اندھیر نگری۔۔۔چوپٹ راج۔۔۔ بیداد نگری۔۔۔اور کے پی اسمبلی کا اجلاس۔۔۔تحریر ۔۔۔حافط نصیراللہ منصور چترالی
کہانی یوں ہے کہ کسی زمانے میں ایک گرو اور چیلہ کسی گاؤں میں رہتے تھے وہ اپنے شہر کے لوگوں سے تنگ آکر دوسرے شہر کی طرف چل نکلے۔ایک ایسے شہر سے گزرے جس کا نام ”بیداد نگری“ تھا۔جہاں ہر چیز ایک روپے سیر بکتی تھی۔ چاہے سبزی ہو یا مٹھائی۔ گندم ہو یا جو،سستی سے سستی اور مہنگی سے مہنگی چیز کے دام ایک ہی تھے، یعنی ایک روپے کا ایک کلوگرام۔چیلے کو بڑا پسند آیا۔چیلے نے گرو سے کہا، حضور یہاں ہر چیز سستی ہے، بڑے چین سے زندگی بسر ہوگی یہاں رہنے کا اہتمام کرتے ہیں۔گرو نے نے انکار کرتے ہوئے کہا۔ خیر تمہاری خوشی یہاں رہو،لیکن میں ایسے علاقے میں نہیں رہ سکتا جہاں اشیا کی قدر نہ ہو، ہمارا کام تو رہنمائی کرنا تھا۔چیلے کو وہاں چھوڑ کر گرو اگے چل نکلا۔چیلے کو حلوہ پوری بہت پسند تھی چند روز کھا کر خوب موٹا تازہ ہوگیا۔اتفاق سے اس شہر میں ایک شخص پر قتل کی فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔حاکم شہر نے اس کو سولی پر چڑھانے کا حکم جاری کردیا تھا۔ قاتل کو پکڑ کرپھانسی کے لئے تیار کر دیا گیا میدان لگ گیا لوگ اکھٹے ہوگئے لیکن وہ قاتل انتہائی لاغر اور کمزور تھا۔ حاکم کے جلاد نے کہا کہ صاحب یہ تو بہت دبلا پتلا ہے پھانسی کا پھندا اس کے گلے سے نکل جائے گا اس کو پھانسی نہیں ہو سکتی۔ حاکم نے بھی اس کا معائنہ کیا اور اسے حقیقت میں بہت ضعیف اور ناتواں پایا۔حاکم نے کہا کہ جاؤ کسی موٹے تازے آدمی کو پکڑ لاؤ؟ اس لاغر اور ناتواں آدمی کے بدلے اسے سولی پر چڑھا کر پھانسی دے دو۔اب چیلہ ان دنوں میں کھا پی کر خوب ہٹا کٹا اور موٹا تازہ ہوگیا تھا۔سپاہی اسے پکڑ کر لے گئے پھانسی کا پھندا اس کے گلے میں پورا آگیا۔حاکم بھی اسے دیکھ کر خوش ہوکر کہا کہ ہاں! یہ شخص پھانسی کے قابل ہے اللہ کا شکر ہے کہ ہم مقتول کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔چیلہ دہائی دینے لگا کہ صاحب میرا قصور کیا ہے؟ حاکم نے کہا کہ قصور تو کوئی بھی نہیں لیکن تو خوب موٹا ہے پھانسی کاپھندا تیرے سوا کسی کے گلے میں فٹ نہیں آئے گا اور حکم دیا کہ اس کی آخری خواہش پوری کر دی جائے۔چیلے نے اپنے گرو سے ملنے کی آخری خواہش ظاہر کی۔ اس وقت گرو بھی چیلے کی خبر گیری کے لیے پہنچ گیا تھا اور گرو نے چیلے سے آہستہ سے کہا ”کہ اور کھاؤ ایک روپے کلو کی حلوہ پوری،ابے تجھ سے کہا تھا کہ یہ شہر”بیداد نگری“ہے۔یہاں سے بھاگ۔تو نے نہیں مانا اب اپنے کئے کو بھگتو“۔چیلے نے گرو کی منت سماجت شروع کردی کہ بس میری توبہ ہے آئندہ آپ کا حکم عدولی نہیں کروں گا۔ ایک دفعہ مجھے بچا لیجئے۔گرو نے کہا خیر اب میں کہوں گا کہ پہلے مجھے پھانسی دے دو۔تم نے کہنا ہے کہ نہیں، پہلے مجھے پھانسی دے دو۔دونوں نے حاکم سے پھانسی کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کردیا۔حاکم نے حیران ہو کر پوچھا کہ لوگ تو پھانسی کے نام سے ڈرتے ہیں اور تم دونوں اس کی تمنا کر رہے ہو۔گرو نے کہا کہ خوش قسمتی سے اس وقت وہ مبارک ساعت ہے کہ جس کو بھی پھانسی ملے گی وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔حاکم نے کہا کہ اگر یہ بات ہے تو پہلے مجھے پھانسی دے دو۔چنانچہ حاکم کو پھانسی دی گئی اور یہ دونوں بھاگ گئے۔اس طرح چیلے کی جان بچ گئی اور گرو جی اسے لے کر بھاگ گئے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ جہاں سستے مہنگے،چھوٹے بڑے،کمزور اور پہلوان میں فرق نہ ہو اس کو چوپٹ راج،اندھیر نگری یا بیدادنگری کہتے ہیں۔
خیراس کہانی کا تو پی ٹی آئی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اگر کوئی سمجھدار ی سے تعلق جوڑنے کی کوشش کریں تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے ویسے بھی ہماری باشعور قوم سمجھتی ہے اور مجھے امید ہے کہ کوئی تعلق جوڑنے والا نہیں ہوگا۔ اب آتے ہیں پشاور سے تین بڑی خبروں کی طرف۔۔۔پشاور سے پہلی خبر ہے کہ کے پی اسمبلی نے تاریخ رقم کردی اسمبلی کا سستا معمول کا اجلاس عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے“ ویسے بھی سب کو معلوم ہے کہ موجودہ قیادت کپتان کو رہا کرنا نہیں چاہتی۔موجودہ قیادت بھی سمجھتی ہے کہ کپتان کی رہائی سے ان کی اجارہ داری،رزق روٹی ختم ہو جائے گی اور عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے اس قسم کے تماشا گاہے بگاہے لگاتے رہتے ہیں۔اگر خان کی رہائی مقصود ہوتی تو اس کے سینگڑوں طریقہ کار موجود ہیں جس میں سے قیادت ایک کو بھی اختیار کرنے کی کوشش نہیں کر رہی۔خان صاحب کی بہنیں یقینا خان صاحب کے خیر خواہ ہونگی لیکن پی ٹی آئی کی قیادت ان کے خلاف محاذ بنائے رکھی ہے ان کی کوئی ایک بات بھی نہیں سنی جاتی۔ ڈائیلاک ماسڑ وطن عزیز کے کلیدی عہدے پر براجمان ہے ان سے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہورہی۔وزیر اعظم سے وزیر اعلی کی آئے روز ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن خان کی رہائی کے لئے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہورہی۔سوال یہ ہے کہ اسٹیڈیم میں اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے سے کیا خان صاحب کی رہائی ممکن ہو سکے گی؟کیا ایک فیصد بھی چانس ہے؟بالکل نہیں،یہ صرف ایک کھلے فضا میں اپنے من کی تسکین کے سوا کچھ بھی نہیں۔کیا اس میدان میں عوام کو شریک کیا گیا؟ بالکل نہیں۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے پنجاب کے امیر لوگ مری کی سیر کو نکلے۔
پشاور سے دوسری خبر ہے کہ 22 اپریل خیبرپختونخوا میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے تاریخی اجلاس کے موقع پر کرکٹ اسٹیڈیم کے اطراف میں تمام قائم دکانیں اور بازار مکمل طور پر بند کر دیے گئے، جس پر تاجروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔بدھ کے روز طلب کیا گیا اسمبلی اجلاس سہ پہر تین بجے ہونا تھا تاہم کارروائی تقریباً دو گھنٹے تاخیر سے شام پانچ بجے شروع ہوئی اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی گئی۔ سکیورٹی انتظامات کے تحت اسٹیڈیم کے گردونواح میں قائم مارکیٹیں بند کروا دی گئیں جبکہ علاقے میں سکیورٹی اداروں، بیوروکریسی اور اراکین اسمبلی کی گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے نئے سرے سے انتظامت کئے گئے۔ اسمبلی اراکین کے اسٹیڈیم پہنچنے کے تمام راستے عام ٹریفک کے لئے بند کردئے گئے۔ فل پروف سکیورٹی انتظامات کر دئے گئے۔ مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اجلاس میں مدعو کیا گیا بیوروکریسی کے علاوہ اسمبلی کے ممبران کے متعلقہ افراد کو شامل کیا گیا۔ان کے لئے خصوصی انتظامات کر دئے گئے۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبار کی بندش سے انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا۔تاجروں کے مطابق اگر حکومت کو واقعی عوامی مسائل کا احساس ہوتا تو بازار بند نہ کیے جاتے۔ تاجروں نے اسمبلی اجلاس کو“غیر ضروری اقدام”قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا عام شہریوں کوکوئی براہ راست فائدہ نہیں ہوابلکہ یہ محض عوامی وسائل کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔واضح رہے کہ کرکٹ اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے اجلاس کوصوبائی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کے انتظامات اور اثرات پر مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔اسمبلی کی تمام تر سہولیات کو اسٹیڈیم منتقل کر دیا گیا کارپٹ بچھائے گئے شدید گرمی کے پیش نظر ائیر کولر نصب کئے گئے،کئی ٹرکوں میں لوڈ کرسیاں ٹیبل ساؤنڈ سسٹم پہنچایا گیا ظاہر ہے اس پر پیسے تو لگے ہونگے ایک اندازے کے مطابق مبینہ طور پر تین کروڑ سے زیادہ خرچ کیا گیا۔ اسٹیڈیم اور ٹیبلوں کو سجانے کے لئے لاکھوں روپے کے پھول خریدے گئے۔
پشاور سے تیسری خبریہ ہے کہ عمران خان اسٹیڈیم پشاور میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران شدید آندھی چل گئی، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنا خطاب مختصر کردیا۔آندھی کے باعث ساؤنڈ سسٹم نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا، وزیرِ اعلیٰ تقریر چھوڑ کر چلے گئے، اسمبلی کے ایک ملازم کے سر پر بورڈ گرنے سے سر پھٹ کرزخمی ہوگیا، جسے اسپتال منتقل کردیا گیا، اسپیکر نے اجلاس کو27 اپریل تک ملتوی کردیا.وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس حوالے سے کہا کہ میں جمہوری شخص تھا،ہوں، اور رہوں گا، قومی اسمبلی، وزیراعظم، چیف جسٹس کو خطوط لکھے اور پٹیشن دائر کی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمیں مسلسل بند گلی میں دھکیلا جا رہا ہے، ورکرز کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، آئین احتجاج کا حق دیتا ہے، احتجاج نہیں کروں گا تو کیا کروں گا؟ سوال یہ ہے کہ وزیر اعلی صاحب: یہ انوکھا احتجاج آپ کو کس نے سیکھایا ہے؟ کیا اس سے خان صاحب کی رہائی ہوگی؟یا ایک غریب مقروض صوبہ جو پہلے سے خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہا ہے جن کے دو کروڑ روپے اپنے من کی تسکین کے لئے ڈبو دیا۔آپ کو بند گلی میں نہیں کھلے اسمان تلے اسٹیڈیم کی طرف کس نے دھکیلا ہے؟۔آپ اس طرح احتجاج کو اپنا حق سمجھ کر غریب عوام کے ٹیکسوں کے پیسے بے دریع ضائع کرو گے؟ اتنی بھاری رقم سے کہیں ایک پل بن سکتا تھا کسی سکول کی تعمیر ہو سکتی تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے سنجیدگی سے کسی مقتدر حلقے میں خان کی رہائی بات کی ہے؟ کیا سنجیدہ ڈائیلاگ کیا ہے؟ہرگز نہیں۔ کیا آپ کے حلقہ احباب میں سے کسی نے خان صاحب سے اپنے مزاج میں نرمی لانے اور جمہور ی روایات اپنانے کے حوالے سے ڈائیلاگ کیا ہے؟ہر گز نہیں،بلکہ آپ لوگوں نے نومئی اور اس جیسے کاروائیاں کرکے خان صاحب کو مزید پابند سلاسل کر دیا ہے۔ آپ کے غیر جمہوری روایات خان صاحب کی رہائی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حکومتی اراکین بار بار جمہوری ڈائیلاگ کی آفر کر تے ہیں جو کہ تمہیں سمجھ نہیں آرہی ہے۔باشعور ورکر بھی اپنی موجودہ قیادت سے مطمئن نہیں ہے۔ دوسری طرف انٹر نیشنل سطح پر پاکستان اس وقت دنیا کا مرکز نگاہ ہے ایک بین الاقوامی سطح پر سپر پاور بن چکا ہے اس کو اگے لے جانے کے لئے تمام پاکستانیوں بشمول خان صاحب ایک پیچ میں منظم طریقے سے رہنے کی ضرورت ہے ہر طرف دشمن کا یلغار ہے اپنی انا کو کچل کر ملک کے لئے ایک ہونے کی اشد ضرورت ہے موجودہ حالات کے تناظر میں سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف،وزیر اعظم میاں شہباز شریف،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی دن رات کوششوں سے وطن عزیر ناقابل تسخیر بن چکا ہے لیکن دشمنوں کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔دفاعی طور پر فیلڈ مارشل صاحب کے ہاتھ مضبوط کرنے کی اشدضرورت ہے۔فیلڈ مارشل صاحب کی دانائی، جرات، بہادری اور فہم وفراست کومیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے۔۔۔۔بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
صاحب اقتدار اور مقتدرہ حلقوں کو بھی چاہئے کہ ڈائیلاگ کا سلسلہ جاری رکھیں۔خان کے اوپر بنائے گئے جھوٹے مقدمات ختم کئے جائے اور جمہوری روایات کو اپناتے ہوئے اس ملک کو اگے لے جانے میں مدد کریں۔ منہ پھٹ وزیروں کو لگام دے کر باوقار صاحب کردار اور صاحب گفتگو سیاستدانوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو جیل میں قید کپتان سے بامعنی ڈائیلاگ کریں تمام سیاستدانوں کو بلا تفریق قومی دھارے میں شامل کریں یہ بات حقیقت ہے کہ خان صاحب بذات خودپاکستان کی سیاسست میں ایک حقیقت ہے پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں اسے عوامی حمایت حاصل ہے اسے تسلیم کیاجائے ہر طرف انتقامی سیاست کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ۔۔۔۔ پاکستان ہے تو آپ اور ہم سب ہیں۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔۔۔پسند آئے تو پیچ کو فالو کریں شیئر،لائک اور کومنٹ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔۔۔ اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہوں

