Skip to content

بئرِ بضاعہ: تاریخ، برکات اور فضائل کا ایک درخشاں باب۔۔۔قسط 5……تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

بئرِ بضاعہ: تاریخ، برکات اور فضائل کا ایک درخشاں باب۔۔۔قسط 5……تحریر ۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

تاریخِ اسلام کے اوراق مدینہ منورہ کے ان گنت تاریخی مقامات، کنووں اور چشموں کے تذکرے سے معطر ہیں جنہوں نے سرورِ کائنات، فخرِ موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لمسِ مبارک سے دوام پایا۔ انہی میں سے ایک نام “بئرِ بضاعہ” (بضاعہ کا کنواں) ہے، جس کا تذکرہ احادیثِ مبارکہ اور سیرت کی کتابوں میں انتہائی عظمت اور فضیلت کے ساتھ ملتا ہے۔

یہ تاریخی کنواں مدینہ منورہ کے مشہور قبیلے خزرج کی ایک نامور اور معزز شاخ بنو ساعدہ کی ملکیت تھا۔ بنو ساعدہ انصارِ مدینہ کا وہ عظیم قبیلہ ہے جس کے نامور سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ تھے (جبکہ قبیلہ اوس کی شاخ بنو عبدالاشہل کے عظیم سردار حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے)۔ بئرِ بضاعہ اسی قبیلے کے ایک باغ میں واقع تھا اور اس کے مالکان میں انصاری صحابی حضرت ابو اسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا نام سرِفہرست ملتا ہے۔

لمسِ نبویؐ، لعابِ دہن اور شفا کے معجزات
احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ بئرِ بضاعہ پر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے کنویں سے ایک ڈول پانی طلب فرمایا، اس سے وضو کیا اور پھر اپنی عادتِ مبارکہ کے مطابق برکت کے لیے اپنا لعابِ دہنِ مبارک اس کنویں میں ڈال دیا۔

اس نبویؐ برکت کا یہ عالم تھا کہ اس کے بعد بئرِ بضاعہ کا پانی مدینہ کے بیماروں کے لیے آبِ شفا بن گیا۔ عہدِ رسالت مآب ﷺ میں جب بھی کوئی شخص بیمار ہوتا یا تپِ لرزہ (بخار) میں مبتلا ہوتا، تو اسے بئرِ بضاعہ کے پانی سے غسل دیا جاتا تھا۔ آپ ﷺ کے لعابِ دہن اور وضو کے پانی کی یہ برکت تھی کہ غسل کرتے ہی بیمار کو فوراً اور کامل شفا حاصل ہو جاتی تھی، گویا وہ کبھی بیمار ہی نہ تھا۔ اس کنویں کے مالک حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا لعابِ دہنِ مبارک شامل ہونے کے بعد ہم سب اس کنویں کا پانی تبرک کے طور پر پیتے اور اس سے بے پناہ برکتیں حاصل کرتے تھے۔

طہارت کا شرعی قاعدہ اور سننِ نسائی کی روایت
سننِ نسائی، ابو داؤد اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ایک مشہور روایت منقول ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ ﷺ بئرِ بضاعہ کے پانی سے وضو فرما رہے تھے۔ میں نے نہایت ادب سے عرض کیا: “یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ اس کے پانی سے وضو فرما رہے ہیں، جبکہ (بارش کے پانی کے بہاؤ یا دیگر وجوہات کی بنا پر) لوگ اس میں ایسی چیزیں بھی ڈال دیتے ہیں جو بظاہر نجس ہوتی ہیں؟”

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی رہنمائی فرماتے ہوئے ایک ابدی شرعی اصول بیان فرمایا:

“پانی (اپنی اصل میں) پاک ہے، اسے کوئی چیز نجس نہیں بنا سکتی (جب تک کہ نجاست اس کے رنگ، بو یا ذائقے کو بدل نہ دے)”۔

یہ حدیث مبارکہ فقہِ اسلامی میں طہارت اور احکامِ آب (پانی کے احکام) کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔

غولِ بیابانی، آیت الکرسی اور باغات کی حفاظت کا واقعہ
بئرِ بضاعہ کے مالکان اور ان کے باغات سے جڑا ایک نہایت ایمان افروز اور عجیب واقعہ بھی کتبِ حدیث (جیسے جامع ترمذی وغیرہ) میں محفوظ ہے۔ ایک مرتبہ حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ کے باغ میں پھل (کھجوریں) کم ہو گئے یا چوری ہونے لگے، تو انہوں نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر اس کی شکایت کی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے علمِ نبوت سے معاملہ بھانپتے ہوئے فرمایا: “یہ غولِ بیابانی (ایک سرکش جن) ہے، جو تمہارے میوے چرا لے جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر تمہیں میوے میں کمی محسوس ہو، تو یہ کلمات پڑھنا: ‘بِسْمِ اللہِ، أَجِيبِي رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ’ (اللہ کے نام سے، رسول اللہ ﷺ کے حکم پر حاضر ہو)”۔

حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے مطابق جب باغ میں یہ کلمات پکارے، تو انہوں نے ایک غیبی آواز سنی۔ وہ جن گڑگڑانے لگا اور کہنے لگا: “اے ابو اسید! اس دن مجھے معاف کر دیجئے اور مجھے جنابِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش نہ کیجئے۔ میں عہد کرتا ہوں کہ اس کے بعد ہرگز آپ کے گھر اور باغ کے قریب نہیں آؤں گا، اور (اس کے بدلے) میں آپ کو ایک ایسی آیت سکھاتا ہوں جس کی برکت سے کوئی صدمہ، آفت یا نقصان آپ کو یا آپ کے گھر والوں کو نہیں پہنچے گا، اور وہ ‘آیت الکرسی’ ہے”۔

جب حضرت ابو اسید رضی اللہ عنہ نے صبح بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا عرض کیا، تو جانِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا: “اس نے جو کچھ کہا (آیت الکرسی کی فضیلت کے بارے میں) وہ بالکل ٹھیک اور سچ ہے، لیکن وہ خود بہت بڑا جھوٹا ہے” (یعنی شیطان فطری طور پر جھوٹا ہے مگر سچی بات کہہ گیا)۔

سقیفہ بنی ساعدہ اور بیعتِ خلافت کا تاریخی پس منظر
بئرِ بضاعہ کے بالکل قریب ہی بنو ساعدہ قبیلے کی ایک مرکزی بیٹھک اور سایہ دار چبوترہ ہوا کرتا تھا، جسے تاریخِ اسلام میں “سقیفہ بنی ساعدہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں قبیلے کے لوگ اپنے اہم ترین مشورے اور فیصلے کیا کرتے تھے۔

یہ مقام تاریخِ اسلام کا ایک عظیم موڑ ثابت ہوا کیونکہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصالِ کے فوراً بعد، مسلمانوں کے سامنے امت کی شیرازہ بندی اور قیادت کا نازک سوال درپیش تھا۔ اسی سقیفہ بنی ساعدہ میں انصار اور مہاجرین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اکٹھے ہوئے۔ طویل مشاورت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنے کے لیے، اسی جگہ تمام صحابہ نے متفقہ طور پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو مسلمانوں کا پہلا خلیفہ چنا اور آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کی۔ یہ عظیم اور تاریخی واقعہ اسی بنو ساعدہ کے محلے میں پیش آیا، جس نے اس پورے علاقے کو بئرِ بضاعہ کی متبرک حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک لازوال سیاسی اور تاریخی شہرت بھی عطا کر دی۔

آج اگرچہ مدینہ منورہ کی جدید توسیع کے باعث بئرِ بضاعہ اور سقیفہ بنی ساعدہ کے ظاہری آثار مسجدِ نبوی کے شمال مغربی رخ پر جدید عمارتوں اور سڑکوں میں سما چکے ہیں، لیکن ان کی روحانی خوشبو، برکات اور تاریخی عظمت قیامت تک مسلمانوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔
تحریر پسند آئے تو شئیر لائک اور کمنٹ کیجے (جاری ہے)