مکہ مکرمہ کے اہم تاریخی اور مقدس مقامات ۔۔۔تحریر: ۔۔۔ حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
آج کل حج کا مقدس سیزن ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ اسلام فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے ارضِ مقدس کا رخ کر رہے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں ایمان کی وہ خوشبو بسی ہے جو صدیوں پہلے پیارے نبی ﷺ اور ان کے جاں نثار صحابہ کرام کے پسینے اور لہو سے مہکی تھی۔مکہ مکرمہ کی وادی کا ذرہ ذرہ تاریخِ اسلام کے انمٹ نقوش اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہے۔ ان گلیوں اور راستوں میں ایمان اور کفر کی وہ داستانیں رقم ہیں جو قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔
اکثر حجاج کرام معلومات کی کمی کی وجہ سے صرف چند مشہور مقامات دیکھ پاتے ہیں، حالانکہ حرم شریف کے ارد گرد درجنوں ایسی جگہیں ہیں جن کی زیارت ایمان کو جلا بخشتی ہے۔ میری کوشش ہے کہ آپ کو مکہ مکرمہ کے ان پچاس تاریخی مقامات سے آگاہ کروں جو مستند روایات سے ثابت ہیں۔ آئیے ان مقامات کا تذکرہ شروع کرتے ہیں جو مسجد الحرام کے بالکل قریب واقع ہیں اور جہاں آپ تھوڑا وقت نکال کر پیدل بھی جا سکتے ہیں۔
1۔ مقبرہ الشبیکہ (پہلی خاتون شہید کا مسکن)
یہ وہ تاریخی قبرستان ہے جو زمانہ جاہلیت کی تلخ یادوں اور اسلام کے ابتدائی دور کی قربانیوں کا امین ہے۔ یہاں مشرکینِ عرب اپنی معصوم بچیوں کو زندہ دفن کیا کرتے تھے۔ اسی قبرستان میں ایک نمایاں قبر حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کی ہے، جنہیں ابوجہل نے بے پناہ تشدد کے بعد برچھا مار کر شہید کیا تھا۔ آپ حضرت عمار بن یاسرؓ کی والدہ اور اسلام کی پہلی خاتون شہید ہیں۔ اس جگہ کی زیارت ہمیں اس صبر اور استقامت کی یاد دلاتی ہے جس پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی۔

2۔ جبلِ کعبہ (جبل البیت)
شبیکہ قبرستان سے چند قدم کے فاصلے پر واقع اس پہاڑ کو “جبل الکعبہ” یا “جبل البیت” کہا جاتا ہے۔ اس کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ خانہ کعبہ کی موجودہ عمارت اسی پہاڑ کے پتھروں سے تیار کی گئی ہے۔ 1040 ہجری (1630ء) میں ایک عظیم سیلاب کی وجہ سے بیت اللہ کی عمارت کو نقصان پہنچا، تو سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان مراد چہارم نے اسی پہاڑ کے پتھروں سے کعبہ کی موجودہ عمارت کی تعمیر نو کروائی۔
3۔ بئر طویٰ (مقدس کنواں)
یہ وہ مبارک کنواں ہے جسے مورخین زمزم کے بعد دنیا کا افضل ترین کنواں قرار دیتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی مدینہ سے مکہ تشریف لاتے، تو رات اسی مقام پر قیام فرماتے اور صبح اس کنویں کے پانی سے غسل فرما کر حرم شریف میں داخل ہوتے۔ فتح مکہ کی تاریخی رات بھی آپ ﷺ نے یہیں قیام فرمایا تھا۔
4۔ جبل قعیقعان (معجزہ شق القمر کا گواہ)
بئر طویٰ کے بالکل سامنے واقع یہ عظیم الشان پہاڑ ایک عظیم معجزے کا گواہ ہے۔ روایت ہے کہ جب مشرکین مکہ نے نبوت کی نشانی مانگی، تو چودھویں کی رات آپ ﷺ نے اپنی انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کر دیا تھا۔ مورخین کے مطابق اس معجزے کا ظہور اسی پہاڑ کے اوپر ہوا تھا۔
5۔ جبل ابو قبیس (زمین کا پہلا پہاڑ)
صفا پہاڑی کے سامنے واقع یہ پہاڑ عظمت کی کئی داستانیں سمیٹے ہوئے ہے۔ روایات کے مطابق یہ روئے زمین پر اللہ کا پیدا کردہ سب سے پہلا پہاڑ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہو کر انسانوں کو حج کی صدا دی تھی، جسے اللہ نے تمام روحوں تک پہنچا دیا۔ اس کا نام “ابو قبیس” اس لیے پڑا کیونکہ طوفانِ نوح کے بعد یہاں آباد ہونے والے پہلے شخص کا نام یہی تھا۔ آج یہاں شاہی محلات موجود ہیں۔
6۔ مکتبہ مکہ مکرمہ (مولد النبی ﷺ)
یہ وہ عظیم الشان مقام ہے جہاں کائنات کی سب سے مقدس ہستی، جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ یہ آپ ﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہ کا گھر تھا۔ 1950ء (1370ھ) میں اسے ایک لائبریری کی شکل دے دی گئی، جو آج “مکتبہ مکہ المکرمہ” کے نام سے مشہور ہے اور بابِ علیؓ کے قریب واقع ہے۔
7۔ شعبِ ابی طالب (تین سالہ محصوری کی وادی)
اس لائبریری سے چند قدم آگے وہ گھاٹی ہے جہاں بنو ہاشم نے اسلام کی خاطر تین سال تک سماجی بائیکاٹ اور انتہائی سختیاں جھیلیں۔ یہاں کے درختوں کے پتے کھا کر صحابہ اور خاندانِ رسالت نے وقت گزارا۔ آج یہاں بس سٹینڈ اور ہائی وے کی سرنگیں موجود ہیں، لیکن اس کی تاریخی حیثیت اب بھی برقرار ہے۔
8۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا گھر
مروہ کی پہاڑی سے باہر نکلیں تو قریب ہی فرش پر مربع شکل کے ماربل کے پتھروں سے ایک خاص جگہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کا مکان تھا، جہاں آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے مبارک 28 سال گزارے۔ بعض مورخین اسے بیت اللہ کے بعد مکہ کی سب سے مقدس جگہ قرار دیتے ہیں کیونکہ یہاں وحی کا نزول ہوا اور آپ ﷺ کی اولادِ اطہار کی ولادت بھی یہیں ہوئی۔
یہ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ ان مقامات کی زیارت کرتے وقت باوضو رہیں اور درود و سلام کا نذرانہ پیش کرتے رہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی حاضری کو قبول فرمائے اور آپ کے ایمان کو تازگی بخشے۔ (جاری ہے…)
