خودکشی سنگین جرم، خودکشی کرنے کے وجوہات،اور ان کا حل۔۔۔تحریر۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی (قسط1)
میرے معزز قارئیں: آج میں ایک بہت ہی اہم ٹاپک پر بحث کرنا چاہتا ہوں جو کہ نہ صرف ایک فرد کا مسئلہ ہے بلکہ پورے معاشرے اور پوری دنیا کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور وہ مسئلہ ہے خودکشی کا۔ کہ آج کل لوگوں کا رجحان خودکشی کی طرف بڑھ رہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ دین سے دوری،اسلامی تعلیمات سے لاعلمی،والدین کا اپنے بچوں کواسلامی طریقہ تربیت سے دور رکھنا اورانگریزی تہذیب سے اپنے کم ظرفی کی وجہ سے متاثر ہوناہے لیکن کچھ ہمارے اپنے معاشی،معاشرتی، روایتی اور سماجی رویوں کی قدامت پسندی جن کی وجہ سے بھی خودکشی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے اگر ہمارے ملک پاکستان میں دیکھا جائے یہاں خودکشی کرنے والوں میں ایک فیصد بھی اسلامی سوچ رکھنے والا یا عالم دین نہیں ہے جتنے بھی سروے ہوئے ہیں ان کے مطابق سب کہ سب دین دوری اور سیچویشن شپ کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور بلاآخر اپنی زندگی کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انسان خودکشی کیوں کرتا ہے؟ خودکشی کرنے والا شخص کم از کم دو غلط فہمیوں کا شکار ضرور ہوتا ہے ایک تو غلط تصورات اس کے ذہن میں ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ خود کشی کی طرف جاتا ہے اور یہ سنگین غلطی پر مبنی قدم اٹھاتا ہے۔اس کی پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ جونہی وہ خودکشی کریگا تو اس کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں اب جب اپنی جان لے لوں گا تو میری زندگی کے جو مسائل ہیں یعنی مجھ پر جو مشکلات ہیں مجھ پر جو سختیاں ہیں وہ ختم ہو جائیں گے اور میں مشکلات سے عاری دنیا میں جاونگا آزاد ہو جاونگا حلانکہ ایسا نہیں ہے یہ سب سے بڑی حماقت اور غلط فہمی ہے۔قرآن مجید اورسینکڑوں احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خود کشی کرنے والا شخص جب خود کشی کرتا ہے تو اس کی عذاب اور شدید مشکلات کا آغاز یہاں سے شروع ہوتا ہے جس کا آگے کوئی فوری حل نہیں ہوتا وہ سخت عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔ خود کشی کرنے والا شخص اگراپنی مشکلات اور مصائب کا موازنہ ما بعد الموت سے کرے تو آخرت اور برزخ کی جو سختیاں اور مصیبتیں ہیں وہ لاکھوں اور کروڑوں گنا دنیا کی سختیوں سے بڑھ کر ہیں اس لئے یہ انسان کی سب سے بڑی حماقت او ربے وقوفی ہے کہ انسان اس مشکلات سے نکلنے کے لیے خودکشی کا انتخاب کرتا ہے یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے ہر شخص کبھی کبھار زندگی کے ایسے موڑ یا ایسے مرحلے پر پہنچتا ہے جہاں شیطان اسے بہکاتا ہے اور اسے اپنے راستے میں چلانے کی کوشش کر تاہے تو ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم اس خودکشی کے ذریعے سختیوں سے نہیں نکل سکتے بلکہ ان سختیوں سے نکل کر اس سے بڑی سختی اور عذاب میں گرفتار ہو جاتے ہیں جس کا آگے کوئی حل نہیں ہے توبہ اور معافی کے دروازے بند ہو جاتے ہیں حلانکہ دنیا کے ہرمشکلات اور مصائب کا حل موجود ہے آگے چل کر آپ کے لئے آسانی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جس کی گارنٹی اللہ تبارک وتعالی خود دیتے ہیں (ان مع العسر یسرا) ہر سختی اور تنگی کے بعد آسانی بھی ہوتی ہے۔
خودکشی کرنے والے شخص کی دوسری بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی کے اس مسئلے کے لیے کوئی حل موجود نہیں ہے وہ یہ سمجھتے ہوئے اپنے دل میں یہ یقین کر لیتا ہے کہ میری زندگی کے اس مسئلے کے لیے کوئی حل موجود نہیں رہا میری زندگی کا خاتمہ ہو چکاہے۔لہذا اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا ہی بہترہے حلانکہ یہ اس کی سب سے بڑی حماقت اور کم علمی ہے لیکن اگر ہم مثبت نگاہ سے دیکھیں ہم پازیٹو ویژن کے ساتھ مسئلے کا مشاہدہ کرے تو ہمارے پاس بہت سارے حل نکل سکتے ہیں۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو ایک بادشاہ سزا دیتا ہے سزائے موت سناتا ہے وہ شخص چونکہ خوش فہمی کا شکار ہے اس کے ذہن میں اس کی جو سوچ ہے وہ مثبت سوچ ہے وہ اگر بادشاہ سے کہتا ہے کہ میں بڑا قیمتی آدمی ہوں اور میں دو سال کے اندر کسی گھوڑے کو پرواز کرنا سکھا سکتا ہوں بادشاہ کہتا ہے اگر ایسا ہے تو واقعی مجھے یہ کام کر کے دکھاؤ میں تمہیں پھانسی نہیں دوں گا میں تمہاری سزائے موت کینسل کروں گا وہ بادشاہ سے دو سال کی مہلت مانگتا ہے جب اپنے گھر آتا ہے گھر والوں تک جب یہ خبر پہنچتی ہے تو گھر والے اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم پاگل ہو گئے ہو کیا؟آج تک کسی نے گھوڑے کو پرواز کرنا سکھایا ہے کیاکسی نے آج تک ایسا ہوتے ہوئے دیکھا ہے تو یہ شخص جواب دیتا ہے کہ دیکھو پہلی بات ہیکہ یہ ناممکن نہیں ہے ممکن ہے کوئی راہ یاحل نکل آئے گاکوئی ایسا راستہ نکل آئیگا کہ ایک گھوڑا پرواز کر سکتا ہے جیسے براق تھا۔دوسری بات یہ ہے کہ ان دو سالوں میں بادشاہ مر جائے میں نجات حاصل کرسکتا ہوں۔ تیسری بات یہ ہے کہ دو سالوں میں یہ گھوڑا مرجائے اور میں دو سال کی اور مہلت لے لوں۔ چوتھی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں یا کسی اور ملک میں جنگ ہو جائے اور یہ بادشاہ مارا جائے تب بھی میں بچ سکتا ہوں۔پانچویں یہ کہ ہو سکتا ہے کہ بادشاہ کی طرف سے عام معافی کا اعلان ہو تو بھی میں بچ سکتا ہوں یہ ایسے بہت سارے اوپشن یا احتمالات ہیں جس سے میری جان بچ سکتی ہے اگر ان میں سے کوئی بھی احتمال واقع نہیں ہوا تو زیادہ سے زیادہ مرنا ہی ہے نا؟ تو دو سال جینے کے بعد مرونگا تو ان دوسالوں کے دوران اپنی آخرت سنوار سکوں گا تو اگر انسان خوش فہمی کا شکار ہو کر پازیٹو ویژن کے ساتھ ان مشکلات کو دیکھے تو یقینا ان تمام مشکلات کے لیے کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا۔
یاد رکھیے کہ ہماری زندگی کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کے لیے حل نہ ہو ہر مرض کی دوا ہوتی ہے پیارے نبی ؑ نے فرمایا (لکل داء دواء) ہر بیماری کے لئے دوائی موجود ہوتی ہے۔ تو خودکشی قطعا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ خودکشی انسان کے مسائل کو انسان کے عذاب کو انسان کی برزخ اور آخرت کی سختیوں کو بڑھادیتا ہے اس کا بہترین حل یہ ہے کہ ایسے ناخوشگوار لمحات آجائے تواللہ کی طرف رجوع کیا جائے اور تبلیغی جماعت یا کسی خانقاہ میں جاکر نیک لوگوں کی نیابت اختیار کی جائے وہ خدا سے مدد مانگے اور ان دو باتوں کو پیش نظر رکھیں۔
پہلی بات یہ ہے کہ وہ اگر خود کشی کریگا تو اس مشکل سے نکل کر اس سے سخت تر ین مشکل میں مبتلا ہوگا جس سے نکلنے کے لئے اس کے پاس کوئی آپشن نہ ہوگا اور ہمیشہ کی زندگی یعنی دنیا اور آخرت دونوں تباہ و برباد ہو سکتے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ ہر مشکل مسئلے کا اس دنیا میں حل موجود ہے۔جب انسان صدق دل سے اللہ تعالی سے مانگے تو اللہ تعالی اس کے مسئلے کے لئے راہ نکال لیتا ہے جس سے اس انسان کی دنیا اور آخرت دونوں سنوار سکتے ہیں اور گنا ہوں سے توبہ تائب ہوکر دنیا سے سروخرو ہو کر جا سکتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی سب کو اپنے حفظ و آمان میں رکھیں آمین (جاری ہے)پیج کو فالو کیجئے تاکہ اگلی قسط بھی آپ کے سامنے آجائے تو ثواب کی نیت سے اگے شیئر کیجئے جزاکم اللہ خیرا
