چترال کی قابلِ فخر بیٹی ثریا بی بی : میری نظر میں۔۔۔۔ تحریر: حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے، اور جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ ہر شہری کو اپنے قائدین کی کارکردگی پر دلائل کی بنیاد پر تنقید اور تعمیری رائے کا حق حاصل ہو۔ اتفاقِ رائے دراصل جمہوریت کا وہ ثمر ہے جو تب حاصل ہوتا ہے جب قیادت عوامی توقعات پر پورا اترنے میں کامیاب ہو جائے۔ لیکن بدقسمتی سے وطنِ عزیز میں حقیقی جمہوریت کی جڑیں کھوکھلی نظر آتی ہیں۔ اس کا قصوروار کسی حد تک وہ طبقہ بھی ہے جو انتخابات کے دوران اپنے قیمتی ووٹ کو چند ٹکوں، آٹے یا دال کے عوض بیچ دیتا ہے۔ کرپشن اور رشوت ستانی اس حد تک سرایت کر چکی ہے کہ سرکاری ملازمین اپنی تنخواہ کو ناکافی سمجھ کر ناجائز آمدن کو اپنا حق تصور کرنے لگے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اگر لاکھ روپے کا کوئی منصوبہ ہو تو کاغذی کارروائی میں اسے کروڑوں تک پہنچا دیا جاتا ہے،انتہائی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ایک لاکھ روپے کے پروجیکٹ کے لئے کروڑوں کے گرانٹ کی منظوری کرائی جاتی ہے وجہ صاف ظاہر ہے کہ جہاں اوپر سے لے کر نیچے تک ہر کارندہ اپنا حصہ وصول کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں منتخب نمائندے جب کروڑوں روپے خرچ کر کے اسمبلی پہنچتے ہیں، تو ان کی اولین ترجیح عوامی خدمت کے بجائے اپنے کاروبار کا تحفظ اور لگائی گئی رقم کی وصولی بن جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اختیارات کی تقسیم اس قدر پیچیدہ ہے کہ بعض اوقات اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھا شخص بھی خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔
ایسے دگرگوں حالات میں، جہاں ایک نو مولود ضلع (اپر چترال) بے شمار مسائل کی آماجگاہ ہو، وہاں ایک نو وارد خاتون رکنِ اسمبلی سے کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں؟ زیرِ نظر تحریر اسی تناظر میں میری ذاتی رائے اور ایک حقیقت پسندانہ تجزیے کی عکاسی کرتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کسی کی اچھائی پر پردہ ڈالنا اور صرف برائی کو اچھالنا دیانت داری نہیں، بلکہ اچھائی کو نمایاں کرنا دوسروں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے۔خاص کر سوشل میڈیا پر ہر کس وناکس اپنی کردار اور کیریئر کو پس پشت ڈال کر ایسے تجزیہ کرتا ہے گویا کہ پوری دنیا میں یہ واحد دانشور ہے اور سامنے دیکھنے والے خاموش عظیم لوگ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں
ثریا بی بی: تعلیمی سفر اور سیاسی آغاز
محترمہ ثریا بی بی ایک باصلاحیت اور تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ انہوں نے 4 جنوری 1979ء کو اپر چترال کے دور افتادہ گاؤں ‘آوی’ میں نور عالم خان کے گھر آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے ‘بونی’ سے میٹرک کیا اور بعد ازاں سوشیالوجی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے تعلیمی دور میں وہ ایک ذہین اور متحرک طالبہ رہی ہیں جو ہمیشہ سماجی سرگرمیوں اور طالبات کے مسائل کے حل میں پیش پیش رہیں۔ عملی زندگی کا آغاز انہوں نے بطور پرنسپل ایک نجی تعلیمی ادارے سے کیا، جہاں ایک طویل عرصے تک وہ علم کی شمع روشن کرتی رہیں۔
چونکہ ان کا تعلق ایک علمی اور سماجی خدمت گار خاندان سے تھا، اسی لیے انہوں نے علاقے کی پسماندگی اور خواتین کی بے بسی کو دیکھتے ہوئے شایدسیاست کے خارزار میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سیاسی سفر کا آغاز اگرچہ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ہوا، مگر 2007ء میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے دن رات محنت کر کے خواتین کو سیاسی شعور دیا اور عمران خان کے ویژن کو گھر گھر پہنچایا۔ یہی وجہ تھی کہ 2024ء کے انتخابات میں اپر چترال (پی کے 1) کے عوام، بالخصوص خواتین نے ان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے 18,914 ووٹ لے کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی اور صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے باوقار منصب تک پہنچیں۔
