Skip to content

بارگاہِ حرم کی مقدس زیارات: تاریخ و فضائل کے آئینے میں (قسط 3)۔۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

بارگاہِ حرم کی مقدس زیارات: تاریخ و فضائل کے آئینے میں (قسط 3)۔۔۔۔تحریر ۔۔۔۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

حرمِ مکی کی فضائیں آج بھی ان یادوں سے مہک رہی ہیں جو تاریخِ عالم کا رخ موڑنے کا سبب بنیں۔ مسجدِ حرام کے گرد و نواح میں بکھرے یہ نشانات محض پتھر یا مقامات نہیں، بلکہ ایمان و استقامت کی روشن داستانیں ہیں۔ آئیے ان مقدس مقامات کی زیارت کرتے ہیں:

15… دارالندوہ: سازشِ قریش اور تدبیر الٰہی

“دارالندوہ” کے لغوی معنی “مشورے کی جگہ” کے ہیں۔ تاریخِ اسلام کے اوراق بتاتے ہیں کہ یہی وہ مقام تھا جہاں کفارِ مکہ نے جمع ہو کر سرکارِ دو عالم ﷺ کی جانِ اطہر کے خلاف (نعوذ باللہ) شہادت کا ناپاک منصوبہ تیار کیا تھا۔ قریش کو اس گھناؤنے ارادے کی ہمت نہ تھی، کیونکہ حضور ﷺ کا خاندان “بنو ہاشم” باوجود مسلمان نہ ہونے کے، آپ ﷺ کی پشت پناہی میں سیسہ پلائی دیوار بنا کھڑا تھا۔

اس جگہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں ابلیسِ لعین ایک بوڑھے انسان کی شکل میں نمودار ہوا اور مشورہ دیا کہ اگر اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے تو عرب کے ہر قبیلے سے ایک ایک جوان نامزد کیا جائے، تاکہ بنو ہاشم کے لیے تمام قبائل سے بدلہ لینا ناممکن ہو جائے۔ مگر وہ بھول گئے تھے کہ “واللہ خیر الماکرین”۔ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کی حفاظت فرمائی۔ یہ مقام مسجدِ حرام کے “بابِ فتح” کے قریب واقع تھا، جو آج کل توسیعِ حرم کی بدولت “مطاف” کا حصہ بن چکا ہے۔ جہاں باب الفتح کا بورڈ آویزاں ہے، اس کے بائیں جانب یہ تاریخی مقام موجود تھا۔

16..۔ بیئرِ زمزم: معجزۂ خلیل و اسماعیل

زمزم کا وہ بابرکت کنواں، جس کا فیض صدیوں سے جاری ہے، درحقیقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیوں کی رگڑ اور تپتے صحرا میں اللہ کی رحمت کا ثمر ہے۔ ماضی میں یہاں ایک باقاعدہ کنواں ہوتا تھا جہاں سے زائرین خود پانی بھرتے تھے، مگر اب مطاف کی وسعت کے باعث یہ کنواں مطاف کے نیچے آ گیا ہے۔ اگرچہ وہاں تک رسائی ممکن نہیں، تاہم مطاف کے فرش پر کالے ماربل کی چوکور لائنوں سے اس کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔ روایات کے مطابق زمزم کے کنویں پر دعائیں مستجاب ہوتی ہیں؛ یہاں کھڑے ہو کر مانگی گئی دعا ایسے ہی ہے جیسے آپ نے قدیم کنویں کے دہانے پر کھڑے ہو کر التجا کی ہو۔

17… جبلِ صفا: شعائر اللہ اور نشانِ قیامت

جبلِ صفا وہ مبارک پہاڑی ہے جہاں سے سعی کا آغاز ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم نے صفا و مروہ کو “شعائر اللہ” (اللہ کی نشانیاں) قرار دیا ہے۔ صفا کی عظمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ قربِ قیامت میں “دابۃ الارض” (زمین سے نکلنے والا ایک خاص جانور) اسی مقام سے برآمد ہوگا جو لوگوں سے کلام کرے گا۔ اس کے ایک ہاتھ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اور دوسرے میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی ہوگی۔ وہ مومن کی پیشانی پر عصا سے نشان لگائے گا تو اس کا چہرہ نور سے دمک اٹھے گا، اور کافر کی طرف اشارہ کرے گا تو اس کی پیشانی تاریک ہو جائے گی۔ صفا کی تاریخی اہمیت یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ نے اسلام کی پہلی علانیہ دعوت اور تبلیغ اسی پہاڑی کی چوٹی سے فرمائی تھی۔

18… دارِ ارقم: اسلام کا پہلا مدرسہ

جب آپ صفا کی پہاڑی سے نیچے اتر کر مروہ کی سمت بڑھتے ہیں، تو جہاں سے سبز لائٹس کا آغاز ہوتا ہے، وہاں کبھی حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کا گھر ہوا کرتا تھا، جسے “دارِ ارقم” کہا جاتا ہے۔ یہ اسلام کی تاریخ کا وہ پہلا خفیہ مرکز اور مدرسہ تھا جہاں حضور ﷺ ابتدائی سالوں میں نماز ادا فرماتے اور نو مسلمین سے ملاقات کرتے تھے۔ مرادِ رسول، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسی چوکھٹ پر اسلام قبول کیا، جس کے بعد مسلمانوں کو وہ قوت ملی کہ وہ بیت اللہ میں باجماعت نماز ادا کرنے لگے۔

19…۔ حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم: جنت کے یاقوت

حجرِ اسود اور مقامِ ابراہیم حرم کی وہ عظیم زیارتیں ہیں جن کے بارے میں ترمذی شریف کی صحیح حدیث ہے کہ: “یہ دونوں پتھر جنت کے یاقوت ہیں”۔ جب یہ اتارے گئے تو ان کی روشنی اس قدر تھی کہ مشرق سے مغرب تک زمین روشن ہو سکتی تھی، مگر اللہ نے ان کی چمک کو ختم فرما دیا۔

20…. حجرِ اسود: یہ وہ مبارک پتھر ہے جہاں سے طواف کی ابتدا ہوتی ہے۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق جب یہ جنت سے آیا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا، مگر بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کر دیا۔ جو خوش نصیب اس کا استلام (بوسہ یا اشارہ) کرتا ہے، یہ پتھر اس کے گناہوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

21…مقامِ ابراہیم: یہ وہ معجزاتی پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر فرمائی۔ یہ پتھر اس دور میں ایک “لفٹ” کا کام دیتا تھا؛ تعمیر کے دوران دیوار جتنی بلند ہوتی، یہ پتھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اتنا ہی اوپر اٹھا لیتا۔ آج بھی اس پتھر پر خلیل اللہ علیہ السلام کے قدموں کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

ناظرین و زائرین! یہ تمام مقامات مسجدِ حرام کے بالکل قرب و جوار میں واقع ہیں، جہاں آپ آسانی سے پیدل جا کر اپنی آنکھوں کو نور اور دل کو سرور بخش سکتے ہیں۔ اللہ ہم سب کی ان مقامات کی حاضری کو قبول فرمائے۔(جاری ہے) مزید معلومات کےلئے پیچ کو فالو ضرور کیجئے