Skip to content

جمہوریہ لبنان کی اسرائیل کے ساتھ جنگ ، تاریخی حقائق،حزب اللہ کون ؟اور امریکہ کی دخل اندازی کیوں؟

اس مضمون میں ہم آپ کو ایسے ملک کی تاریخی حقائق بتانے جا رہے ہیں جس کے ادھے حصے پر اسرائیل نے ناجائر قبضہ کیا ہوا ہے اوریہ ملک آج کل ایران کے ساتھ مل کر اسرائیل اورامریکہ کے خلاف برسر پیکار ہے۔میں نے یہ بھی ضروری سمجھا کہ وہ ضروری حقائق آپ تک تاریخی حوالے سے دستیاب وسائل کی بنیا د پر اپنے قارئیں کے لئے زیب قرطاس کر سکوں جو بار بار ہمارے انٹر نیشنل میڈیا کی شہ سرخی ہیں۔یہ ایک ایسا ملک تھا کہ ایک زمانے میں عرب ممالک کا سوئٹزرلینڈ تھا ایساملک جس کی تاریخ 7 ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔یہ ہنستا بستا ملک چند ہی ہفتوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔یہ ملک اسلامک ہسٹری میں اہم مقام رکھتا ہے یہ خوبصورت اور تاریخی ملک لبنان کہلاتا ہے دنیا

کے نقشے میں موجود سلطنت ِلبنان کو حیران کن اور عجیب ملک کہا جاتا ہے۔
آج کل امریکہ اسرائیل اور ایران جنگ میں اس ملک کو خاص طور پر ہائیلائٹ کیا گیا ہے۔اسرائیل اس ملک پر دن رات بمباری کر رہا ہے یوں تو یہ بھی کسی سے کم نہیں لبنان میں ایک جنگجو گروپ ”حزب اللہ“بہت منظم تنظیم ہے جولبنانی فوج سے زیادہ طاقتور ہے جو اسرائیل کے ناک میں دَم کیا ہوا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اسرائیل لبنان پر غزہ کی طرح کیوں فضائی حملے کر رہا ہے؟امریکہ جنگ بندی سے کیوں گریزان ہے؟اس ملک میں حزب اللہ کون ہے؟جو امریکہ اور اسرائیل کو بھاگنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔یہ لبنان کتنا طاقتور ملک ہے؟۔مسلمانوں کی تین تہائی اکثریت کے باوجود یہ مسلم ملک کیوں نہیں ہے؟ زیر نظر تحریر میں ہم یہ سب کچھ تاریخی حقائق آپ کو بتائیں گے۔
لبنان کا آفیشل نام ”جمہوریہ لبنان“ ہے یہ بحیرہ روم(Mediterranean Sea) کے کنارے واقع ہے اس وجہ سے لبنان کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایک طرف شام جس کی سرحدتقریبا 400کلومیٹر ہے جبکہ دوسری طرف اسرائیل ناجائز ریاست واقع ہے اس ملک کی کل آبادی تقریبا 65 لاکھ کے قریب ہے جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے 160 نمبر پر آتا ہے۔ اس کا کل رقبہ 11 ہزار مربع کلومیٹر ہے جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 161 نمبر پر آتا ہے لبنان میں ننانوے فیصد لوگ شہروں میں رہتے ہیں اور صرف ایک فیصد لوگ گاؤں میں آباد ہیں۔یہ سن کر آپ کوحیرت ہوگی کہ لبنان میں 67.8 فیصد آبادی مسلم ہے اور 32 فیصد آبادی کرسچن ہے لیکن مسلم آبادی زیادہ ہونے کے باوجودیہ باضابطہ سرکاری طور پرمسلم ملک نہیں ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟تاریخ بتاتی ہے کہ 636 عیسوی سے پہلے اس ملک میں صرف عیسائی آباد تھے اور یہ علاقہ سلطنت روم کے قبضے میں تھا 636 عیسوی میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں سلطنت روم کو عبرت ناک شکست ہوئی تو یہ علاقہ مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور اسلام تیزی سے پھیلنے لگا۔یہاں کی تقریبا نصف آبادی عیسائیت سے توبہ تائب ہو کراسلام میں داخل ہوئے۔دسویں صدی میں شیعہ کمیونٹی لبنان میں آباد ہونا شروع ہوئی۔ سولویں صدی عیسوی میں عثمانی سلطنت کا آغاز ہوا۔ سنی کمیونٹی کے پاس لبنان کی حکومت آگئی۔اس طرح لبنان میں شیعہ، سنی اور عیسائی بڑی تعداد میں آباد ہو گئے۔ لبنان کے سیاسی نظام میں مذہبی تقسیم کا اثرشروع ہوا۔اور آج بھی نظر آتا ہے آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ لبنان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں آج بھی سرکاری تین بڑے عہدے مذہبی بنیاد پر دئے جاتے ہیں۔ جیسا کہ صدر ہمیشہ عیسائی ہوگا۔ وزیراعظم ہمیشہ سنی ہوگا اور پارلیمنٹ کا اسپیکر ہمیشہ شیعہ ہوگا آج تک ایسے ہی چل رہا ہے۔ لبنان کا موجودہ صدر جوزف ایون(joseph Aoun) عیسائیت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ لبنان کے موجودہ وزیراعظم نواف سلام سنی مسلک کے ہیں اور موجودہ سپیکر نبیح بیری شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ 1975 سے 1990 تک لبنان نے مذہبی تقسیم کی وجہ سے اندرونی خانہ جنگی کا شکار رہا جس سے لبنان کو بہت نقصان پہنچا۔ اس خانہ جنگی سے بچنے کے لیے لبنان میں حکومت کا ایسا ماڈل رکھا گیا ہے جو دنیا میں کہیں بھی قائم نہیں ہے اور اسی وجہ سے آفیشل طور پر یہ مسلم ممالک میں شامل نہیں ہے۔ ایک زمانے میں لبنان کو مڈل ایسٹ کا سویزرلینڈ بھی کہا جاتا تھا۔ اتنا خوشحال ترقی کرتا ہوا ملک آج تباہ ہو چکا ہے۔ 80 فیصد سے بھی زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتی ہے انفلیشن(Inflation) ریٹ 200 فیصد تک جا چکا ہے۔ معاشی طور پر لبنان کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔1975 میں جب لبنان میں اندرونی خانہ جنگی شروع ہوئی جو مذہبی تقسیم کی وجہ سے تھی مختلف گروپ بن گئے تھے ان تمام گروپ کو مختلف ممالک سپورٹ کرتے رہے جو اس خانہ جنگی کو ہوا دیتے رہے۔ یعنی لبنان کی تباہی میں ایران،شام اور اسرائیل شامل ہوگئے اس جنگ میں ڈیڑھ لاکھ لوگ مارے گئے 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو لبنان چھوڑنا پڑا۔
1990 کی دہائی میں ان تمام گروپوں کو اکٹھا کیا گیا اور سب کو وزارتیں بانٹ دی گئیں۔جو لوگ 15 سال سے خون بہا رہے تھے انہی کے پاس وزارتیں بھی آگئیں ان سب گروپوں نے مل کر ایک پلان بنایا جس کا سب سے بڑا ماسٹر مائنڈ ریاد سلامی نام کا ایک امریکن بینکر تھا۔ اس کو لبنانی حکومت اپنے ملک میں لے آئی اور ملک کے کلیدی عہدے (اسٹیٹ بنک کے گورنر)پر فائر کر دیا گیا اس لالچ میں کہ امریکہ سے پیسہ آسانی سے مل جائیں گے۔لیکن اس ٹاؤٹ نے لبنان آتے ہی ایک پالیسی اناؤنس کی اگر لبنان کے لوگ اپنے پیسے بینکوں میں جمع کرینگے تولبنان کا اسٹیٹ بینک 40 فیصد منافع دے گا اور لوگوں کو مختلف شیئر بھی سیل کرے گا اور 15 فیصد لوکل بینک بھی عوام کو منافع دینگے۔یہ ایک ایسا فراڈ تھا کہ بینکوں کی تاریخ میں کبھی آج تک کسی نے اتنازیادہ منافع نہیں دے سکا۔اس جھانسے میں آکر پوری دنیا سے لبنان کے لوگوں نے اپنا سارا پیسہ بینکوں میں رکھوانا شروع کر دیا یہاں تک کہ لوگ پراپرٹی بیچ کر بھی اپنا پیسہ بینکوں میں رکھوانا شروع کر دیا۔ لیکن یہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ لبنان کے لوگوں کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہو رہا ہے یہ تمام پیسہ ریاد سلامی نے پڑپ کر لیا جب لوگ بینکوں سے اپنا پیسہ واپس لینے کے لیے پہنچے تو بینکوں نے پیسہ دینے سے انکار کر دیا اور پورے ملک میں افراد تفری پیدا ہو گئی۔لبنان کی کرنسی ڈی ویلیو ہوکر200 فیصد تک گر گئی اور لوگ سڑکوں پر آگئے ایک شخص کے فراڈ نے پورے ملک کو ڈبو دیا اور وہ شخص خود اپنے آبائی وطن فرار ہونے میں کامیاب ہوگیااب امریکہ بہادر کو ن پوچھے؟ پوچھے تو کیسے؟۔
جب لبنان ایک ڈیفالٹ کی لکیر میں کھڑا ہونے لگا تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ کی طرح لبنان پر بھی اسرائیل نے حملہ آور ہوکر کئی چھوٹے بڑے شہروں پر قبضہ جما لیااور تا حال ان کے قبضے میں ہیں اور گریٹر اسرائیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ 2006 کے بعد یہ اسرائیل اور لبنان کی سب سے بڑی جنگ تھی۔ جنوبی لبنان میں اسرائیل نے جہازوں سے حملہ کرنا شروع کیا اور تاحال جاری ہے۔
