اسلام میں خودکشی: ایک سنگین جرم۔۔۔۔(قسط نمبر2) تحریر: حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
انسانی جان اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور قیمتی امانت ہے۔ اسلام میں جان کے تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور اس کے تقدس پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا۔”(سورۃ المائدہ)
ترجمہ: “جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔”
اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا:
“وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِی حَرَّمَ اللّٰہُ إِلَّا بِالْحَقِّ”
(سورۃ الانعام)
ترجمہ: “اور اس جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مگر حق کے ساتھ۔”
ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام میں انسانی جان کا احترام کس قدر عظیم ہے۔ نبی کریم ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں بھی انسانی جان، مال اور عزت کو انتہائی مقدس قرار دیا اور ان کی حفاظت پر زور دیا۔
اسلام نہ صرف دوسروں کے قتل کو سختی سے منع کرتا ہے بلکہ خودکشی کو بھی ایک نہایت سنگین اور حرام فعل قرار دیتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“جس شخص نے کسی چیز کے ذریعے خودکشی کی، اسے جہنم میں اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا۔”
ایک اور حدیث کے مطابق، خودکشی کرنے والا شخص قیامت تک اسی عمل کو دہراتا رہے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خودکشی کا گناہ نہایت شدید ہے، کیونکہ اس کے بعد توبہ کا موقع باقی نہیں رہتا۔
اسلام میں خودکشی کو گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنی جان کا مالک نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی امانت ہے۔ لہٰذا اپنی جان کو ضائع کرنا امانت میں خیانت کے مترادف ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
“وَلَا تُلْقُوا بِأَیْدِیکُمْ إِلَى التَّهْلُکَةِ”
(سورۃ البقرہ)
ترجمہ: “اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔”
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“وَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَیْكَ حَقًّا”
ترجمہ: “تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔”
یہ تعلیمات ہمیں اس بات کی تلقین کرتی ہیں کہ ہم اپنی جان اور جسم کی حفاظت کریں اور ان کے حقوق ادا کریں۔ اسلام ہر اس عمل کی سختی سے ممانعت کرتا ہے جو انسانی جان کے ضیاع کا سبب بنے، خواہ وہ خودکشی ہو یا دوسروں کی جان لینا۔خاص طور پر خودکش حملے، انتہاپسندی، اور بے گناہ لوگوں کا قتل اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہیں۔ جو لوگ مذہب کے نام پر معصوم جانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، ان کا یہ عمل نہ صرف ناجائز بلکہ ناقابلِ قبول ہے۔
خلاصۂ کلام
اسلام امن، سلامتی اور رحمت کا دین ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو نہ صرف خود امن میں رہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی باعثِ امن و سکون ہو۔ صبر، برداشت، اور مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہی ایک مومن کی اصل پہچان ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کی مشکلات کا مقابلہ صبر اور ایمان کے ساتھ کریں، اور کبھی بھی مایوسی میں آ کر اپنی جان کو نقصان پہنچانے کا نہ سوچیں۔ تحریر پسند آئے تو لائیک شیئر اور کومنٹ کیجئے پیچ کو فالو کئجئے(جاری ہے)