الیکشن 2024 ء کی ایک جھلک
حالیہ 2024ء کے عام انتخابات میں (پی کے 1) اپرچترال کے دور افتادہ حلقوں میں بھی پولنگ کا عمل انتہائی پُر جوش انداز میں ہوا تھا، جہاں ثریا بی بی کی انتخابی مہم میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس حلقے میں ثریا بی بی کو مرد ووٹروں سے زیادہ خواتین نے ووٹ ڈالے۔صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 1 چترال اپر سے محترمہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کے دفتر سے جاری فارم 47 کے مطابق ثریا بی بی نے 18914 ووٹ لے کرکامیاب قرار پائے۔ان کے مدمقابل جے یو آئی کے شکیل احمد 10533 ووٹ لے کر دوسر ے نمبر پر رہے۔ پی کے ون چترال اپر میں کل 140 پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے جن میں ووٹروں کی کل تعدار 130189 تھی جن میں سے 69544 مرد اور 60645 خواتین ووٹرز تھے 64113 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ کاسٹ شدہ ووٹوں میں بھی زیادہ تعداد خواتین ووٹرز کی تھی۔ جنہوں نے ثریا بی بی پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔
منصب کی ذمہ داریاں اور عوامی توقعات
ڈپٹی اسپیکر کا عہدہ سنبھالنا ثریا بی بی کے لیے کسی کڑے امتحان سے کم نہ تھا۔ ایک طرف صوبے کی کشیدہ صورتحال اور سیاسی قیدیوں کے مسائل تھے، تو دوسری طرف اقتدار کے وہ تقاضے جن میں انسان اکثر درباری مشیروں اور پروٹوکول کے حصار میں دب کر عوامی امنگوں سے دور ہو جاتا ہے۔ ایک تقریر کے دوران ان کا یہ جملہ کہ ”میں صوبے کی تیسری طاقتور ترین خاتون ہوں”، شاید ان کی سیاسی انا کا اظہار تھا جس نے عوامی مقبولیت کو کسی حد تک متاثر کیا۔ؒلیکن انہوں نے حتی المقدور پارٹی او رپارٹی سے باہر بھی سیاسی لٹیروں سے بچنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے بھی بعض سیاسی فنکاروں نے ان کی کیریئر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
تاہم، ان کی کارکردگی کا روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے تھوڑے ہی عرصے میں اہم ترقیاتی منصوبے منظور کروائے۔ سخت سردی کے باوجود انہوں نے خود دورے کر کے درج ذیل منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھا یا افتتاح کیا۔
سنوغر روڈ (لاگت 1 کروڑ 38 لاکھ روپے)
اوی-سنوغر روڈ (لاگت 7 کروڑ روپے)
یارخون روڈ کی فیلنگ اور ری ہیبلی ٹیشن کا کام۔
ریسکیو 1122 مستوج کی عمارت کا افتتاح۔
موکوڑو زوم کھوژ روڈ اور بونی بی ایم سی روڈ کا آغاز۔
سہت روڈ موڑکہو اپر چترال کا باقاعدہ افتتاح
ڈپٹی اسپیکر کے لئے چیلنجز اور سیاسی مستقبل
بونی بوزند روڈ ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا، جہاں کرپشن اور عوامی احتجاج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تلخیوں نے دوریاں پیدا کیں۔ تقریر میں ”ٹولہ” جیسے الفاظ کے استعمال نے مخالفین کے ساتھ ساتھ کارکنوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا، جس سے نفرتوں کے نئے دروازے کھلے۔ اگرچہ اب سڑک پر کام کے آغاز سے اعتماد کی فضا بحال ہو رہی ہے، لیکن آج کل سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ان کے عہدے کی تبدیلی کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں۔اللہ کریں کہ یہ صرف افوہوں تک محدود ہو اور ان کو مکمل مدت تک کام کرنے کا موقع مل جائے
سیاست میں ”یوٹرن” اور غیر متوقع تبدیلیاں اب ایک روایت بن چکی ہیں۔ ثریا بی بی نے اپنی قابلیت اور محنت سے جو مقام حاصل کیا ہے، وہ چترال کے لیے باعثِ فخر ہے۔ امید ہے کہ وہ اقتدار کی رعنائیوں میں گم ہونے کے بجائے اپنے حلقے کے غریب عوام کی حالتِ زار کو مدنظر رکھیں گی اور خدمت کا یہ سفر جاری رہے گا۔ اللہ کرے کہ افواہیں دم توڑ دیں اور چترال کی یہ بیٹی اپنے علاقے کی تقدیر بدلنے میں کامیاب ہو جائے۔۔۔پسند آئے تو لائک شیئر او ر کومنٹ کرکے اپنی رائے کا اظہار کیجئے
