چراغِ راہِ زیست ونقشِ دوام استاد محترم سنجاب نواز خان مرحوم کی درخشندہ یادیں ۔۔۔تحریر ۔۔۔حافظ نصیراللہ منصور چترالی
زمانے کی روشیں بدلتی رہتی ہیں، صدیاں نئی یادوں کو جنم دے کر پرانی یادوں پر خاک ڈالتی چلی جاتی ہیں، مگر بعض ہستیاں لوحِ دل پر ایسے انمٹ نقوش ثبت کر جاتی ہیں جنہیں وقت کی تیز رو ہوائیں بھی دھندلا نہیں سکتیں۔ ان کی یاد مشکِ نافۂِ غزال بن کر ذہن و قلب کے گوشوں کو ہر دم معطر رکھتی ہے۔ وہ صرف کتاب کے اوراق پلٹوانے والے نہیں ہوتے، بلکہ اپنے فکرو عمل، تدبر اور کردار کی حلاوت سے نوخیز کلیوں کو تناور برگ و بار درخت بنانے کا فن خوب جانتے ہیں۔ ایسے ہی گوہرِ نایاب، معلمِ باکمال اور ہمہ جہت شخصیت گورنمنٹ ہائی سکول ذوندرانگرام کے سابق ہیڈ ماسٹر، میرے مشفق استاد اور شفیق مربی سنجاب نواز خان مرحوم تھے۔ طلبہ اور علاقہ انہیں عقیدت و محبت سے “ہیڈ استاد” کہہ کر پکارتے تھے۔
مختصر مگر مضبوط ڈیل ڈول، کالی گھنی پروقار داڑھی، چہرے پر تمکنت اور متانت کا عمیق سمندر اور ہاتھ میں ایک چھوٹی باریک چھڑی۔ ان کی شخصیت اس قدر باوقار، رعب دار اور پرجلال تھی کہ ان کے سامنے آتے ہی دلوں میں خود بخود عقیدت و ہیبت کی ملی جلی لہر دوڑ جاتی۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک بہترین منتظم، فرض شناس افسر اور علم کی شمع فروزاں رکھنے والے بیدار مغز استاد تھے۔ سکول کی حدود میں ان کا نظم و ضبط مثالی تھا، انتظامی امور پر گرفت اتنی مضبوط کہ مجال تھی کہ کوئی ضابطہ اپنی جگہ سے جنبش کھا سکے۔ ان کا رعب اور دبدبہ کسی جبر و استبداد کا محتاج نہ تھا، بلکہ یہ ان کے اپنے کردار، وقار اور داخلی سحر کا مظہر تھا جسے دیکھ کر طلبہ تو کیا، گرد و پیش کے لوگ بھی سراپا احترام بن جاتے۔ کمالِ ظرف دیکھیے کہ ان کے ہاتھ میں باریک چھڑی ان کے دستِ مبارک کا فقط ایک روایتی سہارا بن کر رہتی تھی، تدریسی زندگی کے پورے سفر میں کسی نے اس چھڑی کو شاگردوں کے خلاف حرکت میں آتے نہ دیکھا اور نہ ہی کبھی ان کے لبوں پر تند و تلخ ڈانٹ سجی۔ مگر یہ ان کی باطنی ہیبت کا فیضان تھا کہ ان کے سامنے کھڑے ہوتے ہی قدم لرزنے لگتے اور دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتیں۔
سکول کے اوقات کے بعد جب ہم اپنی بچکانہ اور شوخ فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر شکار کی غرض سے غلیلیں بغل میں دبائے دیوانہ وار نکلتے اور دور سے ہیڈ استاد کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوتی، تو ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے۔ سب سے پہلے غلیلیں چھپائی جاتیں تاکہ استاد کے روبرو اس کج روی کی شرمندگی نہ اٹھانی پڑے، حالانکہ وہ نہ محاسبہ کرتے تھے اور نہ ہی بے جا سرزنش۔ اس زمانے میں استاد کے تقدس کا یہ عالم تھا کہ ننگے سر ان کے پاس سے گزر جانا ہم اپنے لیے انتہائی معیوب اور گناہِ کبیرہ سمجھتے تھے۔ اگر کبھی نادانی میں ایسا اتفاق رونما ہو جاتا تو ہم اپنی خفت مٹانے کے لیے کسی چٹان، موڑ یا جھاڑی کی اوٹ میں دبک جاتے۔ اور ہیڈ استاد کا حسنِ التفات بھی کیا غضب تھا! وہ اس شانِ عفو و درگزر اور تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے خاموشی سے گزر جاتے جیسے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔ ہم نادان اپنی سادگی میں سمجھتے کہ ہم نے استاد کو غچہ دے دیا، مگر استاد کی دور رس نگاہیں شاگردوں کے بھرم کو قائم رکھنے کا گُر خوب جانتی تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ شاگرد کو شرمندگی کے اندھیروں میں دھکیلنے کے بجائے اس کی حیا کی حفاظت کرنا ہی اصل تربیت ہے۔
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو اداب فرزندی
مگر یہی ہیڈ استاد، جن کا سکول کے اوقات میں ایسا رعب تھا کہ پرندے بھی پر تولتے ہوئے جھکیں، سکول کے پھاٹک سے باہر قدم رکھتے ہی ایک بالکل نئے روپ میں ڈھل جاتے۔ مسکراہٹیں ان کے لبوں کا زیور بن جاتیں اور مجلس آرائی ان کا خاصہ۔ جب سکول کے اوقات کے بعد محترم مولانگاہ نگاہ صاحب مرحوم، سابق ممبر لوکل کونسل مرحوم شیر گلاب صاحب اور گاؤں کی زندہ دل اور ظریف الطبع شخصیت مرحوم پردم بیگ ایک جگہ اکٹھے ہوتے، تو محفل زعفران زار بن جاتی۔ سنجیدہ گفتگو کے پردے سے ایسے لطیف، نفیس اور پاکیزہ ادبی فقرے اور قہقہے پھوٹتے کہ مجلس کو چار چاند لگ جاتے۔ بعد ازاں جب وہ اپنی دکان میں جلوہ افروز ہوتے تو وہ دکان کسی روایتی کاروباری دکان کے بجائے ایک ادبی نشت گاہ کا منظر پیش کرتی۔ شائقینِ علم و ادب اور محبانِ سخن جوق در جوق کھنچے چلے آتے، اور وہاں سے پھوٹنے والے قہقہوں اور خوش گپیوں کی گونج فضا کے ماتھے پر سدا بہار شگفتگی بکھیرتی رہتی۔
ہیڈ استاد محترم سنجاب نواز خان مرحوم کی تمام تر زندگی صرف اور صرف تعلیم اور تدریس کے لیے وقف تھی۔ روایتی دیہاتی مصروفیات، کھیتی باڑی اور زمینداری جیسے مشاغل سے ان کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہ تھا۔ درس و تدریس ہی ان کا اوڑھنا اور بچھونا تھا۔ ان کا پورا تدریسی سفر گورنمنٹ ہائی سکول ذوندرانگرام تریچ کے سایہ تلے بسر ہوا۔ اپنے پورے کیریئر میں ان کی حاضری کا تناسب شاید ہی کبھی سو فیصد سے کم رہا ہو۔ خاص طور پر اردو ادب سے ان کا رشتہ خون کی رگوں کی طرح گہرا تھا۔ اردو ان کا سب سے پسندیدہ مضمون تھا اور زبان و بیاں کے پیچ و خم، گرامر کی باریکیوں اور فصاحت و بلاغت پر انہیں یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ بندۂ ناچیز کو بھی آٹھویں، نویں اور دسویں جماعت میں ان کے درِ دولت پر زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل ہوا اور زبان و سخن کی سوجھ بوجھ انہی کے فیضِ نظر سے نصیب ہوئی۔ وہ اپنی شاندار اور لازوال پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے ہوئے بالآخر گورنمنٹ ہائی سکول لونکوہ کے ہیڈ ماسٹر کے منصبِ جلیلہ سے سبکدوش ہوئے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد کے ایام جسمانی عوارض، شوگر اور بلڈ پریشر کی نذر ہو گئے۔ مگر جسم کمزور ہوا تھا، ان کی روحانی چمک اور شفیق لہجہ بدستور برقرار تھا۔ایک سفر کی روداد ذہن میں آیا جو کہ نذر قارئیں ہے استاذ محترم کی وفات سے قریباً دو سے تین سال قبل وہ علاج و معالجے اور طبی چیک اپ کی غرض سے پشاور جانے ارادہ کیا ہوا تھا، تو حسنِ اتفاق سے تریچ سے چترال جاتے ہوئے گاڑی میں مجھے ان کی ہم سفری کا عظیم شرف نصیب ہوا۔ ان کے ساتھ ان کے برخوردار غلام محمد بھائی بھی ہمراہ تھے۔اس وقت میں لاہور کی طرف سفر پر روانہ تھا اور وہ علاج کی تگ و دو میں۔ جب ہم لوئر چترال پہنچے تو استاد محترم نے کمالِ اپنائیت سے دریافت کیا: “کیا چترال میں قیام کا ارادہ ہے؟” میں نے ادب سے سر جھکاتے ہوئے عرض کی: “استاد محترم! جہاں آپ کا حکم ہو، سر آنکھوں پر۔ ویسے کوئی خاص کام نہیں، اس لیے یہاں ٹھہرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔” استاد محترم کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی اور فرمایا: “پھر تو میرا بھی کوئی ضروری کام نہیں، چلو اکٹھے ہی پشاور چلتے ہیں۔”
وہ سفر کیا تھا، گویا علم و ادب، شفقت اور ماضی کے خوشگوار دریچوں کی ایک زندہ سیرگاہ تھی۔ استاد کی دعاؤں کے سائے میں طے ہونے والا یہ طویل مسافت کا لمحہ لمحہ میری زندگی کے حسین ترین سرمایوں میں بدل گیا۔ پشاور پہنچ کر ہم جدا ہوئے لیکن یہ سفر بڑا یاد گار رہا ۔ پھر جب اگلے برس گرمیوں کی چھٹیوں میں مجھے لاہور سے اپنے آبائی گاؤں تریچ آنے کا موقع ملا، تو میں قدم بوسی کے لیے استاد محترم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ استاد محترم نے مجھ ناچیز کو سینے سے لگایا اور اسی سفر کو اپنی حیاتِ مستعار کا ایک یادگار، پُرسکون اور دلنواز سفر قرار دیتے ہوئے لبریز دعاؤں سے نوازا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ مشفق مسکراہٹوں اور پُراثر دعاؤں کے حصار میں لپٹی ہوئی یہ ملاقات میری اور ان کی آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
استاد محترم سنجیدہ طبع، یکسو اور اپنے کام سے کام رکھنے والے باوقار انسان تھے۔ سکول کی چاردیواری اور طلبہ کی فکری نشوونما کے علاوہ انہوں نے کبھی کسی بے مصرف سرگرمی میں وقت ضائع نہ کیا، یہی خودداری اور خود اعتمادی تھی جس نے انہیں ہر طبقہ فکر کے دل میں ہر دلعزیز اور معتبر بنایا۔میرے ساتھ ان کا تعلق ایک استاد اور شاگرد کے ساتھ ساتھ پیار و محبت کا تھا چونکہ اردو نگاری میں اپنے استاد محترم کے قریب رہتا تھا اور ان سے رہتمائی لیتا تو غایت شفقت سے رہتمائی فرماتے۔
آج استاد محترم ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کے دیے ہوئے علم کا اجالا، ان کا مسکراتا چہرہ اور ان کی خاموش تربیت ہمارے دلوں میں سدا زندہ رہے گی استاد محترم ایک ولولہ انگیر مگر خاموش علم کا چراغ روشن کرتے کرتے 12اگست 2008ء کو اس دار فانی سے دارالبقاء کی طرف سفر کرگئے ۔
اللہ تبارک و تعالی استاد محترم کے مرقد کو انوار و تجلیات سے بھر دے، ان کی لحد پر اپنی بے پایاں رحمتوں کے پھول نچھاور فرمائے اور اگلی تمام منزلوں کو آسان و کشادہ فرمائے۔ بارگاہِ رب العزت میں التجا ہے کہ ان کے تمام علمی و تدریسی اعمال کو شرفِ قبولیت عطا فرما کر ان کے درجات کو بلند کرے، بشری کمزوریوں کو اپنی بے پایاں مغفرت سے ڈھانپ کر حسنات میں بدل دے اور انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ علیین میں اپنے محبوبین کے سنگ جگہ مرحمت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو دنیا و آخرت میں سروخرو فرمائیں۔ آمین یا رب العالمین!
