Skip to content

دنیا کے سیاہ و سفید کا مالک بننے کی کوشش کرنے والا غریب کاشتکار کا بیٹا بابا ٹرمپ کون ہے؟ ۔۔تحریر ۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

دنیا کے سیاہ و سفید کا مالک بننے کی کوشش کرنے والا بابا ٹرمپ کون ہے؟ ایک غریب کاشتکار کا بیٹا کس طرح امریکہ کا صدر بنا؟اب امریکہ کو کس طرف لے جانے لگا ہے؟۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
ڈونلڈ ٹرمپ 14 جون 1946 کو نیویارک کے شہر کوئینز میں پیدا ہوئے،ٹرمپ کے والد کانام فریڈ ٹرمپ تھا۔فریڈ ٹرمپ بنیادی طور پر ایک کاشت کار تھے لیکن ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ میں اچھے بزنس مین بھی تھے۔ان کی والدہ میری این میکلوڈایک غریب اسکاٹش خاندان سے تعلق رکھتی تھی دونوں نے ٹرمپ کی ذہانت کے پیش نظر ان کی تعلیم کا خاص اہتمام کیا۔ کہتے ہیں کہ جب ڈونلڈ ٹرمپ 13 سال کے تھے تو ان کے والد کو ان کے کمرے میں بٹن سے کھلنے والا ایک چاقو ملا اور انھوں نے فوراً ان کی ذہنی سطح کی اصلاح کے لیے انھیں ملٹری سکول روانہ کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک ملٹری اکیڈمی اور یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے واٹرن اسکول آف فائنانس اینڈ کامرس میں تعلیم حاصل کی، 1968ء میں یونیورسٹی آف پنسلوانیا سے معاشیات میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اپنے والد کے ساتھ ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں کام شروع کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے والد نے انہیں 1971 میں اپنے ریئل اسٹیٹ بزنس کا صدر منتخب کیا، بہت سی ناکامیوں کے باوجود وقتا فوقتا کامیاب بھی ہوتے رہے آخر کار بیسویں صدی کے آخر میں کاروباری ناکامیوں کے ایک وسیع سلسلے کے بعد انہوں نے کم سرمائے سے ایسے منصوبے شروع کیے، جن میں انہیں اچھی خاصی کامیابی حاصل ہوئی۔ ٹرمپ نے اپنے والد کے کاروبار کو”ٹرمپ آرگنائزیشن“ کا نام دیا اور کمپنی کو فلک بوس عمارتوں، ہوٹلوں، کیسینو اور گولف کورسز کی تعمیر اور تزئین و آرائش کی طرف موڑ دیا۔اس میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی۔کئی بڑے ہوٹلوں کے مالک بنے اور ہوٹل منیجمنٹ میں اچھا تجربہ حاصل کیا اور نیویارک کے امراء میں ان کا شمار ہونے لگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بزنس کیرئیر میں جو اہم کام کیا وہ شہر مین ہیٹن میں ٹرمپ ٹاور کی تعمیرہے لیکن اس کی تعمیر کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ بہت سے تنازعات میں گھرے رہے۔ اس کی تعمیر میں بغیر قانونی دستاویزات والے پولینڈ کے مزدوروں نے اہم کردار ادا کیا۔ نیویارک ٹائمز نے اس جگہ موجود دو آرٹ ڈیکو کو منہدم کرنے کے لیے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن ایک بار جب 28 منزلہ عمارت تیار ہوگئی تو نیویارک کے میئر ایڈ کوچ سمیت سات سو مہمانوں نے بابا ٹرمپ کی افتتاحی پارٹی میں شرکت کی۔ جشن کے طور پر میڈیسن ایونیو پر 10 ہزار غبارے چھوڑے گئے۔ اس عمارت نے ٹرمپ کے نام کو مین ہیٹن میں مستحکم کر دیا اور وہ آج تک وہیں رہتے ہیں اور وہیں سے کام کرتے ہیں مزے کی بات یہ ہے جب بابا جب صدر بنے سب سے پہلے ان لوگوں کو ملک بدر کیا جنہوں نے ٹرمپ ٹاور میں ان کی مدد کی تھی یہ بھی احسان فراموشی کی لمبی کہانی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک بہترین مصنف بھی ہیں انہوں نے 14 سے زائد کتابیں لکھیں۔ٹرمپ کی پہلی کتاب ’دا آرٹ آف دی ڈیل‘ نومبر 1987 میں شائع ہوئی جس میں قارئین کو ان کی کامیابی کے راز بتانے کا دعویٰ کیا گیا۔ یہ کتاب نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر کتابوں کی فہرست میں 48 ہفتوں تک رہی جن میں سے 13 ہفتے سرفہرست رہی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بابا اچھے مصنف ہیں۔ اس کتاب سے نہ صرف ٹرمپ کو رائلٹی کی شکل میں لاکھوں ڈالر کی آمدنی ہوئی بلکہ ان کی شہرت بڑھ گئی۔ انھیں تجارت کے ہنر میں ایک عالمی علامت کے طور پر دیکھا جانے لگا اور انھیں اپنی محنت کے بل بوتے پر کامیاب ہونے والے شخص کے طور پر دیکھا جانے لگا۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کے لیے آمدنی بلندیاں چھونے لگی۔ آنے والے دنوں میں انھوں نے ٹرمپ ایئرلائنز شروع کی اور سینکڑوں عمارتیں تعمیر کیں اور اتنا منافع کمایا کہ انھوں نے اپنی یاٹ خریدی جس کا نام ’ٹرمپ پرنسیس‘ رکھا۔
مصنف ہونے کے علاوہ 2004 سے 2015 تک انہوں نے ٹیلی ویژن شو ”دی اپرینٹیس“ کی میزبانی اور پروڈکشن بھی کی۔ ٹیلی ویژن میزبانی کی وجہ سے امریکہ میں زیادہ مشہور ہوئے ان کی نرم،اسٹیٹ فارورڈ اور جارحانہ گفتگو کو لوگ پسند کرنے لگے۔1977 ء میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانہ ٹرمپ سے شادی کی۔جوکہ ایک امریکی کاروباری اور ماڈل خاتون تھی شادی سے پہلے وہ ٹرمپ ارگنائزیشن میں اہم عہدوں میں کام کرتی رہی اور ساتھ ساتھ وہ رائیٹر اور مصنفہ بھی تھی 1990 ء میں بابا ٹرمپ سے جدائی ہوگئی 1993ء میں دوسری شادی ماریہ میپلیس سے ہوئی۔یہ بھی ایک امریکی ماڈل،گلوکار،ٹی وی اینکر خاتون تھی 1998 ء میں بابا ٹرمپ کی ذہنی سطح پر پورا نہ اتر سکی جدائی ہوگئی اور 1999 ء میں طلاق کی نوبت آئی۔ 2005 میں سلووینیائی نژاد امریکی ماڈل میلانیا سے شادی کی، جو ایک ماڈل رہ چکی تھیں، ان کا ایک بیٹا بارون ہے اس کے علاوہ ان کی سابقہ بیویوں سے ٹرمپ جونئیر، ایوانکا ٹرمپ، ایرک ٹرمپ اور ٹفینی ٹرمپ بھی ہیں، یوں ڈونلڈ ٹرمپ کے 5 بچے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ وطن عزیز کے سیاستدانوں سے بھی کافی مشابہت رکھتاہے یوں تو ان کی سیاسی وابستگی متعدد بار بدل چکی ہے، پہلے انہوں نے 1987 میں مین ہٹن، نیو یارک میں ریپبلکن پارٹی میں شمولیت اختیار کی پھر 1999 میں ریفارم پارٹی میں شامل ہوئے، 2001 میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ممبر بنے، اور 2009 میں دوبارہ ریپبلکن پارٹی میں شامل ہو گئے۔اب یہ پارٹی ان کی مزاج کے زیادہ قریب ہے کیونکہ غنڈہ گردی دہشت گردی کا عنصر ان میں کچھ زیادہ ہے جبکہ امریکہ میں دوسری بڑی پارٹی ڈیموکریٹک پارٹی ہے جوجمہوری نظام کے حامی ہیں جو کہ دنیا میں فتنہ و فساد کی بجائے امریکہ کی ترقی پر توجہ دیتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان 16 جون 2015 میں کیا۔ جولائی 2016 میں انہوں نے ریپبلیکن پارٹی کی نامزدگی قبول کی۔ 8 نومبر 2016 کو امریکا کے صدر منتخب ہوگئے، انہوں نے 20 جنوری 2017 کو امریکا کے 45ویں صدر کے طور پر حلف اٹھایا۔الیکشن کے میدان کارزار میں انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کے خلاف ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی۔ مہم کے دوران، ان کے سیاسی عہدوں کو پاپولسٹ، تحفظ پسند، تنہائی پسند، اور قوم پرست قرار دیا گیا۔وہ واحد امریکی صدر ہیں جنہوں نے اپنے عہدہ صدارت سے قبل کوئی سیاسی یا عسکری خدمات حاصل نہیں کی تھی۔ بزنس کے علاوہ سرکاری امور کی انجام دہی میں کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے اسی وجہ سے انتخابات کے دوران لوگوں سے جھوٹے وعدے کئے، اور وہ پہلے شخص ہیں جن پر عہدہ چھوڑنے کے بعد کسی جرم کا الزام لگایا گیا اور سزا سنائی گئی، انہیں تاریخ دانوں کی جانب سے امریکی تاریخ کے بدترین انتہا پسند صدر بھی قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے سازشی نظریات کو فروغ دیا اور اپنی مہمات اور صدارت کے دوران بہت سے جھوٹے اور گمراہ کن متنازعہ بیانات دئے، جس کی امریکی سیاست میں مثال نہیں ملتی۔ ان کے بہت سے تبصروں کو نسل پرستی کے طور پر نمایاں کیا گیا۔ یہاں تک کہ ان کو فاشست اور جارحانہ انداز رکھنے والا سخت گیر بھی کہا گیاان کے بیانات میں بھی تضاد اور یوٹرن کا عنصر اکثر دیکھنے کو ملتا رہا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2020ء کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن سے ہارنے کے بعد انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلیوں کا جھوٹا دعویٰ کیا، اور مبینہ طور پر حکومتی اہلکاروں پر دباؤ ڈال کر، متعدد ناکام قانونی چیلنجز کو بڑھا کر، صدارت کے عہدے کی منتقلی میں رکاوٹ ڈال کر نتائج کو الٹنے کی ناکام کوشش بھی کی۔اور جوبائیڈن کی تقریب حلف برداری میں دیگر امریکن صدور کے ساتھ شرکت کرنے سے بھی انکار کیا وائٹ ہاوس سے سیدھے نیو یارک مین ہیٹن کی طرف روانہ ہوا اور ٹرمپ ٹاور میں سکونت اختیار کی۔
بابا ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ اپنی صدارتی مہم پر خرچہ وہ اپنی جیب سے کریں گے تاکہ وہ عطیات دینے والوں کے زیرِ اثر نہ رہیں۔انہوں نے میکسیکو سے امریکا آنے والے تارکینِ وطن کے بارے میں کہا تھا کہ ان میں سے بہت سے ریپسٹ اور منشیات فروش ہیں، انہوں نے کہا کہ میں امریکی آئین کی دوسری ترمیم یعنی عام شہریوں کے ہتھیار رکھنے کے حق کو محفوظ رکھوں گا۔انہوں نے ہمسایہ ملک میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے سمیت اوباما کیئر کے دیگر منصوبوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ مسلمانوں کی امیگریشن پر پابندی عائد کرنے اور امریکا کے بین الاقوامی تجارتی معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کے دعوے کیے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار کے دوران امریکی ٹیکس کوڈ میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں، میکسیکو، کینیڈا، چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر نظر ثانی کی گئی اور سخت شرائط لگائے گئے، مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی ٹیرف میں اضافہ کیا، فوج کو بڑھایا گیا۔ اس کے علاوہ بحیثیت صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ اقتدار میں مزید کچھ بڑے کاموں میں داعش کو شکست دینا، بحران کا مقابلہ کرنا، عالمی وبا ئی مرض کورونا وائرس کے حوالے سے عالمی سطح پر جواب دینا، وفاقی ججز کی تقرری وغیرہ شامل ہیں جو ان کی ناکام مشن کا حص ہ بنتے رہے۔اسی طرح کی تنقیدیں، جو پہلی بار 2015 سے کی گئی تھیں،
ٹرمپ نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف سیاسی تشدد کی حمایت کی۔ بہت سے قانونی ماہرین نے 6 جنوری کو یو ایس کیپیٹل حملے میں ٹرمپ کے ملوث ہونے کو ان کے فاشزم کی بدترین مثال قرار دی گئی۔ غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں ان کی بیان بازی اور بڑے پیمانے پر ملک بدری اور خاندانی علیحدگی کی ان کی پالیسیوں کے حوالے سے ٹرمپ پر نسل پرستی اور زینو فوبیا کا الزام لگایا گیا۔ خاص طور پر ان کی دوسری مدت کے دوران، فاشزم کے متعدد ماہرین نے ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں کے بیان بازی اور طرز حکمرانی کو آمرانہ قرار دیا اور ان کا موازنہ سابق فاشسٹ رہنماؤں سے کیا گیا۔ اس کے برعکس، کچھ اسکالرز نے ٹرمپ کو مختلف انداز میں ایک آمرانہ پاپولسٹ، ایک انتہائی دائیں بازو کے پاپولسٹ، ایک قوم پرست، یا ایک مختلف نظریہ کے طور پر مختلف فورم میں بیان کیا ہے۔
6 جنوری 2021 ء کو، اس نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ یو ایس کیپیٹل کی طرف مارچ کریں، جس پر ان میں سے اکثر نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد اموات ہوئیں اور انتخابی ووٹوں کی گنتی میں خلل پڑا۔
ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جن کا دو بار مواخذہ ہوا ہے۔ بائیڈن کی تحقیقات کے لیے 2019ء میں یوکرین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرنے کے بعد، ایوان نمائندگان نے طاقت کے غلط استعمال اور کانگریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر ان کا مواخذہ کیا۔ انھیں فروری 2020ء میں سینیٹ نے بری کر دیا۔ ایوان نے ان کا جنوری 2021ء میں بغاوت پر اکسانے کے الزام میں دوبارہ مواخذہ کیا اور فروری میں سینیٹ نے انھیں اس کیس سے بھی بری کر دیا۔ اسکالرز اور مورخین بابا ٹرمپ کو امریکی تاریخ کے بدترین صدور میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔
5 نومبر، 2024ء کو، ٹرمپ نے 2024ء کے صدارتی انتخابات میں اس وقت کے نائب صدر کملا ہیرس کو شکست دی اور ساتھی جے ڈی وینس کے ساتھ صدر کے طور پر مسلسل دوسری بار کامیابی حاصل کی۔اور ڈی جے وینس کو امریکہ کا نائب صدر منتخب کیا جو بابا ٹرمپ کے انتہائی قابل اعتماد دوست ہیں ایران امریکہ مذاکرات میں بھی وفد کی قیادت کرکے اسلام آباد ٹاک کے لئے آئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ ایک مرتبہ بھر اپنے امن اور امریکہ فرسٹ کے نعرہ سے روگردانی کرکے اپنی فطری مزاج کے عین مطابق دنیا کو عالمی جنگ کی طرف دھکیل دیا ہے وینزویلہ پر قبضہ کرنے کے بعد یوکرین جنگ کو بھی ہوا دی اور ساتھ اپنے روحانی مقدس سلطنت اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی طرف کود پڑا ہے اپنی جارحانہ اور انتقامانہ نظریات کے ساتھ امریکہ کو بربادی کے چوتھے اسٹیچ پر کھڑا کیا ہے اس وقت ایران کے ساتھ جنگ بابا کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس گئی ہے۔مڈل ایسٹ میں امریکہ کے تمام اڈے تباہ ہو چکے ہیں۔روزانہ کی بنیا دپر دو ارب ڈالر کا امریکہ کا نقصان ہو رہا ہے ابراہام لنکن جیسے مضبوط بحری بیڑے سمندروں میں تباہ ہو چکے ہیں اسی سالہ بابا ٹرمپ کے خلاف امریکہ کے ایوان بالا اور کانگریس میں بھی آوازیں بلند ہورہی ہیں۔
یاد رہے دنیا کے ماضی کے تمام سپر پاور وں کی تباہی کے چھ اسٹیچ رہے ہیں اس وقت اسی مناسبت سے امریکہ چوتھے اسٹیچ پر کھڑا ہے بابا ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے لئے گورباچوف بن سکتا ہے امریکہ کے تمام اثاثے اور فوجی قوت پوری دنیا میں بکھرے ہوئے ہیں۔ باقی معاملات آپ کے سامنے ہیں آنے والا وقت بابا ٹرمپ کی مزید کہانیاں سنائے گا ۔۔۔۔تحریر پسند آئے تو پیچ کو فالو کرکے لائک،شیئر اورکومنٹ سیکشن میں اپنی رائے سے ضرور اگاہ کیجئے۔۔۔ اجازت دیجئے اللہ حافظ۔