ملکہ صباء اور ابراہہ کی تاریخی سلطنت یمن تباہ کیسے ہوا۔۔۔تحریر حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
معزز قارئیں: آج آپ کو دنیا کے ایک ایسے ملک سے تعارف کرواتے ہیں جو کبھی زمین پر جنت کہلاتا تھا مگر آج وہی جگہ جہنم جیسی تباہی کا منظر پیش کر رہی ہے ایک ایسی سرزمین جہاں کبھی ملکہ بلقیس کے تخت و تاج کا چرچا تھا۔یہ وہ سرزمین تھی کہ جہاں سے ابراہہ خانہ کعبہ کو گرانے کے لیے نکلا تھا اور وہی سرزمین جس سے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد محبت تھی جہاں کے لوگوں کو دین سیکھانے کے لئے اپنے جلیل القدر صحابی حضرت معاذ ابن جبل کو بھیجا تھا جی ہاں یہ وہی یمن ہے جہاں قوم ثمود رہتی تھی جو اپنے مضبوطی کی بنا پر ہاتھوں سے پتھر تراشتے تھے اور قلعہ نما گھر بنا کر رہتے تھے یہ وہی ملک ہے کہ جس کا مشہور شہر صنعاء ہے لیکن آج یہاں کے لوگ دنیا کے انتہائی کمزور بھوک افلاس کاشکار بن چکے ہیں۔ آج آپ کو یمن کے لوگوں کی زندگی اس کے قدیم تاریخ،تہذیب اور وہ حیرت انگیز راز جو شاید آپ نے کبھی نہیں سنے ہوں گے آپ کو بتائیں گے یہ مضمون انتہائی دلچسپ ہونے والا ہے مکمل پڑھئے۔توآج کل چونکہ دنیا حالت جنگ میں ہے ایران کے ساتھ یمن کے حوثی بھی اسرائیل پر میزائل داغ رہے ہیں آخر یہ حوثی کون ہیں؟۔ میرے دل میں یہ خیال آیاکہ اپنے ناظرین کو بھی ان کی دلچسپی کے لئے تاریخی حقائق سے اگاہ کرنے کی کوشش کروں پسند آئے تو پیج کو فالو کیجئے
یمن کا پرانا نام عریبیہ فلیکس تھا جس کا مطلب ہے”خوشحال عرب“ یمن کی کل آبادی تقریبا تین کروڑ ساٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ جس کی وجہ سے یہ دنیا کے 44 ویں نمبر پر آتا ہے یمن کا کل رقبہ تقریبا پانچ لاکھ 35 ہزار مربع کلومیٹر دے زیادہ ہے رقبے کے لحاظ سے یمن دنیا کا 39واں اور عرب ممالک میں چوتھا سب سے بڑا ملک ہے
یمن مغربی ایشیا میں واقع ہے اس کے شمال میں سعودی عرب مشرق میں عمان جنوب میں بحیرہ عرب اور مغرب میں بحیرہ احمر واقع ہے۔جغرافیائی لحاظ سے یمن کی پوزیشن بہت اہم مانی جاتی ہے کیونکہ یہ سمندری راستوں کے عین درمیان واقع ہے اس کا دارالحکومت صنعاء ہے جو نہ صرف ملک کا سب سے بڑا بلکہ دنیا کی سب سے تاریخی شہر بھی ہے صنعاء کی کل آبادی تقریبا 28 لاکھ کے قریب ہے یہ شہر پرانی عمارتوں اور روایتی بازاروں کے لیے مشہور ہے۔
یمن کے پڑوسی ممالک جیسے سعودی عرب عمان یا متحدہ عرب امارات کے لوگوں کا طرز زندگی بہت شاہانہ اور جدید ہے وہاں لوگ آسائشوں میں زندگی گزارتے ہیں لیکن یمن کے لوگ آج بھی غربت اور جنگ و جدل کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی یا مزدوری کر کے اپنی زندگی چلاتے ہیں۔ اگر تاریخ دیکھیں تو یمن کبھی ایک خوبصورت اور خوشحال ملک ہوا کرتا تھا یہ عرب دنیا کا وہ ملک تھا جہاں پہاڑ سمندر اور پرانی تہذیبوں کے آثار ایک ساتھ نظر آتے تھے۔ لیکن آج یہی ملک جنگ بھوک اور تباہی کا دوسرا نام بن چکا ہے۔
یمن کی تباہی کی اصل وجہ 2011ء سے شروع ہوئی جب عرب دنیا میں ”عرب بہار“ کے نام سے ایک عوامی تحریک چلی لوگ اپنے حکمرانوں سے آزادی اور انصاف مانگنے سڑکوں پر نکل آئے۔ تو عین ان وقت یمن نے بھی اپنے فرمان روا علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاج شروع کیا جو 30 سال سے زیادہ یمن میں صاحب اقتدار رہے آخر کار انہیں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کے جانے کے بعد ملک میں حکمرانی کے لیے مختلف گروہ آپس میں دست وگریبان ہو گئے۔ ایک طرف حکومت تھی اور دوسری طرف ایک گروہ تھا جسے حوثی باغی کہا جاتا تھا۔ اسی گروہ میں زیادہ تر شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے ان کو انصار اللہ بھی کہتے ہیں زیادہ تر زیدی شیعہ نظریات رکھتے ہیں اس تحریک کے بانی حسین بدرالدین الحوثی تھے جس کی طرف نسبت کرتے ہوئے حوثی کہلاتے ہیں یہ نہایت ہی جنگجو لوگ ہیں۔ جبکہ اس وقت حکومت کو زیادہ تر سعودی عرب کی حمایت حاصل تھی 2015 ء میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا اور یمن کے حکمران بھاگ کر سعودی عرب چلے گئے اس کے بعد سعودی عرب نے ایک بڑی فوجی کاروائی شروع کی تاکہ حوثیوں کو ہٹایا جا سکے یوں تو یمن میدان جنگ بن گیا۔ اس جنگ میں صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ ایران بھی حوثیوں کی حمایت میں میدان جنگ میں کود پڑا۔ یوں یہ لڑائی صرف یمن کے اندرونی گروہوں کے درمیان نہیں رہی بلکہ سعودی عرب اور ایران کی طاقت کی جنگ بھی بن گئی۔جنگ کے نتیجہ میں لاکھوں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو گئے ہزاروں مارے گئے اور بچے بھوک کی وجہ سے مرنے لگے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یمن اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بن چکا تھا آج بھی وہاں بمباری بھوک اور وبائی امراض عام ہیں۔سکول اسپتال اور گھر ملبے میں بدل چکے تھے کبھی خوشحال یمن اب دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہونے لگا۔
یمن کبھی صباء کی سلطنت کا حصہ تھا قران پاک میں بھی قوم صباء کا ذکر آیا ہے جہاں اللہ تعالی نے ان کو ایک سرسبز و شاداب بستی قرار دیا ہے لیکن بعد ان کی ناشکری اور غرور کی وجہ سے ان پر بڑے سیلاب کا عذاب نازل ہوا جس نے ان کی زمینیں تباہ کر ڈالی۔
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ حضور سرور کونین یہاں پر تشریف لائے ان لوگوں کو تلقین کی کہ وہ رب پر ایمان لائیں اور اللہ تعالی کی نعمتوں کی ناشکری نہ کریں لیکن انھوں نے روگردانی کی تو ان پر تند وتیز سیلاب کا عذاب آیا اور ان کے سارے باغات تباہ و برباد ہوگئے۔
کہتے ہیں کہ جب کوئی عورت یہاں ٹوکرا لے کر نکلتی تھی تو اتنے پھل گرتے تھے کہ ٹوکرا پھلوں سے بھر جاتا تھا۔
صباء کی سلطنت ملکہ بلقیس کی وجہ سے بھی مشہور تھی اور ملکہ بلقیس حضرت سلیمان کی ہم عصر تھی جس کو قرآن مجید نے ملکہ صباء کے نام سے یاد کیا ہے۔ روایات کے مطابق وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں آئی ان کی دعوت پر ایمان لے آئی۔
صباء کے لوگ بڑے ماہر تاجر اور صنعت کارتھے انہوں نے عرب افریقہ اور ہندوستان تک تجارتی راستے بنائے ہوئے تھے ان کے قافلے خوشبو،سونا، ہاتھی دانت اور قیمتی کپڑے لاتے اور لے جاتے تھے۔ آخر کار وقت گزرنے کے ساتھ صبا ء کی سلطنت حبشیوں کے ہاتھوں ختم ہو گئی لیکن اس کی شان و شوکت اور کہانیاں آج بھی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
یمن کی سرکاری زبان عربی ہے غریب ہونے کے باوجود یہاں کے لوگ خوشی کے موقع پر دل کھول کر جشن مناتے ہیں یہاں شادی کا فنکشن 21 دن تک جاری رہتا ہے یمن میں شراب پینا یا بیچنا بالکل منع ہے یہاں کسی کو بھی عورت کی تصویر کھینچنے کی اجازت نہیں ہوتی اور ہر عورت کے لیے حجاب پہننا لازمی ہے یمن غریبی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن یہاں اسلامی قوانین بہت سخت ہیں۔ اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے یمن عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں بادشاہت نہیں ہے بلکہ جمہوری حکومت قائم ہے یہاں کی تقریبا ساری آبادی مسلمانوں کی ہے جن میں سے 65 فیصد سنی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ کی پیروی کرتے ہیں اور 35 فیصد شیعہ ہیں
