سوادِ تریچ کا درخشاں ستارہ۔معلمِ باکمال، مشفقِ بے مثال ۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
Nawaichitral@gmail.com
وہ محض میرے استاد ہی نہ تھے بلکہ ایک بے تکلف شفیق دوست اور روحانی و دینی رہنما بھی تھے اور میرے جیسے ہزاروں تشنگان علم نبویہ کے استاذ اور مربی تھے۔ چہرے پر ہمہ وقت کھیلتی ہوئی پُرخلوص مسکراہٹ، نحیف و نزار لیکن چست و توانا جسم اور علم و تدریس سے بے پناہ جنوں خیز وابستگی ان کی شخصیت کا طرۂ امتیاز تھی۔ تدریس اور مطالعے سے ان کا شغف اس درجے کو پہنچا ہوا تھا کہ وہ امورِ خانہ داری اور زمینداری کے بکھیڑوں سے بالکل بے نیاز رہا کرتے تھے۔ کتابیں ان کی روح کی غذا اور طلبہ سے شفقت ان کی سرشت میں داخل تھی۔ ان کی مجالس آیاتِ بینات اور محکمات کے نور سے روشن رہتیں، جہاں اہلِ علم اور تشنگانِ علم بڑی محبت و عقیدت سے سمٹ آتے۔ دینی فقہ اور شرعی مسائل پر انہیں وہ کامل دسترس حاصل تھی جو ایک جید عالمِ دین کا خاصہ ہوتی ہے۔
یہ غالباً بیسویں صدی کے پانچویں عشرے (1950ء کی دہائی) کا ذکر ہے، جب دینی مدارس کا کوئی باضابطہ و مربوط نظام عام نہیں تھا۔ اس دور میں تشنگانِ علم اپنی پیاس بجھانے کے لیے بستی بستی خاک چھانتے اور مختلف اساتذہ کے درِ دولت پر سالہا سال زانوئے تلمذ تہہ کرتے۔ استادِ محترم نے بھی چترال، دروش اور پشاور کی مساجد کے گوشوں میں رہ کر علومِ نبویہ کی غیر رسمی مگر ٹھوس تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں راولپنڈی میں جلیل القدر عالمِ دین مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی صحبتِ بابرکت سے خوب فیض یاب ہوئے۔ غضب کا حافظہ پایا تھا؛ فقہِ حنفی کی مستند ترین کتب مُنیۃ المصلی، خلاصۃ الفتاویٰ، کنز الدقائق، قدوری اور ہدایہ کے پیچیدہ جزئیات و مسائل ان کے ذہن کے گوشوں میں ازبر تھے۔ ان کا تعلق وادیِ تریچ کے ایک مایہ ناز اور جید علمی خانوادے سے تھا، اور ان کے والدِ گرامی خود تریچ کے ایک عظیم مبلغ و استاد تھے جن کے خاندان نے اس وادی میں دینی و فکری علوم کے چراغ روشن کیے تھے۔اس خانوادے میں جب آنکھ کھولی تو ان کے والد اقدس نے ان کا نام شمس الاسلام رکھا جو بعد میں معلم استاد کے نام سے مشہور ہوئے اور آج تک لوگ معلم استاد کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
استادِ محترم جس محفل میں قدم رکھتے، وہ زعفران زار بن جاتی۔ بزرگوں کا ادب، اہلِ دیہات کی مزاج پُرسی اور باہمی خیر خواہی ان کی فطرتِ ثانیہ تھی۔ ان کا یہ دلکش اور ظریفانہ انداز اہل محلہ کے دلوں میں بسا ہوا تھا کہ جب بھی کسی کے در پر دستک دیتے تو بلند اور پُرشوق آواز میں فرماتے:
“مولانا شمس الاسلام المعروف تورینو معلم استاد رونق افروز ہوئے ہیں اور اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں!”
صبح سکول کی راہ لیتے تو راستے میں آنے والے پڑوسیوں کے دروازے کھٹکھٹا کر ان کی خیریت دریافت کرنا ان کا روزمرہ کا معمول تھا۔
اسکول کی طویل تعطیلات میں وہ عموماً پشاور، اسلام آباد، کراچی اور لاہور جیسے شہروں کا رخ کرتے۔ ایک مرتبہ جب وہ لاہور تشریف لائے تو کمالِ بندہ پروری فرماتے ہوئے میرے غریب خانے پر قیام فرمایا اور اپنی ظریفانہ اور پُرمغز گفتگو سے محفل کو مسلسل گرمائے رکھا۔ جب انہوں نے چترال واپسی کی اجازت چاہی تو میں نے اصرار کرتے ہوئے عرض کیا: “استادِ محترم! کم از کم ایک ہفتہ مزید قیام فرمائیے۔” مسکرا کر برجستہ فرمانے لگے: “پھر تو میرا دل یہاں سے جانے کو نہیں چاہے گا! ہم پہاڑوں کے باسی اور دیہاتی لوگ ہیں، ہمیں شہری آسائشوں کا عادی نہ بناؤ ورنہ تمہارے لیے سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔” ایک اور واقعہ یاد آیا یہ بھی آپ سے شئیر کرناچاہوں گا یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سردیوں کی ایک ٹھٹھرتی شام، پنجاب کے کسی دور دراز گاؤں سے استادِ محترم کے ساتھ ہمار ایک دیرینہ شناسا مہمان بن کر تشریف لائے۔ جھاڑے کی لمبی رات، گرما گرم چائے کی پیالیاں اور دیہی سادگی سے بھرپور قصے؛ محفل ایسی جمی کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا۔ رات گئے جب باتوں کا سلسلہ تمام ہوا، تو دونوں حضرات خوابِ خرگوش کے مزے لینے کے لیے اپنے اپنے بستروں پر دراز ہو گئے۔
اگلی صبح جب استادِ محترم بیدار ہوئے تو ان کے چہرے پر تھکن اور شگفتگی کا ایک عجیب سا امتزاج تھا۔ میں نے رسمی طور پر ادب سے دریافت کیا:
”استادِ محترم! رات کیسی گزری؟ خیریت سے تو رہے؟“
استاد صاحب کے لبوں پر ایک پُرمعنی مسکراہٹ ابھری اور وہ نہایت ظریفانہ انداز میں فرمانے لگے:
”بھئی! رات کیا گزری، یوں سمجھیے کہ ہم کسی مصروف ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر رات بسر کر رہے تھے۔“
میرے استفسار پر معلوم ہوا کہ معزز مہمانِ گرامی جب نیند کی وادی میں اترے، تو ان کے حلق سے ایسے فلک شگاف اور بے ہنگم خراٹے نکلنے لگے جیسے کوئی پرانا بھاپ والا انجن پٹڑی پر چنگھاڑتا ہوا دوڑ رہا ہو۔
استاد صاحب نے مسکراتے ہوئے مزید احوال سنایا:
”ہم نے رات کے پہلے پہر ہی نیند کی دیوی کو منانے کی بڑی سعی کی۔ حتیٰ کہ وہ روایتی ٹوٹکا بھی آزما دیکھا اور چپکے سے جا کر ان کے جوتے الٹ دیے کہ شاید اس سحر سے یہ نغمہ سرائی تھم جائے، مگر وہاں تو سر اور تال میں رتی برابر فرق نہ آیا۔ آخرکار ہم نے بھی صورتِ حال سے مکمل صلح کر لی، دل کو تسلی دی کہ ہم اپنے بستر پر نہیں بلکہ ریلوے اسٹیشن کے ویٹنگ روم میں لیٹے ہیں، اور اسی تصور کے سہارے جیسے تیسے صبح کر لی۔“
ایک جہاں دیدہ اور شہر گشتہ استاد ہونے کی بدولت پورے چترال کے معززین اور عمائدین سے ان کے قریبی مراسم تھے۔ وہ ہر خاص و عام کو محبت و یگانگت سے پکارتے۔ شگفتہ بیانی، برجستہ محاورات کا برمحل استعمال اور علمی نکات پر گہری گفتگو ان کی فکری پختگی کا واضح ثبوت تھے۔ وہ ایک ایسے منفرد خطیب تھے جن کے بیان میں سنجیدہ علمی مضامین ظرافت کی چاشنی میں لپٹے ہوتے۔ جمعۃ المبارک کے خطبات میں وہ اس قدر دقیق علمی اور فقہی مباحث چھیڑتے کہ صرف اہلِ علم اور پڑھے لکھے حضرات ہی اس کے مفاہیم کی تہہ تک پہنچ پاتے۔
اسی حوالے سے ایک دلکش واقعہ یاد آتا ہے؛ ہمارے گاؤں کے ایک معروف مجذوب صفت بزرگ ‘افس بیگ چچا’ (جو میرے اور استادِ محترم کے پڑوسی بھی تھے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے) ایک جمعہ کے بعد ہمارے ہمراہ لوٹ رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: “چچا! آج معلم استاد کا بیان کیسا لگا؟” وہ اپنے مخصوص تکیہ کلام کے ساتھ معصومیت سے بولے: “او قوت برار! معلم جب منبر پر بیٹھتا ہے تو نہ جانے اس پر کیا کیفیت طاری ہو جاتی ہے، شاید مراقبے میں فرشتوں سے ہم کلام ہوتا ہے، ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا!” ان کی یہ بات دراصل استادِ محترم کے اسی بلند پایہ علمی اسلوب کی غماز تھی جسے سن کر اہل علم جھوم اٹھتے تھے۔
جب گاؤں میں کوئی معزز مہمان وارد ہوتا، اہل دیہات مجلس کو پُررونق بنانے کے لیے معلم استاد کو ضرور زحمتِ تشریف آوری دیتے۔
استادِ محترم کا ذوقِ سخن بھی کمال کا تھا۔ گفتگو میں مولانا روم کی پُرحکمت مثنوی، دیوانِ بیدل اور بالخصوص شیخ سعدیؒ کی گلستان و بوستان کے اشعار یوں بے ساختہ سناتے گویا یہ تمام شاہکار ان کے لوحِ دل پر نقش ہوں۔ یہ اشعار ان کے کلام کا جزوِ لاینفک تھے۔ ان تمام اوصاف کے ساتھ ساتھ، کلامِ مجید سے ان کا والہانہ عشق قابلِ رشک تھا۔ جب وہ اپنی پرسوز اور دلکش آواز میں قرآنِ حکیم کی تلاوت فرماتے تو ان کے نغمۂ لحن کی گونج وادیِ تریچ کے کوہساروں میں سنائی دیتی اور راہگیر رک کر اس روح پرور تلاوت سے محظوظ ہوتے۔ سکول سے ریٹائر منٹ کے بعد حج بیت اللہ کی ادائیگی کی اور مکمل خانہ نشینی اختیار کر لی تھی زیر نظر تصویر معلم استاد کے جوانی کی ہے اور حج پر جاتے ہوئے اپنے پاسپورٹ پر لگائی تھی جہاں سے ہم نے اخذ کیا اور قارئیں کے لئے پیش خدمت ہے بہرحال پیرانہ سالی اورعمر کے آخری پڑاؤ اور کہن سالی میں بھی ان کے مزاج کا شگفتہ پن ماند نہ پڑا۔ بالآخر علم و عمل، فکر و نظر اور حلم و ظرافت کا یہ ٹھاٹھیں مارتا سمندر سنہ 2013ء میں اس دارِ فانی سے دارِ بقاء کی جانب کوچ کر گیا، مگر ان کی علمی یادیں اور دلنواز نقوش آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ و تابندہ ہیں۔ان کا مزار جامع مسجد موڑین ذوندرانگرام کے سامنے موجود ہے
بارگاہِ ایزدی میں دستِ دعا ہے کہ وہ علم و حکمت کے اس درخشاں آفتاب کی روحِ پاک کو اپنے قربِ خاص میں ابدی راحت، سکون اور سرور سے سرفراز فرمائے۔ الٰہی! ان کی لحد کو اپنے انوار و تجلیات کا مسکن بنا، ان کی تربت پر رحمت و غفران کی دائمی شبنم برسا اور انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ علیین میں اپنے برگزیدہ بندوں، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت عطا فرما۔
اے غفور و رحیم پروردگار! بشری کمزوریوں کے باعث سرزد ہونے والی جملہ لغزشوں اور خطاؤں سے درگزر فرماتے ہوئے ان کی دینی، علمی اور تدریسی خدمات، ریاضتوں اور جملہ حسنات کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں درجۂ قبولیت بخش۔ ان کی آرام گاہ کو تاابد مہکتی، پُرنور اور رضوان کے شاداب باغوں کا ایک دلکش گلشن بنا دے۔
یا رب العالمین! ان کے روشن کردہ علمی و روحانی چراغ کو ان کے بعد بھی فروزاں رکھ، ان کے خلف و اولاد کو اپنے دینِ مبین کی خدمت، ترویجِ حق اور اخلاقِ حسنہ کا پیکر بنا کر ان کے لیے صدقۂ جاریہ اور نجات کا مستقل وسیلہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین، بجاہِ سید المرسلین خاتم النبیین ﷺ۔
