چترال کے سب سے بڑے ادیب مولانا نقیب اللہ رازی
مولانا محمد نقیب ﷲ رازی چترال کے سب سے بڑے ادیب ہیں ، ممکن ہے کسی کو ہمارے اس دعوے اور رائے سے اختلاف ہو البتہ ہم اپنے موقف کے حق میں مضبوط دلائل رکھتے ہیں ،حقیقت یہ ہے کہ چترال کے ادبی منظرنامے میں جس قدر ہمہ جہت اور معیاری کام مولانا رازی نے انجام دیا ہے، اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔مولانا رازی نہ صرف کھوار زبان کے صاحبِ اسلوب ادیب اور قادرالکلام شاعر ہیں بلکہ وہ اردو زبان میں بھی اعلیٰ معیار کی شاعری اور نثر نگاری کے جوہر دکھا چکے ہیں۔ ان کی تحریروں میں فکری گہرائی، اسلوب کی پختگی اور زبان پر کامل دسترس نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی اردو شاعری کا مجموعہ ” بہار زندگی” شائع ہو چکا ہے جسے اہل فن کی جانب بھرپور داد و تحسین سے نوازا جا چکا ہےکھوار زبان میں عروض و قوافی پر اولین کام کرنے کا اعزاز بھی مولانا رازی کو حاصل ہے۔ ان کی تصنیف “کھوار عروض و قوافی” اس حوالے سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں انہوں نے نہ صرف شاعری کے بنیادی اصول و ضوابط بیان کیے ہیں بلکہ کھوار زبان میں مختلف بحور ، مثالیں اور اشعار تقطیع کے ساتھ پیش کئے ہیں۔ یہ کتاب کھوار زبان میں عروضی شاعری کے طلبہ اور شائقین کے لیے ایک نہایت قیمتی خزانہ ہے۔کھوار زبان و ادب کی تاریخ پر بھی مولانا رازی کا کام نہایت اہم اور جامع ہے۔ ان کی کتاب “مختصر تاریخ کھوار زبان و ادب” اپنے موضوع پر ایک مستند اور وقیع تصنیف ہے، جسے ادارہ فروغِ قومی زبان نے شائع کیا ہے ،اس کتاب میں انہوں نے کھوار زبان کی تاریخ ، اس کے ارتقائی سفر، آس کے صوتیاتی نظام ، لسانی اسلوب اور رسم الخط سمیت تمام اہم پہلوؤں پر نہایت منظم اور تحقیقی انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ذیل میں ہم مولانا نقیب اللہ رازی کی حیات و خدمات پر مختصراً روشنی ڈالیں گے، تاکہ چترال کے اس قابلِ فخر سپوت کی علمی و ادبی عظمت کا کسی حد تک اندازہ ہو سکے۔
پیدائش اور تعلیم
مولانا نقیب اللہ رازی سن 1965 میں لوئیر چترال کے گاؤں “شیشی کوہ” کے ایک علمی خانوادے میں پیدا ہوئے، ان کے والد مولانا سعید ا اللہ مرحوم اپنے وقت کے ایک جید عالم دین اور معروف روحانی شخصیت تھے ، مولانا رازی نے اسکول کی تعلیم ” گورنمنٹ ہائی اسکول برگہ نسار شیشی کوہ میں حاصل کی جبکہ قرآن کریم اور بنیادی دینی کتابیں اپنے والد ماجد سے پڑھیں ، والد کے علمی اور دینی پس منظر اور گھر کے مذہبی ماحول نے ان کے دل میں عالم دین بننے کی خواہش جگائی جس کی تکمیل کے لئے انہوں نے 1979 میں پاکستان کے سب سے بڑے علمی مرکز کراچی کا سفر کیا ، یہاں ملک کی معروف دینی درسگاہ ” جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن” میں داخلہ لیا ،1987 میں اسی جامعے سے درس نظامی کی تکمیل کی اور وفاق المدارس العربیہ کے تحت امتیازی نمبروں سے امتحان پاس کیا۔مزید علمی پیاس بجھانے کے لئے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کا رخ کیا اور فقہ میں تخصص کرکے مفتی کی سند حاصل کی مولانا رازی دینی تعلیم کی تکمیل کے بعد عصری تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ خود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکیں ، پہلے مرحلے میں انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کیا ، پھر مالاکنڈ یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ، بعد ازاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی ایڈ کیا جبکہ شیرینگل یونیورسٹی دیر سے ایم فل کیا ، اتنا کچھ پڑھنے کے باوجود بھی ان کی علمی پیاس ہے کہ بجھنے کا نام نہیں لے رہی ، وہ آج بھی اپنے علمی سفر پر نہایت جوش و ولولے کے ساتھ گامزن ہیں چنانچہ شرینگل یونیورسٹی دیر سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں رواں سال ان کے علمی سفر کا یہ اہم مرحلہ بھی سر ہو جائے گا
تدریسی خدمات
مولانا رازی نے 24 سال تک مختلف اسکولوں میں عربی کے استاد کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دیں، سن 2011ء سے اب تک شیرینگل یونیورسٹی دیر اور چترال یونیورسٹی میں بہ طور پروفیسر طلبہ کی علمی پیاس بجھا رہے ہیں ،وہ اس کے علاوہ رائٹ کالج دروش میں بھی بہ طور لیکچرر کام کر چکے ہیں ، ایک عالم دین ہونے کے ناتے جامعہ تعلیم الاسلام للبنات دروش میں چھ سال تک استاذ حدیث کی حیثیت سے بھی تدریسی فرائض انجام دے چکے ہیں
تصنیفی خدمات اور مطبوعہ کتب
مولانا نقیب اللہ رازی نے تصنیف کے میدان میں غیر معمولی کام کیا ہے ، شاید چترال کی سطح پر سب سے زیادہ تصنیفی کام انہی کا ہے ، مختلف علمی اور ادبی موضوعات پر ان کی درجنوں گراں قدر کتابیں منصہ شہود پر آ چکی ہیں ، افادے کی خاطر ذیل میں ہم ان کی مطبوعہ کتب کی فہرست پیش کیے دیتے ہیں
عرف کی شرعی حیثیت
جنگلات اور رائلٹی کی شرعی حیثیت
معراج مومن
مختصر تاریخ کھوار زبان وادب
کھوار عروض وقوافی
مشک ختن
چیچیقان تربیتی کتاب
حیوانات کے طبی فوائد
آقاۓ نامدارمحمد صلى الله عليه واله وسلم(نعتیہ مجموعہ
آقا تتے سلام(نعتیہ مجموعہ)
بہار زندگی(اردو مجموعہ کلام)
کھوار قواعد
کھوار لوک داستانیں
کھوار ترجمہ قرآن
کھوار ترجمہ قرآن کی خصوصیت
اگرچہ قرآن کریم کے کھوار ترجمے پر ابتدائی کام انیسویں صدی کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا حاجی فضل کریم رحمہ اللہ (کشمی) نے کیا تھا ، لیکن ان کا کام چند سورتوں کے ترجمے تک محدود تھا ،ان کے بعد قاری بزرگ شاہ الازھری نے اس اہم ترین کام کا بیڑا اٹھایا اور پورے قرآن مجید کا کھوار زبان میں ترجمہ کیا ، یہ قاری صاحب کے لئے ایک بڑی سعادت ہونے کے ساتھ کھوار زبان وادب پر بھی بڑا احسان ہے ، البتہ اس حوالے سے مزید جامع اور بہتر کام کی گنجائش موجود تھی ، اسی ضرورت کے پیش نظر مولانا نقیب اللہ رازی چند سالوں سے کلام الہی کی اس عظیم خدمت میں جتے ہوئے ہیں ،اب تک آپ کے فیض رساں قلم سے 16 پاروں کا کھوار ترجمہ مکمل ہو چکا ہے جبکہ ایک پارہ چھپ کر منظر عام پر بھی آ چکا ہے ، مولانا رازی یہ اہم اور حساس کام نہایت اہتمام اور غایت احتیاط سے انجام دے رہے ہیں ، اس قدر احتیاط کہ ہر پارہ مکمل ہونے کے بعد چترال کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے چیدہ علماء کی پندرہ رکنی کمیٹی کو اس کی کاپی بھیجی جاتی ہے بیس دن یا اس سے زائد مدت تک یہ ان کے زیر مطالعہ رہتا ہے جس کے بعد یہ علماء ایک مقام پر جمع ہو کر علمی مناقشہ کرتے ہیں اور ہر ہر لفظ کے ترجمے پر مدلل بحث کی جاتی ہے اس مرحلے کے بعد ترجمے میں اصلاح یا اسی کی توثیق کی جاتی ہے اس کے بعد اس پارے کے ترجمہ کو منظور کیاجاتا ہے، چونکہ کھوار لکھنے ، آیات اور رکوع کی علامتیں لگانے اور کمپوزنگ میں بہت زیادہ وقت صرف ہوتا ہے ۔اسی بنا پر اس اہم کام کی تکمیل میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں
ادبی عہدے و نمایاں کام
مولانا نقیب اللہ رازی چترال کی سب سے قدیم و معتبر ترین ادبی تنظیم “انجمن ترقی کھوار” کے ضلعی صدر بھی رہے انہوں نے اپنے تین سالہ دور صدارت میں کئی نمایان کام کئے
(1)ان کے دور میں انجمن کو پہلی بار رجسٹرڈ کیا گیا
(2) اس عرصے میں چترال کے اسکولوں کے لیے کھوار نصاب تیار کرنے کےلئے انہوں نے قائدانہ کردار ادا کیا ، آپ کی قیادت میں تیس سے زائد ادباء ، چترال بھر کے ماہرین تعلیم اور اہل دانش نے باہمی اتفاق سے ایک نصاب مرتب کیا جس کی بنیاد پر اب آٹھویں کلاس تک کے لئے کھوار کتابیں چھپ چکی ہیں جو چترال کے اسکولوں میں پڑھائی جارہی ہیں
(3) ان کے عہد صدارت میں کھوار شعراء کی چار کتابیں شائع ہوئیں یہ سب کچھ بہ طور صدر ان کی خصوصی دل چسپی اور ذاتی کوششوں کی بدولت ممکن ہوا
ا(4)اپنے دور صدارت میں انجمن ترقی کھوار کے دستور میں ترمیم کروائی اور شائع کیا
اعزازات
مولانا نقیب اللہ رازی کے کھوار نعتیہ شاعری کے دو مجموعے ” آقائے نامدار” اور “آقا تتے سلام” شائع ہو چکے ہیں اور دونوں کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے ، یہ نہ صرف ان کے کام کا اعلی سرکاری سطح پر اعتراف ہے بلکہ ادبی سطح پر ان کی ںعتیہ شاعری کے بلند معیار کی گواہی بھی ہے ،کم از کم چترال کی سطح پر اس قسم کے اعلی تمغے کے لئے نام زدگی اہل فن کی تائید و توثیق کے بغیر ممکن نہیں ہے ،چترال جیسے ادبی ماحول میں اس نوعیت کے بڑے اعزاز کے لیے نامزدگی محض رسمی عمل نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں اہلِ فن کی سنجیدہ تائید اور معتبر توثیق شامل ہوتی ہے۔ ویسے ان جیسے ادیب کو اس طرح کے تمغوں کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن حق دار تک اس کا حق پہنچنا بہرحال قابل اطمینان امر ہے۔عوامی سطح پر بھی مولانا رازی کی نعتیہ شاعری غیر معمولی مقبولیت کی حامل ہے۔ کھوار نعتیہ ادب میں اس وقت وہ ایک سند اور اتھارٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کھوار زبان کی دس مقبول ترین اور زبان زدِ عام نعتوں کی فہرست مرتب کی جائے تو سرفہرست انہی کی تخلیقات نظر آئیں گی۔ ان کی نعتیہ شاعری میں فنی پختگی کے ساتھ اسلوبی حسن نمایاں ہے؛ ان کے کلام میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرارت بھی موجود ہے اور نعت کے آداب کی نہایت درجہ پاسداری بھی۔ ان کے ہاں مضامین کی تازگی بھی ملتی ہے اور معانی کی گہرائی بھی، یہ سب خوبیاں ان کے کلام کو دیگر ہم عصر شعراء میں ایک خاص امتیاز عطا کرتی ہیں۔
مولانا رازی بہ طور انسان
اگر بحیثیت انسان مولانا رازی کی شخصیت کو دیکھا جائے تو وہ بہت ہی قابلِ رشک نظر آتی ہے۔ وہ نہایت ملنسار، منکسر مزاج ، بے تکلف، باوقار، ہنس مکھ اور خوش اخلاق و خوش گفتار انسان ہیں۔ ان کی نمایاں ترین خوبی یہ ہے کہ وہ چھوٹوں اور جونیئرز کی دل کھول کر ہمت بندھاتے اور فیاضانہ حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔میرا تقریباً پندرہ برس سے ان کے ساتھ براہِ راست تعلق ہے۔ اس عرصے میں انہوں نے مجھے بطورِ قلم کار اور شاعر ہمیشہ حوصلہ دیا ہے اور شاید میرے استحقاق سے سے بڑھ کر دیا۔ جب بھی میرا کوئی نیا اردو کلام منظرِ عام پر آتا ہے، میں اسے واٹس ایپ پر لازماً انہیں کو بھیج دیتا ہوں، اور وہ ہر بار بڑی فراخ دلی سے میری ہمت بڑھاتے ہیں۔ فنی معاملات میں بھی جب کبھی ان سے رہنمائی طلب کی جائے تو وہ بغیر کسی تردد اور بخل کے بھرپور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔وہ جس بلند پایے کے شاعر اور ادیب ہیں، اس کے پیشِ نظر بظاہر ان تک رسائی مشکل ہونی چاہیے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ سچی طلب والوں کے لیے نہایت آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔ہم کراچی والے بھی مولانا رازی کی اس فیاضی سے وقتاً فوقتاً استفادہ کرتے رہتے ہیں، وہ اپنی دستیابی اور سرپرستی سے ہمارے کراچی کے کھوار مشاعروں کی زینت بنتے اور ہماری محافل کی رونق بڑھاتے رہتے ہیں وہ بھی کسی اور غرض سے نہیں صرف ہماری حوصلہ افزائی کی خاطر ، بڑے لوگوں اور اہلِ ظرف کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنی توجہ کے فیض ، اپنے دست شفقت کے لمس اور ستائش کے چند کلمات سے چھوٹوں کو توانائی بخشتے، ان کے حوصلے کو جِلا دیتے اور انہیں بلندیوں کی طرف پرواز کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔
