مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد: اسلامی تاریخ اور تعمیراتی حسن کا انمول سنگم۔۔۔ قسط 7 ۔۔۔تحریر ۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
مدینہ منورہ کی مٹی کا ہر ذرہ اور اس کے گلی کوچوں میں پھیلی ہر عمارت اسلامی تاریخ کے سنہری ابواب کی امین ہے۔ جب کوئی زائر مسجد نبوی شریف کے انوار و تجلیات سے سیراب ہو کر باہر نکلتا ہے، تو اس کے گرد و نواح میں قائم تاریخی مساجد اسے عہدِ رسالت اور دورِ صحابہ کے ایمان افروز ماحول میں لے جاتی ہیں۔ ان مساجد کی زیارت محض سیاحت نہیں بلکہ تاریخِ اسلام کے ان اوراق کا مشاہدہ ہے جو صدیوں سے اسی آب و تاب کے ساتھ زندہ ہیں۔
مدینہ منورہ میں اسلامی تاریخ کی لازوال نشانیوں اور متبرک حوالوں سے متعدد تاریخی مساجد قائم ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنے اندر ایک الگ تاریخی داستان اور روحانی کشش رکھتی ہے۔ ان مساجد کی زیارت زائرین کو اسلام کے ابتدائی دور کے مجاہدانہ اور پرنور ماحول کی یاد دلاتی ہے۔
12۔ مسجد الغمامہ: مدینہ منورہ میں اسلامی تاریخ کی انمول یادگار
مدینہ منورہ میں اسلامی تاریخ کی سدا بہار نشانیوں کے حوالے سے جو متعدد مساجد قائم ہیں، ان میں ایک خاص، منفرد اور تاریخی یادگار مسجد الغمامہ ہے۔ اسلام کے ابتدائی ایام کی خوبصورت اور ایمان افروز تاریخ کے حوالے سے مسجد الغمامہ کی شناخت دنیا بھر میں نمایاں اور ممتاز ہے۔
یہ وہ مبارک اور عظیم الشان مقام ہے جہاں پیغمبرِ اسلام، سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بذاتِ خود عید کی نماز پڑھائی اور امت کو عیدین کے اجتماعات کا طریقہ سکھایا۔ اس کے ساتھ ہی، یہ وہی مقامِ عبرت و محبت ہے جہاں حبشہ کے عادل مسلم حکمران نجاشی (اصحمہ بن ابجر) کے انتقال کی خبر مدینہ منورہ پہنچتے ہی، آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو صف آرا کیا اور ان کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔ یہ تاریخِ اسلام میں غائبانہ نمازِ جنازہ کے چند اہم ترین واقعات میں سے ایک ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے یہ مسجد مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے باب السلام سے تقریباً 500 میٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب کی سمت میں واقع ہے۔ یہ پرسکون اور متبرک مقام ہر آنے والے زائر کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
مسجد الغمامہ اس مقام پر قائم ہونے والی پہلی باقاعدہ مسجد تھی، جسے مدینہ منورہ کے گورنر اور جلیل القدر خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ نے اپنے دورِ حکومت (90 ہجری کے لگ بھگ) میں انتہائی عقیدت کے ساتھ تعمیر کرایا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب مدینہ کی تمام تاریخی یادگاروں کو مساجد کی شکل دے کر محفوظ کیا جا رہا تھا۔
اگرچہ اس کی بنیاد اموی دور میں پڑی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی عمارت میں تبدیلیاں آتی رہیں۔ آج سے تقریباً 200 سال پہلے، عثمانی سلطنت کے نامور حکمران سلطان محمود ثانی کے دورِ حکومت میں اس کی زبردست ازسرِ نو تعمیر کی گئی، اور مساجد کی جو موجودہ عمارتیں ہم آج دیکھتے ہیں، وہ بنیادی طور پر اسی دو سو سال پرانے عثمانی فنِ تعمیر کی شاہکار ہیں۔
مسجد کی عمارت عثمانی دور کے دلکش اور روایتی طرزِ تعمیر کی حامل ہے۔ اس کے بیرونی صحن میں سیاہ رنگ کے خوبصورت اور نایاب پتھر نصب ہیں جو تیز دھوپ میں بھی ایک خاص منظر پیش کرتے ہیں۔ مسجد کے دروازے عمدہ، نفیس اور باریک کشیدہ کاری سے مزین لکڑی کے بنے ہوئے ہیں، جو قدیم اسلامی فنِ لکڑی (Woodwork) کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ مسجد کے خاص طور پر شمال مغربی کونے پر ایک بلند اور خوبصورت سفید مینار ہے، جو دور سے زائرین کی نظروں کو بھا جاتا ہے۔
مسجد کا بیرونی احاطہ کھجور کے لہلہاتے درختوں، ہریالی اور سرسبز پودوں سے مزین ہے، جو مدینہ منورہ میں آنے والے زائرین کے لیے ایک انتہائی پرسکون، ٹھنڈا اور معطر ماحول مہیا کرتا ہے۔ اگر مسجد کے اندرونی حصے کا نظارہ کیا جائے، تو جنوب کی طرف ایک خوبصورت اور پروقار محراب نظر آتی ہے، جس کے بالکل دائیں طرف سنگِ مرمر کا ایک نفیس اور چمکتا ہوا منبر نصب ہے، جہاں سے خطبہ دیا جاتا تھا۔
وجہ تسمیہ: ‘غمامہ’ کیوں کہا جاتا ہے؟
عربی زبان میں ‘غمامہ’ کا معنی بادل کے ہیں۔ اس مسجد کے نام کے پیچھے دو خوبصورت روایات ملتی ہیں: ایک روایت کے مطابق، جب نبی کریم ﷺ یہاں عید کی نماز کی امامت فرما رہے ہوتے تھے، تو شدید دھوپ کے باوجود ایک بادل کا ٹکڑا آپ ﷺ پر مسلسل سایہ کیے رکھتا تھا۔ اس معجزاتی واقعے کی وجہ سے یہ مسجد ‘مسجد الغمامہ’ کے نام سے مشہور ہو گئی۔
دوسری مستند روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں شدید قحط سالی کے دوران، نبی کریم ﷺ اسی جگہ تشریف لائے اور بارانِ رحمت کے لیے استسقا کی دعا مانگ رہے تھے۔ ابھی آپ ﷺ کی دعا جاری تھی کہ اچانک آسمان پر سیاہ بادل آئے اور آپ ﷺ پر سایہ کرنے لگے، جس کے فوراً بعد مدینہ پر رحمت کی بارش برس پڑی۔ اس مبارک مصلحت اور نسبت کی وجہ سے اس مسجد کا نام مسجدِ غمامہ رکھا گیا۔
موجودہ سعودی حکومت کی جانب سے بھی اس مسجد کی خاص طور پر تزئین و آرائش اور تحفظ کی روایت کو پوری تندہی کے ساتھ جاری رکھا گیا ہے۔ سعودی حکومت نے خاص لگن اور علمی بصیرت کے ساتھ اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ یہ مسجد مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے امتِ مسلمہ کا ایک اہم ترین مرکز بنی رہے، کیونکہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی میراث اور یادیں اس مقام کے ساتھ خاص تعلق کو ہمیشہ مضبوط کرتی ہیں۔
13 مسجد عمر بن الخطاب: خلافتِ فاروقی کا روشن مینار
مسجد الغمامہ کی زیارت سے فیضیاب ہو کر اگر ہم آگے کی طرف قدم بڑھائیں، تو چند ہی فاصلے پر ایک اور قدیم اور تاریخی مسجد واقع ہے، جسے مسجدِ عمر یا مسجد عمر بن الخطابؓ کہا جاتا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں عید کی نماز ہوا کرتی تھی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، یہ چاروں مساجد (غمامہ، عمر، ابوبکر اور علیؓ) آج سے تقریباً 200 سال پہلے سلطان محمود ثانی کے زمانے کی تعمیر کردہ ہیں، لیکن سب سے پہلے ان تمام مقدس جگہوں پر مساجد کی بنیاد خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے 90 ہجری میں رکھی تھی؛ البتہ ان مساجد کی موجودہ مادی عمارت یہ دو سو سال پرانی عثمانی عہد کی ہے۔
مسجد عمر بن الخطابؓ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ کے شمال مغرب میں واقع ایک انتہائی اہم تاریخی مقام اور مسجد ہے۔ یہ مسجد نبوی ﷺ کے موجودہ وسیع و عریض صحن سے محض 135 میٹر کے مختصر ترین فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا شمار مدینہ منورہ کی ان مایہ ناز تاریخی مساجد میں ہوتا ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے عیدین اور استسقاء (بارش کی طلب) کی نمازیں ادا کی تھیں، اور بعد میں اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں یہاں عید کی نمازیں پڑھائی گئیں، جس کی وجہ سے یہ مقام ہمیشہ کے لیے آپؓ کے نامِ نامی سے منسوب ہو گیا۔
تاریخی کتابوں کے مطابق، نویں صدی ہجری میں اس مسجد کی ابتدائی طور پر بڑی توسیع اور تعمیر ہوئی تھی۔ اس کے بعد، جدید دور میں سن 1411 ہجری میں خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں اس مسجد کی نہایت جامع، جدید اور پائیدار مرمت، تزئین اور آرائش کی گئی، جس سے اس کا حسنِ قدیم بھی برقرار رہا اور مضبوطی بھی آگئی۔
یہ تاریخی مسجد تقریباً 335 مربع میٹر کے کل رقبے پر محیط ہے۔ اس مسجد کا مینار اپنی منفرد ساخت کی وجہ سے اس پورے علاقے کی کم بلند اور روایتی عمارتوں میں دور ہی سے نمایاں اور پرکشش نظر آتا ہے، جو زائرین کے لیے ایک رہنما علامت کا کام کرتا ہے۔اگر آپ مدینہ منورہ کے خوش نصیب زائرین میں شامل ہیں اور اس تاریخی و ایمانی مقام پر حاضری دے کر اپنے دل کو منور کرنا چاہتے ہیں، تو یہاں تک رسائی حاصل کرنا انتہائی آسان اور سہل ہے، کیونکہ یہ مسجد نبوی ﷺ کے بالکل متصل اور قریب واقع ہے۔ زائرین چند منٹوں کی مسافت طے کر کے اس خلافتِ راشدہ کی یادگار کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
حاصلِ کلام:
مسجد الغمامہ اور مسجد عمر بن الخطابؓ کی زیارت محض عمارتوں کو دیکھنا نہیں، بلکہ اس دورِ سعید کو محسوس کرنا ہے جب اسلام کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔ یہ مساجد رہتی دنیا تک مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ اور احترامِ صحابہ کی شمع روشن رکھنے کا ایک عظیم ذریعہ ہیں۔پسند آئے تو لائک شیئر اور کومنٹ کرکے اپنی رائے کا اظہار کیجئے(جاری ہے)