1982 میں جب جنوبی لبنان میں اسرائیل نے قبضہ کیا تو لبنان سے ایک گروپ نے مزاحمت کی۔ اس گروپ کا نام”حزب اللہ“ہے ایک رپورٹ کے مطابق یہ گروپ لبنان کی سرکاری فوج سے بھی زیادہ طاقتور ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس گروپ کو ایران کی سپورٹ بھی حاصل ہے اور اس گروپکا تعلق شیعہ کمیونٹی سے ہے۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو بھی ایک ہوائی اسڑائیک میں شہید کر دیا جس سے حالات مزید سنگین ہوتے گئے اور ایران بھی اسرائیل کے خلاف اس لڑائی میں شامل ہوگیا۔اب سوال یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے جاری اس لڑائی کو امریکہ بند کیوں نہیں کروا سکتا؟اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں عیسا ئی حکومت رہتی ہے اور یہ اسرائیل کے قیام کو بائبل کی نشانی سمجھتا ہے اور اسرائیل کو ایک مقدس ملک بھی تسلیم کر تا ہے کبھی بھی اسرائیل کے خلاف بات نہیں کر سکتابلکہ ان کو ہمیشہ سپورٹ کر تا رہاہے۔ اب امریکہ باضابطہ طور پر اسرائیل کا فرنٹ مین اتحادی ہے۔اسی طرح لبنان تو صفحہ ہستی سے تقریبا مٹ چکا ہے۔
لبنان کا دارالحکومت بروت ہے بیروت کو مشرقی وسطی کا پیرس بھی کہا جاتا تھا کیونکہ یہ شہر ماضی میں فن تعمیر اور ثقافت کے لیے مشہور تھا۔ دنیا بھر سے ٹورسٹ بھی سب سے زیادہ بیروت شہر میں آتے تھے۔ایک عرصہ تک اسلامی ثقافت و اقدار اور اسلامی تاریخ کی تمام تاریخی کتب بیروت سے شائع ہوتے تھے یہ علوم دینیہ کا ایک مضبوط مرکز سمجھا جاتا تھا۔
لبنان میں 73 فیصد پہاڑ ہیں دوسرے عرب ممالک کی طرح یہاں آپ کو ریگستان نظر نہیں آئیں گے سردیوں میں درجہ حرارت 11 سے 18 تک چلا جاتا ہے اور گرمیوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سنٹی گریٹ سے 40 تک چلا جاتا ہے اور کچھ علاقوں میں برف باری بھی ہوتی ہے۔
اس ملک میں فحاشی بھی بہت زیادہ عام ہے عورتوں کو ہر طرح کے کام کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے آپ کو یہ مسلمانوں کا ملک بالکل نہیں لگے گا۔یہاں کے لوگوں کی نائٹ لائف کسی بھی یورپ کے فحاش ترین ملک سے سے کم نہیں ہے۔ ٹورسٹ اس ملک کی معیشت میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں لبنان کی جی ڈی پی 21.58 بلین ڈالر ہے اور یہاں کے لوگوں کی ماہانہ آمدنی 50 امریکی ڈالر سے 100 امریکی ڈالر ماہانہ ہے۔دنیا کا سب سے قدیم شہر بھی اس ملک میں موجود ہے جو تقریباسا ت ہزار سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ جس کا نام بیبلوس ہے اس شہر میں تاریخی عمارتیں آپ کو سب سے زیادہ نظر ائیں گی۔لبنان کا دوسرا اہم قدیم اور خوبصورت بیل بیک سٹی ہے جس میں آج بھی آپ کو رومن ایمپائر کے آثار قدیمہ دیکھنے کو ملیں گے اور اسی وجہ سے یہ شہر یونیسکو ورلڈ ہرٹیج کا حصہ بھی ہے بحیرہ روم کے کنارے ساحلی پٹی بھی اس ملک کے تاریخی علاقوں میں سے ایک ہے۔
لبنان کے پاس مڈل ایسٹ کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ لبنان دنیا کے ان 20 ممالک میں آتا ہے جو سونے کے ذخائر رکھتے ہیں۔اتنے برے حالات ہونے کے باوجود اس ملک کا لٹریسی ریٹ 95 فیصد کے قریب ہے۔اگر تاریخ کو دیکھا جائے تو امریکن یونیورسٹی آف بیروت اور جوزف یونیورسٹی بھی اسی ملک میں موجود ہیں جو دنیا کے بڑے تعلیمی اداروں میں سے تھے۔ آج کل کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس ملک کو دوبارہ بیرون شرپسندوں سے نجات عطا فرمائیں اور ایک مضبوط معاشی طاقت بنا دیں۔استحصالی قوتوں کی ظلم و بربریت سے نجات عطا فرمائیں۔دوستوں سے گزارش ہے اسی طرح کے مزید معلومات پر مبنی حقائق جاننے کے لئے پیچ کو فالوکرکے لائک شیئر اور کومنٹ ضرور کیجئے اور اس حوالے سے اپنے معلومات سے ہمیں بھی اگاہ کیجئے۔۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہوں