شہزادہ محی الدین مرحوم: چترال کی سیاسی تاریخ کا ایک عہدِ زریں
………. تحریر۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
چترال کے سیاسی افق پر راج کرنے والے نامور سیاستدان، مردم شناس شخصیت اور عوامی خدمت سے سرشار محترم شہزادہ محی الدین مرحوم کو ہم سے بچھڑے عرصہ بیت گیا، لیکن ان کی یادیں آج بھی سیاسی تاریخ کے منظر نامے پر کسی روشن ستارے کی مانند جگمگا رہی ہیں۔ وہ ایک ایسی بلند قامت شخصیت تھے جن کا شمار ان عظیم سیاستدانوں میں ہوتا تھا جو اپنی بے لوث خدمات، اعلیٰ ظرفی اور عجز و انکساری کی بدولت آنے والی نسلوں کے لیے ایک مثالی نمونہ چھوڑ گئے۔ بلند ہمت اور اعلی تعلیم یافتہ بیوروکریٹ ہونے کی وجہ سے پورے ملک میں جانے پہچانے شخصیت تھے اسمبلی کے تمام ارکان کے لئے ایک معزز اور باوقار سیاستدان تصور ہوتے تھے چھوٹے بڑے ہر گاؤں اور ہر بستی کے لوگ ان کے نرم گفتار اور شاہانہ انداز کے معترف تھے حامی تو حامی مخالفین بھی ان کی سیاسی بصیرت کے معترف تھے ملک کے گوشے گوشے میں جہاں کہیں بھی بزرگ لوگ حیات ہیں وہ سب سیاست سے زیادہ شہزادہ صاحب مرحوم کو جانتے ہیں ۔شہزادہ مرحوم کاخاندانی پس منظر بھی چترال کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔
چترال کے اس عظیم سپوت نے 1938ء میں شاہی خاندان کے چشم و چراغ شہزادہ امیر الدین کے ہاں آنکھ کھولی۔ آپ کے چچا ہزہائنس سر محمد ناصر الملک اس وقت مہترِ چترال تھے، جن کے زیرِ سایہ آپ کی تربیت ہوئی۔
آپ نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چترال سے حاصل کی اور ساتھ ہی شاہی مسجد چترال سے دینی علوم کی پیاس بجھائی۔ بعد ازاں، گورنمنٹ اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن اور پشاور یونیورسٹی سے معاشیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کر کے اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوایا۔ چترال کے شاہی روایات کے مطابق آپ پولو کے کھیل کا دلدادہ تھے اور میدانِ جنگ کی طرح میدانِ پولو میں بھی اپنے مخصوص گھوڑے کے ساتھ جوہر دکھاتے۔ اس کے علاوہ فٹ بال کے بھی بہترین کھلاڑی رہے۔
آپ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز سول سروس سے کیا، جہاں ڈپٹی کمشنر اور مختلف محکموں کے سیکرٹری کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں اور اصول پسندی کی دھاک بٹھائی۔ 1970ء کی دہائی میں ملازمت سے سبکدوش ہو کر جب آپ نے کاروباری دنیا میں قدم رکھا، تو وہاں بھی دیانت کو اپنا شعار بنایا۔چترال میں اشیائے ضروریہ (گندم، گھی، کھاد) کی بلاتعطل فراہمی کے لیے آپ نے گاؤں گاؤں گودام قائم کئے تاکہ پسماندہ عوام کو سستی اشیاء ان کے دہلیز پر میسر ہوں۔ اسی عوامی خدمت نے آپ کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے۔چترال کے اے گریٹ کے گورنمنٹ کنٹریکٹر کی حیثیت سے نام کماتے ہوئے مشہور ہوئے۔سرکاری کنٹریکٹر کی حیثیت سے اجناس ضروریہ جیسے گندم ،کھاد او رگھی کی چترال سپلائی کو بلا تعطل جاری رکھا جس کی اس وقت چترال کو بلاتعطل فراہمی کی ضرورت تھی ۔اپنے تعلقات کی بنا پر چترال کے گاؤں گاؤں گودام قائم کئے جہاں عوام کو سستی اشیائے خودونوش کی فراہمی کو نقینی بنایا جس کی وجہ سے عوامی مقبولیت میں سو فیصد اضافہ ہوا ۔، سیا ست میں قدم رکھا تو انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا ۔ ضلع کے اند رپارٹی کے منشور کو بام غروج تک پہنچایا اور اسی پلیٹ فارم سے الیکشن میں پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کی۔چونکہ اپنے سیاسی کیرئیر کے لئے پاکستان پیپلز پارٹی کو منتخب کیا تھاآپ کے سیاسی سفر کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہوا۔ آپ نے اپنی سیاسی بصیرت کی وجہ سے چند اہم سنگ میل عبور کرکے1983ء میں ضلع کونسل چترال کے چیئرمین منتخب ہوئے۔
1985ء کے غیر جماعتی الیکشن میں بھاری اکثریت سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہو کر چترال کی محرومیوں کے خلاف پارلیمان میں توانا آواز بنی۔1990ء: میں نگران حکومت میں وفاقی وزیرِ خزانہ کے اہم منصب پر فائز ہوئے۔ اس کے علاوہ وزیرِ سیاحت کے عہدے پر رہ کر آپ نے چترال کی خوبصورتی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔
1996ء کے عام انتخابات مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر ایک بار پھر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے 1999 ء میں جنرل مشرف کے ٹیک اوور کے بعد حالات یکسر بدل گئے نواز شریف کو جیل میں پابند سلاسل کر دیا گیا اور ڈکٹیٹر شپ کے قانون کے مطابق سیاستدانوں سمیت عدلیہ کے ججز کو بھی پابند پی سی او کر دیا گیا مسلم لیگ نون کے کارکنان پر مظالم ڈھائے گئے تو موقع و مناسبت سے دوسرے ارکان پارلیمنٹ کی طرح نیم سرکار ی پارٹی ق لیگ میں شامل ہوگئے اور اپنی قوم کی خدمت میں مسلسل جدو جہد کر تے رہے چترال کے لئے لواری ٹنل کا عظیم منصوبہ منظور کرایا اور چترال میں کئی ترقیاتی منصوبے متعارف کرائے مشرف کی چترال دوستی اور شہزادہ صاحب کی انتھک محنت سے چترال میں ٹیلی کمونیکیشن اور مواصلات کا نظام پہلی بار بہتر ہوا ۔ 2001ء کی مشر ف کی بلدیاتی نظام حکومت میں حصہ لیا اور ضلع چترال میں ضلعی ناظم کا انتخاب لڑکر چترال کے ضلع ناظم رہے ۔ چترال کی تاریخ میں سب سے زیادہ پروجیکٹ منظور کروانے والے پہلے سیاستدان ہیں ۔ جنرل مشرف کے دور میں بطور ضلعی ناظم چترال میں ترقیاتی منصوبوں کا وہ جال بچھایا جس کی مثال نہیں ملتی۔شہزادہ صاحب کو چترال کی تعمیرو ترقی کا معمار اور بانی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
شہزادہ محی الدین مرحوم ”میگا پراجیکٹس” کے حامی تھے۔ چترال کے عوام پر ان کا سب سے بڑا احسان لواری ٹنل جیسے عظیم منصوبے کی منظوری اور اس پر کام کا آغاز او رتکمیل تھا جوکہ احسن طریقے سے انجام دئے۔ چترال بونی روڈ، ٹیلی کمیونیکیشن کے نظام کو فعال کرنا اور دور افتادہ علاقوں میں رابطہ پلوں کی تعمیر آپ ہی کی مرہونِ منت ہے اپنی ذاتی کاوشوں سے چترال کے دور افتادہ علاقوں میں موبائل فون کے ٹاور نصب کئے ان تمام پروجیکٹ پر آویزاں تختیاں آج بھی آپ کی محنت کی گواہی دیتی ہیں۔
منفرد طرزِ حکمرانی اور اخلاقِ حمیدہ آپ کی عادت شریفہ میں شامل تھے۔شہزادہ صاحب کا اندازِ سیاست روایتی نہیں بلکہ شاہانہ مگر مشفقانہ تھا۔جب وہ کسی علاقے کے دورے پر نکلتے، تو بچے، جوان اور بزرگ سڑکوں پر پلکیں بچھائے ان کا استقبال کرتے۔ وہ بچوں میں مٹھائیاں اور پیسے بدست خود تقسیم کرتے، غمی خوشی میں ہر فرد کے گھر پہنچتے اور علیل دوستوں کی مزاج پرسی کے لیے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر پیدل چلنے سے بھی گریز نہ کرتے۔ان کی زندگی تین اہم ستونوں پر قائم تھی: ذہانت و مردم شناسی، جذبہِ خدمتِ خلق، اور بے پناہ تحمل و بردباری۔یہ اعلی صفات آپ کی سیاسی بصارت کی روشن مثالیں تھیں۔
آپ نے اپنی سیاسی کیرئیر کا آخری الیکشن 2008ء میں لڑ کررکن اسمبلی منتخب ہو ئے ۔اس دوران کافی علیل رہنے کے باوجود اپنے حلقہ کی ترقی کے لئے آواز اٹھاتے رہے ۔ امراض چشم میں مبتلا تھے اور ساتھ ساتھ شوگر نے جان نہ چھوڑی ۔2014ء کے الیکشن میں ان کے فرزند ارجمند شہزا دہ افتخار الدین ق لیگ کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوا جبکہ ان کے دوسرے بیٹے شہزادہ خالد پرویز تحصیل چیئرمین دروش بھی رہے لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے اس عہدے سے مستغفی ہوئے۔
شہزادہ صاحب کی رحلت کے بعد چترال کی سیاست میں وہ وقار اور بصیرت مفقود نظر آتی ہے جو ان کا طرہ امتیاز تھی۔ آج جہاں سیاست ذاتی مفادات اور کرپشن کی نذر ہو چکی ہے، وہاں شہزادہ صاحب کا دورِ اقتدار پاکیزگی اور شفافیت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
زندگی کے آخری ایام میں آپ تقریبا دس سال علیل ہو کر صاحب فراش رہے امراض چشم کے ساتھ ساتھ شوگر جیسی مرض سے نبرد آزما رہے، مگر حوصلہ بلند رکھا۔ بالآخر 27 رمضان المبارک لیلۃ القدر کی بابرکت رات ، 84 برس کی عمر میں آپ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔اللہ تعالیٰ اس عظیم اور بے لوث خادمِ خلق کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائیں اور ان کی قبر کو اپنی رحمتوں کے نور سے منور فرمائیں۔ (آمین) یا رب العالمین
(اگر آپ کو یہ خراجِ عقیدت پسند آیا ہے، تو ہمارے پیج کو فالو کریں اور اسے شیئر کر کے اس عظیم شخصیت کی یادوں کو تازہ کرنے میں ہمارا ساتھ دیں)
