Skip to content

ایران دنیا کے نقشے میں جغرافیائی لحاظ سے ناقابل شکست ملک ہے۔۔۔تحریر حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

ایران دنیا کے نقشے میں جغرافیائی لحاظ سے ناقابل شکست ملک ہے۔۔۔تحریر حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
ایران دنیا کی قدیم ترین ناقابل تسخیر ملکوں میں سے ایک ہے جو کہ پچھلے تقریبا پانچ سو سالوں سے ایران انہی پاؤڈرز کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود ہے اور شاید ہی دنیا کی کوئی سپر پاور ہو جس سے ایران کا ٹکراؤ نہ ہوا ہو چاہے وہ رومی ہوں عرب ہوں منگول ہوں ترک ہوں روسی ہوں یا پھرکوئی اور سلطنت. ہر ایک سپر پاور نے ایران کو فتح کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ بھی ہے کہ ایران دنیا کے کراس روڈ پر واقع ہے یہی وہ واحد ملک ہے جو یورپ افریقہ اور ایشیاء تینوں براعظموں کو آپس میں ملاتاہے۔ آج کا ایران سات ممالک کے ساتھ بارڈر شیئر کرتا ہے مشرقی سائیڈ پر پاکستان افغانستان اور ترکمانستان، مغربی سائیڈ پر عراق، ترکی، ارمینیا اور اذربائجان کے ساتھ ملا ہوا ہے اس کے علاوہ ایران کو تین سمندروں کی بھی ایکسس حاصل ہے اس کے شمال میں کیسپین سی ہے۔کیسپین سمندر (Caspian Sea) کو اردو میں بحیرہ قزوین یا بحیرہ خزر کہتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی بند سمندری جھیل ہے، جو چاروں طرف سے خشکی سے گھری ہوئی ایشیا اور یورپ کے درمیان واقع ہے۔ اس کے ساحل روس، ایران، آذربائیجان، ترکمانستان اور قازقستان سے ملتے ہیں۔ اور ایران کے جنوب میں روس کی سلطنت پرشین گالف اور گالف آف عمان واقع ہے۔ایران کی سدرن سائیڈ پر ہی دنیا کا سب سے اہم اور خطرناک پوائنٹ واقع ہے جسے آبنائے ہارمز کہتے ہیں پوری دنیا کی 20 فیصد آئل اور گیس کی سپلائی اسی پوائنٹ سے گزر تی ہے سٹریٹ آف ہارمز کے پاس سات آئس لینڈز بھی 1970ء سے ایران کے کنٹرول میں ہیں حالانکہ اس سے پہلے ان پر یو اے ای کا کنٹرول تھا اسی طرح ادھر کیسپئن سی میں عاشورہ ڈے آئس لینڈ ایران کے کنٹرول میں ہے۔ پچھلے 40 سالوں سے ایران مغربی دنیا کے لیے ایک سر درد بنا ہوا ہے۔ لیکن اخر ایسی کیا وجہ ہے کہ اتنی پاور فل ایٹمی طاقتیں یا کوئی بھی مغربی سپر پاور ملک ایران پر اٹیک کر کے اس پر قبضہ نہیں کر سکی اور نہ ہی کر سکتی ہے۔ سب ممالک جانتے ہیں کہ ایران پر ڈائریکٹ اٹیک کرنا بہت زیادہ بیک فائر کر سکتا ہے ایران کونا قابل فتح بنانے میں بہت سی وجوہات کے ساتھ ساتھ اس کی جیوگرافی کا بھی بہت بڑا رول ہے۔ ایران کی سدرن اور ویسٹرن سائیڈ پر زیگروس ماؤنٹین رینج ہے ایران کی کوسٹ لائن سے لے کر عراق اور اوپر ترکی تک پھیلی ہوئی یہ ماؤنٹین رینج ایران کو ایک زبردست نیچرل پروٹیکشن دے رہی ہے۔ یہ سارا ایریا بہت ہی پتھریلا علاقہ ہے اور اسے عبور کرکے ایران پر حملہ کرنا بہت زیادہ مشکل کام ہے۔ ان پہاڑوں کا ایران کو اتنا فائدہ ہے کہ 1980ء میں جب عراق نے ایران پر اٹیک کیا تو اس کا منصوبہ یہ تھا کہ ایک تو وہ یہاں گزستان کے آئل سے بھر پور صوبے پر قبضہ کر لے گا اور پھر یہاں سے آگے ایران کے باقی شہروں پر بھی قبضہ کر کے ایرانی انقلاب کو کچل دے گا کیونکہ سب عرب ممالک ڈرے ہوئے تھے کہ ایرانی انقلاب کے اثرات باقی عرب تک نہ پھیل جائیں مگر عراقی فوج دو سالوں کی خونریز لڑائی کے بعد صرف ادھر گزستان تک ہی پہنچ سکی۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ وہ زیگروز کے پہاڑوں کو عبور کر کے ایران پر قبضہ کر سکے مگر انہیں کامیابی نہیں ملی اور پھر ایرانی فورسز نے ان کو پیچھے دھکیلتا ہوا عراق کے اندر تک گھس گیا مگر یہاں پر ایران کو بھی یہ مسئلہ آیا کہ جہاں عراقی فوج کو آسانی سے اس کے شہروں سے سپلائی نہیں مل رہی تھی وہیں ایرانی فوج کو بھی سپلائی پہنچانا بہت مشکل ہو گیا کیونکہ ایران کے سارے بڑے ڈپو اور شہر زیکروس ماؤنٹین رینج کے دوسری طرف تھے یہی وجہ ہے کہ اٹھ سال بعد یہ جنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی۔ دونوں ممالک کے بارڈر میں ایک انچ بھی چینج نہیں آیا۔ اسی طرح ایران کے شمالی سائیڈ پر کیسپین سی کے ساتھ البورز ماؤنٹین رینج ہے جو اسے ناردرن سائیڈ سے پروٹیکشن دیتی ہے اور یہ پہاڑ صرف ایران کو قدرتی پروٹیکشن ہی نہیں بلکہ بہت سے ریسورسز بھی دیتے ہیں یہ دونوں ماؤنٹین رینج،یورینیم،سلور، گولڈ اور زنک سے مالا مال ہے۔ ایران کے پاس دنیا کے سب سے بڑے زنک کے زرائع ہیں۔ اسی طرح بیسویں صدی میں ایران کی اس جیوگرافی کو چار چاند لگ گئے۔جب یہاں پرشین گرلز کے پاس آئل اور گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہوئے آج کی تاریخ میں پوری دنیا کے 10 فیصد آئل اور 15 فیصد قدرتی گیس کے ذخائر ایران کے پاس ہیں ایران کو ایک اور چیز جو سب سے زیادہ فائدہ دیتی ہے وہ 25 سو کلومیٹرز لمبی کوسٹ لائن ہے جو دو سمندروں کے درمیان تقسیم ہے۔ایران کا سب سے بڑا بندر گاہ عباس ایران کا سب سے بڑا سی پورٹ ہے جو دنیا کے ایک بہت بڑے چوک پوائنٹ آبنائے ہارمز سے صرف 70 کلومیٹر دور ہے اور یہی پوائنٹ آج ایران کا سب سے بڑا ڈیو پولیٹیکل لیورج بھی ہے اگر ایران اپنی نیوی کے ذریعے یہ پوائنٹ بلاک کر دے تو پوری دنیا کی معیشت برباد ہو جائے گی جیسا کہ آج کل ہوا ہے کیونکہ دنیا کی 15 فیصد انرجی سپلائی یہاں سے گزر کر ایشیا اور یورپ کو جاتی ہے۔اب اگر فرض کریں کہ کوئی یہ کوسٹ لائن اور یہ دو ماؤنٹین رینج کو کراس کر کے ایران کے اندر آ بھی جائے تو یہاں پر دوسری سب سے بڑی رکاوٹ دشت لوط اور کوویر ریگستان ہے۔ لوط ڈیزرٹ کو ہاٹسٹ پلس یعنی دنیا کا گرم ترین صحرا کہتے ہیں کیونکہ 2005 ء میں یہاں پر 70 ڈگری ٹمپریچر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود ایران کو فتح کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ لیکن آج کی تاریخ میں جو دوسری چیز ایران کو اتنا پاور فل بناتی ہے وہ ہے اس کی جیو پولیٹیکل سٹریٹجی سب سے پہلے اگر ہم ایران کے ڈیموگرافکس کو دیکھیں تو اس کی پاپولیشن تقریبا نو کروڑ دے زیادہ ہے۔ جس میں سے 95 فیصد شیعہ مسلم ہیں ایران میں 62 فیصد لوگ پرشین ہیں 16 فیصد ازری 10 فیصدکرد اور باقی 12 فیصد بلوچ، عرب اور ترک ہیں۔اب 1979 کی شیعہ انقلاب سے پہلے ایران ایک لبرل ملک تھا اور خطے میں امریکہ کا ایک بہت مضبوط دفاعی اتحادی تھا۔اس زمانے میں امریکہ ایران کو ملٹری جیٹس تک سپلائی کیا کرتا تھا۔لیکن پھر امام خمینی کے انقلاب کے بعدسارے زاوئے تبدیل ہوگئے۔آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ 1979ء سے پہلے ایران اور اسرائیل کے آپس میں بہت اچھے تعلقات تھے درحقیقت ایران 1948 میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک تھا لیکن امام خمینی نے آتے ہی فلسطین کی حمایت میں آواز اٹھائی اور اعلان کیا کہ اب سے اسرائیل ایران کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اسی وقت ایران نے اسرائیل کے ساتھ سارے ڈپلومیٹک روابط ختم کر دئے۔ اسرائیل جانے والی ساری فلائٹس کینسل کر دی گئی اور تہران میں موجود اسرائیلی سفارتخانے کو تبدیل کرکے فلسطین کا سفارتخانہ بنادیا گیا۔ اس کا سب سے پہلا نتیجہ تو یہ نکلا کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایران کے امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات خراب ہونا شروع ہو گئے۔ لیکن تعلقات کی یہ خرابی صرف اسرائیل اور امریکہ تک ہی نہیں رہی بلکہ ایران کے گرد موجود سارے عرب ممالک ایران سے خوفزدہ ہوکر اکھٹے ہو گئے وہ سب اس بات سے خوفزدہ تھے کہ کہیں ایران کی آئیڈیالوجی عرب سٹیٹس تک نہ پہنچ جائے اور اس کے نتیجے میں ان کی بادشاہت کو اچھا خاصا نقصان پہنچ سکتا ہے کیونکہ ان سب عرب سٹیٹس میں بادشاہت تھی 1980ء میں انہی عرب سٹیٹس نے مل کر صدام حسین کو ایران پر اٹیک کرنے کے لیے بیک کیا تھا یہیں پر ایران کو بھی سمجھ آگئی تھی کہ اگر اس نے سروائیو کرنا ہے تو اسے اپنی آئیڈیولوجی کو باہر دوسرے ممالک تک پہنچانا ہوگا کیونکہ اس کے اور اس کے سب سے بڑے دشمن اسرائیل کے بیچ یہ سارے عرب ممالک ہیں جو اس کے سخت خلاف ہیں اسی لیے اسے کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ اسرائیل سے دور ہونے کے باوجود وہ اس کو تھریٹ کر سکے اور یہیں پر ایران نے ایسے سارے گروپس کو سپورٹ کرنا شروع کیا جو اینٹی اسرائیل تھے جیسے کہ فلسطین میں حماس، لبنان میں حزب اللہ،شام میں فاطمیون برگیڈ، عراق میں البدر اور یمن میں حوثی۔ اس سارے نیٹ ورک کو دی ایکسس آف ریزسٹنس کہا جاتا ہے اور اسی نیٹ ورک کے ذریعے ایران اسرائیل اور یہاں تک کہ عرب ممالک پر بھی پریشر رکھ سکے کہ وہ ایران کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔ اسی لیے جب اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی تو ادھر لبنان سے حزب اللہ نے اسرائیل پر میزائل فائر کیے اور یہاں یمنی حوثیوں نے بحیرہ احمر سے گزرنے والے اسرائیلی اور امریکن بحری جہازوں کو ڈرون سے ٹارگٹ کرنا شروع کر دیا۔ ایران کی اسی پروکسی وار فیئر سٹریٹجی نے اسے کافی ڈینجرس بنا دیا ہے اب وار سے سٹریٹجی کی بات ہو ہی رہی ہے تو ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے جنوری 2024ء میں جب حوثیوں کی طرف سے یہاں سے گزرنے والے کنٹینرز پر لگاتار ڈرون اٹیکس کیے جا رہے تھے تب فرانس نے یمن کے ڈرون کو گرانے کے لیے ون ملین ڈالرز والا ایسٹرڈ 15 سرفس ٹو ایئر میزائل استعمال کیا جبکہ یمنی ڈرون کی کاسٹ صرف بیس ہزار ڈالرز تھی۔یمنی حوثیوں کو یہ سارے ڈرونز ایران سپلائی کر رہا تھا اور ان ڈرونز کی اتنی دھوم مچی تھی کہ رشیا یوکرین کے خلاف بھی انہی ایرانی ڈرونز کو استعمال کر تارہا۔ امریکن سینٹرل کمانڈ کی 2022ء کی رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس پورے مڈل ایسٹ میں سب سے زیادہ اور ماڈرن بلسٹک میزائل ہیں۔ایران کے سارے میزائلز دو ہزارکلومیٹرز تک اپنے ٹارگٹ کو ہٹ کر سکتے ہیں اس وقت بھی ایران اسرائیل اور دیگر امریکی اڈوں پر بلاسٹک میزائلوں سے حملہ کر رہا ہے اور تباہی مچا رہا ہے جس سے پوری دنیا خوفزدہ ہے دوسری طرف اگر ہم ایران کی جیوگرافی، اوراس کی پراکسی سٹریٹجی اورڈرون ٹیکنالوجی کو دیکھیں تو اس کے باوجود کہ ایران پر مغربی دنیا کی سینکشنز ہیں اور اس کی ایکانمی آفیشل گراؤنڈز پر بہت چھوٹی ہے ایران ایک ایسی کنٹری کے طور پر سامنے آیا ہے جس کے پوٹینشل کے بارے میں بہت سی ان سرٹینیٹیز ہیں چاہے وہ اس کا نیوکلیئر پروگرام ہو، پراکسی نیٹ ورکس کی فنڈنگ ہو یا میزائل ٹیکنالوجی، ایران کے بارے میں بہت سے گرے ایریاز ہیں جن کی وجہ سے ویسٹرن کنٹریز اس پر ڈائریکٹ اٹیک کرنے سے کتراتے آئے ہیں۔ اگر ہم صرف یہی ایک پوائنٹ کو دیکھیں کہ دنیا کے دو چوک پوائنٹس سٹریٹ آف ہارمز اور بابل مندیب ایران کی ٹارگٹ رینج میں ہیں تو یہی چیز اسے بہت پاورفل لیورج دے دیتی ہے اوراب رشیا اور چائنہ بھی شاید ان افیشلی ایران کو بیک کر رہے ہیں ابھی حال ہی میں جب حماس کے لیڈر اسماعیل ہانی کو ایران میں اسسینیٹ کیا گیا تو بہت سی ایسی ان کنفرم رپورٹس بھی سامنے ائی کہ رشین انٹیلیجنس اور ملٹری جنرلز ایرانی آفیشل سے ملے ہیں اور انہیں یقین دلایا ہے کہ اگر وہ اسرائیل کے خلاف ریٹیلیٹ کرتے ہیں تو وہ ایران کا بھرپور ساتھ دیں گے لیکن بعد میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے۔فی الحال تو اسماعیل ہانی کے قتل کے بعد ایران کی انٹرنل سیکیورٹی پر بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں اور بظاہر ایسا لگ رہا ہے جیسے انٹرنلی کچھ گڑبڑ بھی ہے ایران اس کو کب اور کیسے ریٹیریٹ کرے گا اور کیا؟ایران اسرائیل اور امریکہ کا جوابی وار سہنے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔فی الحال ایران اپنے دفاع میں مضبوطی سے کھڑا ہے اور مغربی طاقتوں کے ناک میں دم کیا ہوا ہے یورپ کی ایکانمی برباد ہو چکی ہے اگرچہ ایران میں بھی بڑے پیمانے میں تباہی ہوئی ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے جغرافیائی پس منظر کو لے کر کسی قسم کے سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہے اللہ تعالی سب کو اپنے حفظ وآمان میں رکھیں آمین۔اپنا خیال رکھئے گا۔۔۔ چینل کو فالو ضرور کیجئے تاکہ آپ کو مزید اس قسم کے معلومات مل سکے۔۔۔۔ اللہ حافظ