کا اعجاز یہ ہے کہ جو شخص زندگی میں فقط ایک مرتبہ ان کی مجلس میں بیٹھ جائے، وہ عمر بھر کے لیے ان کے اخلاقِ حسنہ کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ ان کا سحر انگیز طرزِ بیاں، شیریں بیانی، بلاغت اور مدلل گفتگو ان کی ذات کو مرجعِ خلائق بنا دیتی ہے۔ قرآن حکیم کے ترتیل و تجوید کے ساتھ قرات کا انداز، خوش الحانی، اور ادائیگی کے اسرار و رموز ذہن نشین کرانے کا طریقہ اس قدر جامع اور منفرد تھا کہ تجوید کے پیچیدہ اصول اور ضوابط بھی طلبہ کو پلک جھپکتے ہی ازبر ہو جایا کرتے تھے۔ مجھ جیسے مبتدیانِ علم کو ان کے اس چشمۂ تجوید سے جو سیرابی ملی، وہ تا عمر میرا سب سے قیمتی علمی اثاثہ رہے گی۔ان کا ہمیشہ تبسم ریز چہرہ، پرمغز اور تاریخی قصے کہانیوں سے مرصع دلچسپ لیکچرز تدریس کو مشقت کے بجائے ایک لطیف روحانی سفر بنا دیتے تھے۔ سکول کا ہر بچہ ان کی کلاس کے آغاز کا بے چینی سے انتظار کرتا تھا۔اگرچہ قاری استاد آج باقاعدہ تدریسی مصروفیات سے سبکدوش ہو کر گوشہ نشین ہو چکے ہیں، مگر ان کے نقشِ قدم، اخلاقی تعلیمات اور طرزِ حیات آج بھی ہمارے فکری سفر کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ محبت، مروت اور وضع داری کا یہ درخشندہ استعارہ آج بھی اپنی دلفریب محفلوں اور مشفقانہ گفتگو سے دلوں کو تروتازہ کیے ہوئے ہے۔دعا ہے کہ بارگاہِ ایزدی اس عظیم ہستی کو صحت و عافیت کے ساتھ عمرِ نوح عطا فرمائے، اور ان کے علم و فضل اور اخلاص کے فیوض و برکات ہمارے سروں پر تادیر قائم و دائم رکھے۔ آمین۔ استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا