Skip to content

مدینہ منورہ کے انوارات میں سے ۔۔۔۔ قسط 6۔۔۔تحریر ۔۔۔۔حافط نصیر اللہ منصور چترالی

مدینہ منورہ کے انوارات میں سے ۔۔۔۔ قسط 6۔۔۔تحریر ۔۔۔۔حافط نصیر اللہ منصور چترالی
انوارِ مدینہ: سوق المناخہ اور مساجدِ خلفائے راشدینؓ کا تاریخی و ادبی تذکرہ
مدینہ منورہ کی مٹی کا ہر زرہ تاریخِ اسلام کے کسی نہ کسی درخشاں باب کا امین ہے۔ مسجدِ نبویؐ کے جوار میں دھڑکتی یہ بستی محض عمارتوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ عہدِ رسالت مآب ﷺ اور خلافتِ راشدہ کی عظمتوں کا ایک زندہ جاوید مرقع ہے۔ آئیے مدینۃ النبیؐ کے دل میں واقع چند ایسے ہی تاریخی اور روح پرور مقامات کا ادبی و تحقیقی سفر کرتے ہیں، جو صدیوں سے زائرین کے دلوں کو ایمان کی حرارت بخش رہے ہیں۔

11. سوق المناخہ: اسلامی معیشت کا پہلا نبوی مآخذ
مدینہ منورہ کا قدیم ترین اور تاریخی تجارتی مرکز “سوق المناخہ”، بیئر بضاعہ کے سامنے اور مسجدِ نبوی کے مغربی سمت میں پوری شانِ شوکت کے ساتھ واقع ہے۔ یہ صرف ایک بازار نہیں، بلکہ سیرتِ طیبہ کا وہ روشن اور متحرک باب ہے جہاں تاریخِ اسلام کی معاشی خود مختاری کی بنیاد رکھی گئی تھی۔
ہجرتِ مدینہ کے اوائل میں مدینۃ النبی کی معیشت پر یہودیوں کے بڑے بازاروں (جیسے سوق بنو قینقاع اور سوق بنو نضیر) کا غلبہ تھا۔ رحمت عالم ﷺ کی دور اندیش نگاہوں اور الہامی حکمتِ عملی کا تقاضا تھا کہ مسلمانوں کا اپنا ایک آزاد، خود مختار اور جاندار معاشی مرکز قائم ہو۔ چناچہ آپ ﷺ نے اس وسیع قطعۂ زمین کو مسلمانوں کے لیے بطورِ بازار منتخب فرمایا۔ دورِ رسالت میں دور دراز سے آنے والے تجارتی قافلے اسی جگہ اپنے اونٹ بٹھایا (مناخہ) کرتے تھے اور صحابہ کرامؓ اسی مقام پر دیانت داری اور اسلامی اصولوں کے تحت خرید و فروخت کرتے تھے۔
گویا ۱۴۰۰ سال قبل اسلامی معیشت کا جو پہلا گہوارہ سجا، وہ یہی سوق المناخہ تھا۔ آج بھی جب زائرین یہاں کا رخ کرتے ہیں، تو جدید تجارتی چہل پہل کے پیچھے انہیں قدیم عرب کلچر کی سادگی اور عہدِ صحابہؓ کی تجارتی برکات کا احساس ہوتا ہے۔

12 مسجدِ علی المرتضیٰؓ: بابِ علم کی یادگار
سوق المناخہ کے تاریخی راستوں سے ذرا آگے بڑھیں، تو فضائے مدینہ میں عقیدت کا ایک اور دلنشین مینار نظر آتا ہے جسے “مسجدِ علی المرتضیٰؓ” کہا جاتا ہے۔ یہ مبارک مقام خلافتِ راشدہ کے اس دورِ مسعود کی یاد دلاتا ہے جب شیرِ خدا، سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ مسندِ خلافت پر متمکن تھے۔

اپنے دورِ خلافت میں سیدنا علی المرتضیٰؓ اسی مقام پر عیدین کی نمازیں قائم فرمایا کرتے تھے۔ عید کی خوشیوں اور شکر گزاری کے اس نبوی و علوی سلسلے کی خوشبو آج بھی اس مسجد کے در و دیوار سے جھلکتی ہے، اور زائرین کے دلوں کو سیدنا علیؓ کی علمی و روحانی عظمت سے سرشار کرتی ہے۔

13 مسجدِ ابوبکر صدیقؓ: خلافتِ اولیٰ کی ضیا پاشی اور ایک تاریخی تصحیح
مسجدِ علیؓ سے چند قدم کے فاصلے پر رفعت و وقار کا شاہکار “مسجدِ ابوبکر صدیقؓ” جلوہ افروز ہے۔ یہ وہ مقامِ سعید ہے جہاں یارِ غار اور خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اپنے دورِ خلافت میں مسلمانوں کو عید کی نماز پڑھایا کرتے تھے اور خطبۂ عید کی امامت فرماتے تھے۔

ایک اہم اور دستاویزی تصحیح: زائرین اور عام لوگوں میں اکثر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ شاید یہ مسجد سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا جائے رہائش یا گھر تھا۔ تاریخِ مدینہ کے اوراق اس کی نفی کرتے ہیں۔ آپؓ کا اصل کاشانۂ اقدس مسجدِ نبوی شریف کے گیٹ نمبر ۲ (باب ابوبکر الصدیقؓ) کے عین پاس واقع تھا، جہاں آج بھی سنہری حروف میں ان کا نامِ نامی کندہ ہے۔ یہ مسجد تو دراصل ان کے عہدِ خلافت میں مصلائے عید ہونے کی بنا پر ان کے نام سے منسوب ہوئی۔

عثمانی طرزِ تعمیر کا شاہکار یہ ہے کہ اس تاریخی مسجد کے عالی شان دروازے پر فنِ خطاطی کا ایک حسین نمونہ موجود ہے، جس پر ۱۲۵۴ ہجری درج ہے۔ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ تقریباً ۱۹۴ سال قبل عثمانی سلطان، سلطان محمود ثانی نے اس مسجد کی ازسرِنو شاندار اور پائیدار تعمیر کروائی تھی، جو عثمانی سلاطین کی مدینہ منورہ اور شعائرِ اسلام سے والہانہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مدینہ منورہ کے یہ تاریخی مقامات محض پتھروں کے ڈھیر یا پرانی عمارتیں نہیں ہیں، بلکہ یہ وہ گواہ ہیں جنہوں نے اسلام کے عروج، صحابہ کرامؓ کے تقویٰ اور تاریخ کے دھاروں کو بدلتے دیکھا ہے۔ ان گلیوں میں چلنا گویا تاریخِ اسلام کے زندہ اور لازوال صفحات پر سفر کرنے کے مترادف ہے۔(جاری ہے) تحریر پسند آئے تو شیئر لائک اور کومنٹ کیجئے