اشرافیہ کے محلات، بیت المال کی امانت اور سسکتی ہوئی رعایا ۔۔۔۔تحریر : حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
تاریخ کے اوراق جب بھی کسی زوال پذیر معاشرے کی داستان رقم کرتے ہیں، تو ان میں سب سے نمایاں باب حکمران طبقے کی بے حسی اور عوام کی محرومی کا ہوتا ہے۔ آج پاکستان جس معاشی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، جہاں خطِ غربت تلے دبے کروڑوں انسان دو وقت کی روٹی کے لیے بلک رہے ہیں، وہیں اقتدار کے ایوانوں اور سوشل میڈیا کے پردوں پر نمودار ہونے والی شاہ خرچیوں کی داستانیں دل کو دہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔
ایک طرف معیشت کی بحالی کے بلند بانگ دعوے ہیں اور دوسری طرف شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کا یہ عالم ہے کہ نجی دوروں کے لیے اربوں روپے مالیت کے طیاروں، لاکھوں روپے فی گھنٹہ کے ایندھن اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پارکنگ کے بھاری اخراجات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ خاندانی تقریبات اور نجی آسائشوں کے لیے سرکاری کروفر کا ایسا مظاہرہ دیکھ کر گمان ہوتا ہے جیسے اشرافیہ میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کا مقابلہ جاری ہو۔ دوسری جانب ایوانوں میں بیٹھے قانون ساز لاکھوں روپے مراعات کے باوجود روتے نظر آتے ہیں کہ ان کا گزارہ نہیں ہو رہا۔ یہ کیسا تماشا ہے کہ جس مزدور کے ٹیکس اور خون پسینے کی کمائی سے یہ آسائشیں خریدی جاتی ہیں، اس کا چولہا بجھ چکا ہے اور بچوں کی دوائی کے پیسے میسر نہیں۔ لاؤ لشکر اور پروٹوکول کے یہ قافلے اس بات کو فراموش کر بیٹھے ہیں کہ اقتدار کا تخت سلیمان علیہ السلام کی ہواؤں پر نہیں، عوامی اعتماد کی نازک ڈور پر قائم ہوتا ہے۔
کاش ہمارے اربابِ اقتدار اسلامی تاریخ کے اس تابناک باب کا مطالعہ کرتے جس کے روشن مینار عمر ثانی، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔ وہ حکمران جن کے دور میں خلافت کا رقبہ لاکھوں مربع میل پر پھیلا تھا، مگر احساسِ زیاں کا یہ عالم تھا کہ ایک رات جب سرکاری دفتر میں بیت المال کے چراغ کی روشنی میں امورِ خلافت نمٹا رہے تھے، تو خادم نے گھریلو اور ذاتی بات شروع کی۔ آپؒ نے فوراً چراغ گل کر دیا اور اپنے ذاتی پیسوں سے خریدا ہوا دوسرا چراغ جلایا۔ پوچھا گیا تو جواب دیا کہ پہلے چراغ کا تیل مسلمانوں کے مشترکہ سرمائے سے تھا، جب بات ذاتی نوعیت کی ہوئی تو میرا ضمیر گوارا نہ کر سکا کہ امت کے وسائل اپنی ذات پر خرچ کروں۔
یہ وہی حکمران تھے جن کے سامنے جب بیت المال کا مشک تولنے کے لیے لایا گیا تو انہوں نے اپنے نتھنے بند کر لیے۔ خدام کے استفسار پر فرمایا کہ مشک سے خوشبو کے سوا اور کیا حاصل ہوتا ہے؟ اگر میں نے یہ خوشبو سونگھ لی تو میں نے اپنے حق سے زیادہ مسلمانوں کے مال سے فائدہ اٹھا لیا۔ یہ وہی خلیفہ تھے جنہوں نے مسندِ اقتدار پر قدم رکھتے ہی اپنی رفیقۂ حیات سیدہ فاطمہ بنت عبدالملک سے کہا کہ شاہی خزانے سے ملے ہوئے قیمتی زیورات اور ہار یا تو بیت المال میں جمع کروا دو یا مجھ سے جدا ہو جاؤ، کیونکہ ایک ہی چھت تلے مسلمانوں کا مال اور میرا وجود اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ اور جب خلیفہ سلیمان بن عبدالملک کی تدفین کے بعد شاہی اصطبل کے بہترین گھوڑے ان کے سامنے پیش کیے گئے تو انہوں نے نگاہ پھیر لی، اپنے معمولی خچر کو ترجیح دی اور تمام شاہی گھوڑے اور خیمے عام مسلمانوں کی فلاح کے لیے وقف کر دیے۔
ذاتی احتیاط اور کفایت شعاری کی قدریں وہی سمجھ سکتا ہے جس کے دل میں عوامی پیسے کا تقدس ہو۔ مجھے 1998ء کا ایک واقعہ یاد آتا ہے جب شوکت خانم ہسپتال میں عمران خان سے ایک مختصر ملاقات کا موقع ملا۔ میرے گاؤں کے چند احباب وہاں کام کرتے تھے، خان صاحب نے نہایت شفقت سے ان سے کہا کہ “یہ چترال سے مہمان آئے ہیں، انہیں چائے پلائی جائے اور ساتھ چھوٹا سا بسکٹ دے کر ہسپتال کا وزٹ کروا دیا جائے۔” اس معمولی سے واقعے اور “چھوٹے سے بسکٹ” کے جملے نے مجھ پر یہ بات واضح کر دی کہ عوامی اعتماد اور خیراتی فنڈز سے چلنے والے ادارے میں ایک ایک پیسے کی کفایت شعاری کس درجے کی اہمیت رکھتی ہے؛ کیونکہ دیانت داری کا آغاز چھوٹی چیزوں کے تحفظ سے ہی ہوتا ہے۔
آج کی مقتدر اشرافیہ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے اور لحد کا اندھیرا ابدی۔ جب شاہی پروٹوکول، غیر ملکی نجی پروازیں اور اقتدار کے سائے ختم ہو جائیں گے تو اس بارگاہِ الٰہی میں کیا جواب پیش کیا جائے گا جہاں ایک ایک پیسے کا حساب دینا ہے؟ غریبوں کی فاقہ کشی اور سسکیاں اگر بددعا بن کر فضا میں بکھر گئیں تو یہ محلات تنکوں کی طرح بکھر جائیں گے۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ حکمرانوں کا اصل حسن ان کے پروٹوکول میں نہیں بلکہ ان کی سادگی، عدل اور رعایا کے دکھ درد کے احساس میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں اور عوام کی سفید پوشی کا مذاق اڑانے کے بجائے اپنے پیش روؤں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امانت و دیانت کو اپنا شعار بنائیں۔