Skip to content

شجرِ سایہ دار اور بے ثمر بیج: جماعتِ اسلامی کا فکری زوال یا سیاست کا بے رحم ریگزار؟ تحریر ۔۔۔۔۔۔حافظ نصیراللہ منصور چترالی

شجرِ سایہ دار اور بے ثمر بیج: جماعتِ اسلامی کا فکری زوال یا سیاست کا بے رحم ریگزار؟ تحریر ۔۔۔۔۔۔حافظ نصیراللہ منصور چترالی

جماعتِ اسلامی بلاشبہ پاکستان کے سیاسی و فکری افق پر ایک ایسا منفرد دبستان رہی ہے جس کی تنظیمی صلابت، فکری استقامت اور کردار کی طہارت پر مخالفین بھی انگشت نمائی کی جسارت نہیں کر سکتے۔ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اس سفر میں جماعت نے خود کو بدعنوانی، اقربا پروری اور موروثی سیاست کے ناسور سے کلیتاً پاک رکھا۔ سماجی خدمت کے باب میں الخدمت فاؤنڈیشن کا درخشاں کردار ہو یا نوجوانوں کے دست و بازو بننے والا ’بنو قابل‘ پروگرام، جماعتِ جماعت کی تنظیم اسلامی جمعیت نے ہر مصیبت میں ریاست کے شانہ بشانہ عوامی زخموں پر مرہم رکھا ہے۔باوجود اس بے داغ کردار، فولادی نظم و ضبط اور نظریاتی بیباکی کے، ملک کا انتخابی منظرنامہ جماعت کے لیے ہمیشہ ایک سنگلاخ اور بے رحم وادی ثابت ہوا ہے۔ خدمت کا اعتراف کرنے والا عام آدمی جب حقِ رائے دہی کے کٹہرے میں کھڑا ہوتا ہے، تو اس کا دستِ انتخاب جماعت کے حق میں اٹھنے سے ہچکچاتا ہے۔ نہ روایتی مذہبی حلقے اس تجدیدی تحریک کو اپنا فکری پیشوا ماننے پر آمادہ ہوئے، اور نہ ہی پسی ہوئی غریب عوام نے اس کے انقلابی و اصلاحی مطالبات کو انتخابی قوت میں بدلا۔ پسِ پردہ مقتدر قوتوں کے ساتھ تاریخی میل ملاپ اور وقتی تال میل بھی جماعت کو عوامی مقبولیت کا وہ تاج نہ پہنا سکے جس کی تمنّا اس کی فکری قیادت کو تھی۔

اس تاریخی المیے کا سب سے دلدوز پہلو جماعت کی اپنی گود سے پروان چڑھنے والی قیادت کا انخلا ہے۔ جماعت کی نرسری یعنی اسلامی جمعیت طلبہ نے وطنِ عزیز کو ایسی غیر معمولی فکری اور تنظیمی صلاحیتوں کے حامل فرزند دیے جنہوں نے بعد ازاں اقتدار کے ایوانوں کو رونق بخشی، مگر بدقسمتی سے جماعت اپنے ہی تراشے ہوئے ہیروں کو اپنے گلے کا ہار نہ بنا سکی۔ وہ پودے جن کی آبیاری جماعت کی نظریاتی تربیت گاہوں میں ہوئی، وہ اپنا پھل اور سایہ دوسری سیاسی دکانوں کو بخشتے رہے۔مسلم لیگ (ن) کے دست و بازو بننے والے جماعت کے پروردہ افراد کی بھی لمبی فہرست ہے

1؛ جناب احسن اقبال صاحب: لاہور میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) میں دوران طالب علمی اسلامی جمعیت طلباء کے ناظم رہے۔بعد ازاں مسلم لیگ (ن) چیف پالیسی ساز اور وفاقی وزارتوں کے منصب دار ٹھہرے اور ملک کے اہم اور کلیدی عہدوں پر براجمان ہوئے

2؛ خواجہ سعد رفیق: طالب علمی کے دور میں جمعیت کی شعلہ بیانی کا استعارہ تھے جو بعد میں ن لیگ کے سب سے توانا عوامی ترجمان اور سینیئر وفاقی وزیر بنے۔اور ملک کے اہم کلیدی عہدوں پر فائز رہے۔

3:مخدوم جاوید ہاشمی: پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کی فکری قوت کے بل بوتے پر اسٹوڈنٹ یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ دہائیوں تک اقتدار اور مزاحمت کی سیاست کا محور رہے، مگر ان کا میدان کارزار ن لیگ اور پی ٹی آئی رہی۔

4؛سردار مہتاب احمد خان: ابتدائی دور میں جماعت کے فکر سے پیوست رہے، مگر قومی سیاست کی مسند پر وہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ سے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور گورنر بنے۔

5؛پروفیسر ساجد میر: فکرِ مودودی کے ابتدائی معتقدین میں شمار ہوئے، مگر بالآخر اپنی الگ جماعت کی قیادت سنبھالتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے حلیف کے طور پر سینیٹ کی زینت بنے۔

تحریکِ انصاف کے قافلے میں شمولیت اختیار کرنے والے جماعت کے فرزندان کی بھی ایک بھاری تعداد ہے۔

6؛ اسد عمر: آئی بی اے کراچی کے دوران جمعیت کے رفیق رہے اور تنظیمی سوجھ بوجھ سیکھی، مگر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ تحریک انصاف کے معاشی چہرے کے طور پر کیا۔

7؛ مراد سعید: یونیورسٹی آف پشاور میں جمعیت کے سرگرم رکن رہنے کے بعد نہ صرف پی ٹی آئی کے اسٹوڈنٹ ونگ (ISF) کی بنیاد رکھی بلکہ عمران خان کے قریبی رفقا اور وفاقی وزیر کے طور پر ابھرے۔

8؛ اعجاز چوہدری: جماعت اسلامی پنجاب کے سرکردہ رہنما اور اس کے انتخابی امیدوار رہے، مگر روایتی فریم ورک کی تنگی دیکھ کر پی ٹی آئی میں گئے اور سینیٹ تک جا پہنچے۔

9؛میاں محمود الرشید: جماعت اسلامی لاہور کی روحِ رواں اور طویل عرصے تک اس کا اہم ترین سیاسی چہرہ، جنہوں نے پی ٹی آئی میں جا کر وزارتِ ہاؤسنگ سنبھالی اور پنجاب کی پارلیمانی سیاست پر گہرے نقوش چھوڑے۔

10؛ڈاکٹر مراد راس: جماعت کے تربیتی حلقوں سے علمی فیض پانے کے بعد تحریک انصاف کے اہم صوبائی وزیرِ تعلیم بنے۔

11؛ مظفر احمد ہاشمی: کراچی کی سیاست میں جماعت کے سابق رکن قومی اسمبلی رہے، لیکن تنظیمی سرد مہری کے باعث بعد میں تحریک انصاف کی صفوں میں شامل ہو گئے۔

12؛جہانگیر بدر: پنجاب یونیورسٹی کے زمانۂ طالب علمی میں جمعیت کے دسترخوان پر بیٹھے، مگر ذوالفقار علی بھٹو کے کرشماتی سحر نے انہیں پیپلز پارٹی کا ایسا فدائی بنایا کہ وہ اس کے سیکرٹری جنرل اور بے نظیر بھٹو کے بااعتماد سپاہی بنے۔

13؛مظفر سید : جماعت کے دیرینہ رکن اور جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے صوبائی وزیر خزانہ بننے والے مظفر سید بھی جماعت کے اندرونی خلفشار کا شکار ہوکر پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔

14؛سینیٹر مشتاق احمد خان : جماعت کے سرگرم رکن سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے جماعت کی کچھ پالیسیوں سے شدید اختلاف کرکے اپنی الگ پارٹی بنائی انہوں نے جماعت کے بڑے بڑے طرہ امتیاز کے اوپر بھی نقطہ اٹھایا جو کہ بظاہر حققت پر مبنی تھے

15؛مسعود شریف خٹک: پشاور یونیورسٹی میں جمعیت کی قیادت کرنے والے زیرک نوجوان، جو بعد ازاں پیپلز پارٹی کی مرکزی صف اور ملک کے سب سے حساس ادارے (انٹیلی جنس بیورو) کے سربراہ بنے۔

16؛ڈاکٹر طاہر القادری: پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت سے تنظیمی وابستگی رکھنے کے بعد اپنی الگ فکری اور مذہبی سلطنت (تحریکِ منہاج القرآن و پاکستان عوامی تحریک) کے بانی بنے۔

17؛حافظ محمد سعید: اپنے طالب علمی کے دور میں اسلامی جمعیت طلبہ کے سرگرم ناظم رہے، لیکن بعد ازاں جماعت کی مسلکی اور سیاسی روش سے ہٹ کر اپنی الگ جہادی و فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی۔اب گذشتہ تجربات کی بنا پر بطور تفنن عرض کروں، کہ اگے جماعت کے درجہ اعلی پر فائز مولانا عبدالاکبر چترالی ،محترم لیاقت بلوچ اورعنایت اللہ خان کب تک جماعت کے پابند سلاسل رہتے ہیں یا مستقبل قریب میں ان کا بھی سیاسی قبلہ کچھ اور ہوگا یا نہیں یہ وقت بتائے گا ۔

یہ المیہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک عمیق تنظیمی و نفسیاتی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب کسی جماعت کے شب و روز طویل ترین مجالسِ شوریٰ، بے لچک تنظیمی قدغنوں اور غیر عملی ناصحانہ اندازِ فکر کی نذر ہو جائیں، تو متحرک اور عملی سوچ رکھنے والے رہنما گھٹن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ افراد کا ظاہر و باطن ایک نہ ہونا، یا شاید قیادت کی عملی سیاست سے کنارہ کشی اور صرف اصولی مواعظ تک محدود رہنے کی روش، اس فکری سرمائے کے اخراج کا سبب بنی۔ جماعت اسلامی ایک ایسی وسیع اور مردم خیز نرسری ضرور ثابت ہوئی جس نے شجر کاری کی انتھک محنت اٹھائی، مگر جب پھل چننے اور فصل کاٹنے کا وقت آیا، تو اس کی مساعی کا سارا شیریں رس حریف جماعتوں کی جھولی میں جا گرا۔یہ محض ناموں کی فہرست نہیں بلکہ ایک دردناک تاریخی گواہی ہے کہ کس طرح فکری کوکھ سے جنم لینے والی نابغہ روزگار شخصیات نے غیروں کے آنگن میں جا کر شہرت، اقتدار اور قومی خدمت کے چراغ جلائے۔ تاریخ کی ستم ظریفی اور وقت کا تازیانہ دیکھیے کہ کل جس احسن اقبال کی فکری بنیادیں اسی دبستان کی تربیت گاہوں میں رکھی گئیں، آج وہی شخص حکومتی مسندِ اقتدار کا نمائندہ بن کر منصورہ کی دہلیز پر بحیثیتِ مذاکرات کار قدم رنجہ ہوتا ہے۔ جس درسگاہ نے ریاست کے ناخدا تراشے، وہ خود وقت کے حاکموں سے مطالبات کی منظوری کے لیے کشکولِ احتجاج سنبھالے بیٹھی ہے۔ یہ ایک منظر ہی جماعت کے فکری جمود اور تنظیمی بانجھ پن کا نوحہ سنانے کے لیے کافی ہے۔اب وقت شکوۂ صیاد سے نکل کر اپنے گریبان میں جھانکنے کا ہے۔ جماعتِ اسلامی کو اپنے بند کمروں اور روایتی مجالس سے باہر نکل کر بے لاگ خود احتسابی کرنا ہوگی۔ الفاظ کے تقدس اور کردار کی طہارت کے دعوے اپنی جگہ، مگر جب تک ظاہر و باطن کا تضاد، لگی لپٹی حکمتِ عملیاں اور بے فیض تنظیمی اصولوں کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی، یہ جماعت عوامی سیاست کے افق پر طلوع نہیں ہو سکتی۔ عوامی نبض سے بے گانہ قیادت اگر اب بھی خوابِ غفلت سے بیدار نہ ہوئی، تو یہ تاریخ کا کڑا فیصلہ ہوگا کہ تم نے خود اپنے ہاتھوں سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے دینی، فکری اور سماجی روشن ورثے کو بے روح سیاست کی نذر کر کے منوں مٹی تلے دفن کر دیا۔

راہِ عمل اب دو ٹوک اور واضح فیصلے کی متقاضی ہے تنظیمی بندشوں، دوغلے سیاسی بیانیوں اور مبہم حکمتِ عملی کو خیرباد کہہ کر عملیت پسندی اور جرات مندانہ سیاسی افق پر کھل کر قدم رکھا جائے، تاکہ تربیت یافتہ رجالِ کار اپنی ہی چھت تلے ریاست کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔یا پھر اقتدار اور سیاست کے اس بے رحم ریگزار کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا جائے، اور الخدمت فاؤنڈیشن جیسے درخشاں فلاحی ادارے کو اپنی تمام تر تنظیمی صلاحیتوں کا مرکز بنا کر ایک بے داغ سماجی تحریک کے طور پر خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیا جائے۔نصف صدی سے جاری بے سمت نیم دلی کا تماشا اب ختم ہونا چاہیے۔ جب مصلحتیں نظریے کا گلا گھونٹ دیں اور تربیت گاہیں اجڑ کر دوسروں کے کارواں سجانے لگیں، تو بقا کا سفر محض نعروں سے طے نہیں ہوتا۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو