Skip to content

سفرِ عشق کے سنگِ میل: مکہ مکرمہ کی تاریخی و مقدس زیارات ( قسط نمبر چار) تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

سفرِ عشق کے سنگِ میل: مکہ مکرمہ کی تاریخی و مقدس زیارات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
مکہ مکرمہ کی وادیاں اور پہاڑ اسلام کی عظمتِ رفتہ کے امین ہیں۔ یہاں کا ذرہ ذرہ کسی نہ کسی معجزے یا قربانی کی داستان سناتا ہے۔ ذیل میں ان مقدس مقامات کا ادبی و تاریخی تذکرہ پیش خدمت ہے

22. غارِ ثور: رفاقت اور توکل کی معراج
غارِ ثور وہ عظیم المرتبت مقام ہے جس نے ہجرتِ مدینہ (622ء) کے دوران کائنات کی سب سے مقدس ہستی ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا۔ جب مکہ کی زمین مشرکین کے ظلم و ستم سے تنگ کر دی گئی، تو نبی کریم ﷺ اور ان کے یارِ غار، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جبلِ ثور کے اس پر سکون گوشے میں تین دن اور تین راتیں قیام فرمایا۔

یہ غار ایمان اور توکل کا وہ مظہر ہے جہاں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر عشقِ رسول ﷺ کا حق ادا کیا۔ آپؓ نے غار کے سوراخوں کو اپنے لباس کے ٹکڑوں سے بند کیا تاکہ کوئی موذی جانور راحتِ جانِ کائنات ﷺ کو تکلیف نہ پہنچائے۔ یہاں تک کہ سانپ کے کاٹنے سے زخمی ہوئے، مگر اس ڈر سے جنبش نہ کی کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کی نیند میں خلل نہ آ جائے۔ مکہ سے جنوب میں واقع یہ غار آج بھی زبانِ حال سے پکارتا ہے کہ جب اللہ کی نصرت شاملِ حال ہو، تو مکڑی کا جالا اور کبوتر کے انڈے بھی فولادی دیواروں سے زیادہ مضبوط پہرہ بن جاتے ہیں۔

23. غارِ حراء: کوہِ نور سے پھوٹتی تجلی
مکہ مکرمہ کے شمال مشرق میں واقع جبلِ نور کی چوٹی پر وہ “غارِ حراء” ہے جہاں سے ہدایت کا وہ سورج طلوع ہوا جس نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔ نبوت سے قبل، حضور اکرم ﷺ یہاں تنہائی میں خالقِ کائنات کی عبادت (خلوت نشینی) فرمایا کرتے تھے۔

رمضان المبارک کی ایک بابرکت رات، اسی تنگ مگر روشن غار میں حضرت جبرائیل علیہ السلام پہلی وحی “اقرأ” (پڑھئے!) لے کر نازل ہوئے اور کائنات کا سب سے بڑا معجزہ، یعنی قرآن کریم، اسی مقام سے قلبِ اطہر پر اترنا شروع ہوا۔ یہ غار حق کی تلاش کرنے والوں کے لیے ایک مینارِ نور ہے، جس کا دہانہ وادیِ مکہ کی طرف کھلا ہے، گویا ہر وقت کعبہ کی عظمتوں کا نظارہ کرتا ہو۔

24. میدانِ عرفات اور جبلِ رحمت: مغفرت کی وادی
میدانِ عرفات وہ مقام ہے جہاں حج کا رکنِ اعظم ادا ہوتا ہے؛ جس کے بغیر حج مکمل نہیں ہوتا۔ اسی وسیع میدان میں جبلِ رحمت واقع ہے، یہ وہ پہاڑ ہے جس کے دامن میں رحمتِ عالم ﷺ نے وقوف فرمایا اور امت کو وہ عظیم الشان “خطبہ حجۃ الوداع” ارشاد فرمایا جو انسانی حقوق کا پہلا اور مکمل چارٹر ہے۔ یہاں کبھی مسجد الصخرات موجود تھی، جو اس تاریخی وقوف کی یاد دلاتی تھی۔ آج بھی یہاں لاکھوں عشاق لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے اپنے رب سے لرزتے دلوں کے ساتھ گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔

4. مسجدِ نمرہ: سنتِ نبوی ﷺ کا امین
میدانِ عرفات کے مغربی جانب واقع مسجدِ نمرہ وقوفِ عرفہ کی ایک اہم ترین علامت ہے۔ یہ مسجد اس مقام پر تعمیر کی گئی ہے جہاں حجۃ الوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا تھا۔ دوسری صدی ہجری سے قائم یہ عظیم الشان مسجد آج بھی عازمینِ حج کی میزبانی کرتی ہے، جہاں ہر سال نو ذوالحجہ کو امامِ حج خطبہ دیتے ہیں اور عازمین سنتِ رسول ﷺ کی پیروی میں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر کر کے ایک ساتھ ادا کرتے ہیں۔

25. مزدلفہ: ذکر و فکر کی شب
مزدلفہ وہ مبارک سرزمین ہے جہاں حجاج کرام 9 اور 10 ذوالحجہ کی درمیانی رات (شبِ عید) کھلے آسمان تلے گزارتے ہیں۔ یہاں کی خاص نسبت مسجد مشعر الحرام سے ہے، جس کا ذکر ربِ ذوالجلال نے قرآن مجید میں خاص طور پر فرمایا ہے۔ مشعر الحرام دراصل اس پہاڑ کا نام ہے جس کے قریب نبی ﷺ نے قیام فرمایا تھا۔ یہ رات عبادت، سکون اور کنکریاں جمع کرنے کی رات ہے، جو بندے کو منیٰ کے معرکے کے لیے تیار کرتی ہے۔ یہاں پر ایک عالی شان مسجد بھی ہے جس کو مسجد مشعرالحرام کہتے ہیں۔

26. منیٰ اور جمرات: تسلیم و رضا کی وادی
منیٰ وہ وادی ہے جہاں عشق کا امتحان اور ابلیس کی شکست کی داستانیں رقم ہیں۔ یہاں واقع تین جمرات (شیاطین کو کنکریاں مارنے کے مقامات) اس واقعے کی یاد دلاتے ہیں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے حکم پر اپنے لختِ جگر کی قربانی دینے جا رہے تھے اور شیطان نے تین بار آپؑ کے قدم ڈگمگانے کی کوشش کی۔ خلیل اللہؑ نے ہر بار اسے پتھر مار کر دور کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ ادا ایسی بھائی کہ اسے قیامت تک کے لیے حج کا لازمی حصہ بنا دیا تاکہ ہر حاجی اپنے اندر کے شیطان کو بھی کنکریاں مار کر نکال پھینکے۔

7. مجر الکبش: فدیہِ اسماعیل علیہ السلام
جمرات کے قریب منیٰ کی سرزمین پر مجر الکبش وہ تاریخی مقام ہے جو اطاعتِ الٰہی کی انتہا کا شاہد ہے۔ روایات کے مطابق یہ وہی جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی پیش کی، لیکن اللہ نے ان کی قربانی قبول فرمائی اور فدیے کے طور پر جنت سے ایک مینڈھا (الکبش) بھیج دیا۔ اسی مناسبت سے اسے “مجر الکبش” (مینڈھے کے ذبح کئے جانے کی جگہ) کہا جاتا ہے۔ اگرچہ توسیعی منصوبوں کی وجہ سے یہاں موجود پرانی مسجد اب نظر نہیں آتی، مگر اس مقام کی روحانی خوشبو آج بھی زائرین کے دلوں کو ایمان سے منور کرتی ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان مقدس مقامات کی باادب حاضری اور ان سے وابستہ اسباق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ تحریر پسند ائے تو پیچ کو لائک شیئر اور فالو کیجئے تاکہ مزید معلومات آپ تک پہنچ سکےاللہ تعالی سے میری دعا ہے کہ ان معلومات پڑھنے والوں کو اللہ تعالی ان مقامات کی زیارت نصیب فرمائیں آمین