گزشتہ سے پیوسطہ
مکہ مکرمہ کے مقدس اور تاریخی مقامات: ایک ایمان افروز سفر۔۔۔۔۔(قسط2)
مکہ مکرمہ کی وادی کا ذرہ ذرہ تاریخِ اسلام کے انمٹ نقوش اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہے۔ ان گلیوں اور راستوں میں ایمان اور کفر کی وہ داستانیں رقم ہیں جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔
9۔ عبرت کا نشان: جائے قیامِ ابو جہل
جبلِ مروہ کے قریب، ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے کاشانۂ اقدس کے عقب میں چند قدم کے فاصلے پر ایک وسیع و عریض میدان ہے، جہاں زائرین کا ہجوم اکثر نماز ادا کرتا نظر آتا ہے۔ اس کے بائیں جانب وضو خانے اور طہارت خانے بنے ہوئے ہیں۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں اسلام کے بدترین دشمن ابو جہل کا گھر ہوا کرتا تھا۔ آج یہ جگہ “حمامِ ابو جہل” کے نام سے جانی جاتی ہے، جو رہتی دنیا تک تکبر اور دشمنیِ رسول ﷺ کے انجام کی ایک خاموش لیکن عبرت ناک نشانی ہے۔
10۔ معجزۂ نبوت کی یادگار: مسجد الشجرہ
انہی واش رومز سے باہر سڑک کی جانب نکلیں تو دو سو قدم کی دوری پر ایک پل نظر آتا ہے۔ اس پل کو عبور کرتے ہی سامنے “مسجد الشجرہ” اپنے پورے وقار کے ساتھ ایستادہ ہے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے جہاں نبوت کا ایک عظیم معجزہ رونما ہوا؛ جب آپ ﷺ کے حکم پر ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا حاضرِ خدمت ہوا، آپ ﷺ کو سلام کیا اور پھر حکمِ ربی سے اپنی جگہ واپس لوٹ گیا۔ بعد ازاں، خلیفۂ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے اس معجزے کی یاد میں یہاں مسجد تعمیر کروائی۔ چونکہ عربی میں درخت کو ‘شجر’ کہتے ہیں، اسی مناسبت سے یہ مسجد “مسجد الشجرہ” کہلاتی ہے۔
11، دعوتِ حق اور جنات کا ایمان لانا: مسجد الجن
مسجد الشجرہ سے چند قدم کے فاصلے پر “مسجد الجن” واقع ہے، جو ایک عظیم روحانی واقعے کی امین ہے۔ یہ وہی مقام ہے جہاں نصیبین (عراق) سے آئے ہوئے جنات کی پہلی جماعت نے نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے کلامِ الہی سنا اور حلقہ بگوشِ اسلام ہوئی۔ اللہ رب العزت نے اس واقعے کا تذکرہ قرآنِ کریم کی سورۃ الاحقاف میں فرمایا اور پھر ان کے نام سے ایک پوری سورت “سورۃ الجن” نازل فرمائی، جو اس مقام کی عظمت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔
12، بنو ہاشم اور قدسیوں کی آرام گاہ: جنت المعلیٰ
مسجد الجن کے عقب میں مکہ مکرمہ کا وہ تاریخی اور مایہ ناز قبرستان “جنت المعلیٰ” واقع ہے، جس کی مٹی نے قدسی صفت انسانوں کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔ یہاں خاندانِ نبوت (بنو ہاشم) کے جلیل القدر افراد، تقریباً دس ہزار صحابہ کرام اور امت کے اکابرین محوِ استراحت ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ محسنۂ اسلام، ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مزارِ اقدس بھی اسی مبارک احاطے میں موجود ہے، جو عقیدت مندوں کی آنکھوں کا نور ہے۔
13۔ بائیکاٹ سے فتح تک کی داستان: مسجد الاجابہ
جنت المعلیٰ سے ذرا آگے بڑھیں تو “مسجد الاجابہ” آتی ہے۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں قریشِ مکہ نے بنو کنانہ کے ساتھ مل کر وہ ظالمانہ معاہدہ کیا تھا جس کے نتیجے میں آپ ﷺ اور آپ کے خاندان کو تین سال تک “شعبِ ابی طالب” میں محصور ہو کر سماجی مقاطعہ (Social Boycott) برداشت کرنا پڑا۔ تاریخ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے حجۃ الوداع سے واپسی پر یہاں ایک رات قیام فرمایا تاکہ صحابہ کو دکھا سکیں کہ کبھی دشمن یہاں ہمارے خلاف سازشیں کرتے تھے، مگر اب اللہ نے حق کو فتح دی اور پوری وادی لبیک اور توحید کی صداؤں سے گونج رہی ہے۔
14، یارِ غار کی جائے پیدائش: مسجد ابوبکر صدیقؓ
مکہ کے مشہور مکہ ہلٹن ہوٹل کےمتصل وہ مقام ہے جہاں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا گھر ہوا کرتا تھا۔ بعد ازاں اس جگہ کی نسبت سے وہاں ایک عالی شان مسجد تعمیر کی گئی، جسے آج بھی “مسجد ابوبکر صدیق” کہا جاتا ہے۔ یہ وہی مبارک گھر اور جائے پیدائش ہے جہاں سے صدق و صفا کے پیکر نے اسلام کی نصرت کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا عہد کیا تھا۔
ناظرین کرام : یہ مقامات محض عمارتیں نہیں بلکہ اسلام کے عروج و زوال، صبر و استقامت اور بالآخر حق کی فتح کے زندہ جاوید استعارے ہیں۔(جاری ہے)