یمن کا شہر صنعاء دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے کہا جاتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹوں میں سے ایک بیٹے نے اس شہر کی بنیاد رکھی تھی یہاں کے گھروں کی عمارتیں بہت منفرد انداز میں بنائی گئی ہیں جن سے ان کی ثقافت اور تاریخ کی جھلک صاف نظر آتی ہے اگر یہاں کی مشہور جگہوں کی بات کریں تو ان میں سب سے پہلے دارالحجر آتی ہے یہ یمن کے علاقے وادی زُرمیں واقعی ایک مشہور محل ہے جو صنعاء کے قریب بنا ہوا ہے یہ محل ایک اونچی چٹان پر بنایا گیا ہے اور دیکھنے میں ایسا لگتا ہے جیسے پہاڑ کے اندر سے نکلا ہوا ہو۔ اس کی تعمیر اٹھارویں صدی میں ہوئی تھی اور یہ یمن کی پہچان بن چکا ہے۔
اس کے بعد جامع مسجد صالح دوسرے نمبر پر ہے یہ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں واقع ایک نہایت خوبصورت اور شاندار مسجد ہے یہ مسجد یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کے دور حکومت میں انہی کے نام سے تعمیر کی گئی تھی۔ اس مسجد کی تعمیر 2008ء میں مکمل ہوئی تھی اور یہ آج بھی یمن کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مشہور مسجدوں میں سے ایک ہے یہ مسجد دیکھنے میں انتہائی دلکش ہے اس کے چھ اونچے مینار ہیں جو دور سے ہی صاف نظر آتے ہیں اور پانچ بڑے گنبد مسجد کو ایک شاندار اسلامی طرز تعمیر دیتے ہیں ایک وقت میں تقریبا 50ہزار نمازی آسانی سے نماز ادا کر سکتے ہیں۔
تیسر ے نمبر پر باب یمن ہے باب دارالحکومت صنعاء کا ایک قدیم اور تاریخی دروازہ ہے یہ دروازہ پرانے صنعاء شہر کے داخلی راستے کے طور پر مشہور ہے اور یمن کی پہچان سمجھا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ باب الیمن کی تعمیر تقریبا ایک ہزار سال پہلے کی گئی تھی پرانے وقتوں میں یہ دروازہ شہر کے قلعے جیسے حصے کا مرکزی راستہ تھا جہاں سے لوگ شہر کے اندر داخل ہوتے یا باہر چلے جاتے تھے۔
معزز قارئیں یہ سن کر آپ کو حیرت ہوگی کہ جس ابراہہ نے خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کے لیے ہاتھیوں کی فوج تیار کی تھی وہ بھی یمن کا ایک بادشاہ تھا اس واقعے کو واقعہ فیل کہا جاتا ہے جس کا ذکر قرآن پاک کی سورۃ الفیل میں بھی موجود ہے۔ اس زمانے میں یمن پر حبشہ کے لوگ حکو مت کیا کرتے تھے۔ ابراہہ بھی حبشی تھا لیکن اسے یمن کا گورنر بنایا گیا تھا بعد میں اس نے یمن پر مکمل قبضہ کر لیا اور خود کو بادشاہ بنا لیا ابرہہ نے صنعاء میں ایک بہت بڑی اور شاندار عبادت گاہ بنوائی تھی جسے اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ خانہ کعبہ جانے کی بجائے اس کی عبادت گاہ میں آئیں مگر جب عرب کے لوگوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تو اس کو غصہ آگیا اس نے فیصلہ کیا کہ وہ مکہ جا کر خانہ کعبہ کو گرا دے گا تاکہ لوگ صرف اس کی عبادت گاہ میں آئیں اسی مقصد کے لیے اس نے ہاتھیوں کی ایک بڑی فوج تیار کی اور مکہ کی طرف بڑھا لیکن جیسے ہی وہ مکہ کے قریب پہنچا اللہ تعالی نے ابابیل نامی چھوٹے پرندے بھیجے جن کے منہ میں چھوٹے چھوٹے کنکر تھے ان کنکروں نے پوری فوج کو تباہ کر دیا۔ ابراہہ اور اس کی فوج کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہا۔ یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے ایک سال پہلے پیش آیا تھا۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عربی نسل کی شروعات بھی یمن سے ہوئی تھی۔ قبیلہ قریش اور مدینے کا انصار قبیلہ دراصل یمن سے تعلق رکھتے تھے جو بعد میں سعودی عرب جا کر آباد ہوئے رسول اللہ نے کئی مواقع پر یمن والوں کی تعریف فرمائی ایک مرتبہ آپ نے فرمایا”ایمان یمن کا ہے اور حکمت بھی یمن کی ہے“ یعنی یمنی لوگ ایمان محبت اور دانائی میں سب سے آگے ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل کو یمن کے لوگوں کے پاس دین سکھانے کے لیے بھیجا تو انہیں بڑی محبت سے رخصت کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ان کے ساتھ مدینہ سے باہر تک تشریف لے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا بھی تھی کہ ”یا اللہ تعالی یمن والوں کو برکت دے ان کے رزق، زمین اور ایمان میں اضافہ کرفرما دیجئے“ یہی وجہ ہے کہ آج بھی یمن کو ایمان کی سرزمین کہا جاتا ہے یہاں کے لوگ ہمیشہ اپنے ساتھ خنجر رکھتے ہیں جو ان کے لباس اور ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے
یمن میں ایک خاص درخت پایا جاتا ہے جسے ڈریگن بلڈ ٹری کہا جاتا ہے اس کی شکل بالکل چھتری جیسی ہوتی ہے اور یہ صرف یمن کے جزیروں مین سے ایک جزیرہ سپوتر میں ہی ملتا ہے۔ اس درخت کی رس سے قیمتی دوائیاں بنائی جاتی ہیں۔ یمن کا شمالی علاقہ قدرتی خزانوں سے بھرا ہوا ہے یہاں تیل،تانبہ، لوہا اور سونے جیسی قیمتی معدنیات بڑی مقدار میں پائی جاتی ہیں یہی وجہ تھی کہ ایک وقت میں برطانوی حکومت نے تقریبا 19 سال تک اس علاقے پر قبضہ کئے رکھا جس کی وجہ سے انگریزوں کی یمن میں تسلط جمانا شروع ہو گیا تھا۔
یمن کی کرنسی یمنی ریال کہلاتی ہے۔ لیکن یمن میں کئی سالوں سے خانہ جنگی جاری ہے جس کی وجہ سے ان کی کرنسی اور معیشت دونوں ہی بہت کمزور ہو چکی ہیں۔ یمن کا سب سے خوبصورت اور اہم علاقہ اس کا ساحل سمندر ہے جو گلف آف عدن کہلاتا ہے یہ سمندر جغرافیائی لحاظ سے دنیا کے سب سے اہم سمندروں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ دنیا کے زیادہ تر تجارتی جہاز اسی راستے سے گزرتے ہیں۔امریکہ یورپ اور ایشیائی ممالک اپنی تجارت کے لیے اسی سمندری راستے کا استعمال کرتے ہیں اگر یمن چاہے تو پوری دنیا کی تجارت کو روک سکتا ہے پوری دنیا کی معیشت کا پہیہ جام کر سکتا ہے۔ کیونکہ دنیا کے بڑے تجارتی راستے اسی کے سمندر سے گزرتے ہیں یہ چھوٹا سا ملک بظاہر کمزور لگتا ہے مگر اس کی زمین اس کے وسائل اور اس کی جغرافیائی پوزیشن دنیا کی بڑی طاقتوں کے لیے ہمیشہ ایک درد سر بنی رہتی ہے اور یہی اس کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔ پوری دنیا کی لالچی نگاہیں اسی پر پڑی رہتی ہیں اوریہی وجہ ہے ہے کہ یہ ملک بیرون سازشوں اور حملوں آوروں کا شکار رہتا ہے۔
یمن کے لوگ عرصہ دراز کی خانہ جنگی کی وجہ سے جنگجو بنے ہوئے ہوتے ہیں اور حالیہ امریکہ ایران جنگ میں بھی یہاں کی حوثی جنگجو حکومت ایران کا ساتھ دیتے ہوئے اسرائیل پر بے درپے میزائیلوں سے حملہ آور ہوتے رہے ہیں ممکن ہے کہ اس خوبطورت شہر اور مملکت کی تباہی کے پیچھے درپردہ استحصالی قوتوں کا ہاتھ ضرور ہوسکتا ہے تاریخ کے اس نشیب وفراز نے یوں جنت نظیر یمن کو ملبے کا ڈھیر بنتے دیکھا۔اب آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا؟ یہ عظیم سلطنت دوبارہ دنیا کے نقشے میں وہی مقام پیدا کر سکتا ہے یا نہیں۔۔ناظرین تحریر پسند آئے تو پیچ کو فالو کیجئے تاکہ مزید اس قسم کے معلومات آپ تک پہنچ سکے۔۔اپنا خیال رکھیں۔۔۔اللہ حافظ
