ایران کی تباہی کی بنیادی وجہ،امریکہ کی مرکز نگاہ ”آبنائے ہرمز“ آخر کیا ہے؟ تحریر حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
12 ہجری 633 عیسوی جب خلافت اسلامیہ اپنے ابتدائی دور میں تھی۔ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عراق کی مہم کے لیے ایک عظیم سپہ سالار کو روانہ کیا۔یہ وہ عظیم سپہ سالار تھا جسے تاریخ سیف اللہ کے لقب سے یاد کرتی ہے جس کا اصل نام خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھا۔ دوسری طرف مد مقابل ایران کی طاقتور سلطنت کا ایک جرنیل”ہرمز“ تھاجوایران کے سرحدی علاقے کاظمہ کا گورنر تھا۔ میدان سجا فوجیں آمنے سامنے کھڑی تھی.. ہرمز نے للکار… آؤ خالد ؛ مقابلہ ہو جائے…. حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے یہ چیلنج قبول کیا دونوں جنگجو میدان میں اترے تلواریں ٹکرائی اور پھرحضرت خالد بن ولید کی ایک فیصلہ کن وار پر ہرمز زمین پر گر چکا تھا۔ اپنے کمانڈر کی موت دیکھ کر ایرانی فوج کا حوصلہ ٹوٹ گیا اور مسلمانوں کو ایک واضح فتح حاصل ہوئی۔ یہی فتح عراق میں اسلامی فتوحات کا آغاز بنی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی علاقوں میں فتوحات کے بعد نام بدل گئے مگر یہ اہم ترین آبی گزرگاہ آج بھی اسی شکست خوردہ جرنیل کے نام سے”آبنائے ہرمز“جانی جاتی ہے۔
دنیا کے بیس فیصد تیل کی سپلائی صرف دو (Nautical Mile)میل چوڑی او ر دوسو میل لمبی پٹی سے گزرتی ہے جسے”آبنائے ہرمز یا سٹریٹ آف ہر مز“ کہا جاتا ہے یہ سمندری گزرگاہوں میں سب سے خطرناک اور پاور فل چوک پوائنٹ ہے۔ اسی چھوٹی سی جگہ کو کنٹرول کرنے کا مطلب پوری پوری دنیا پہ راج کرنا ہے اور اسے بلاک کرنے کا مطلب پوری دنیا کو تباہ کر دینا ہے اس پوائنٹ کو آبنائے ہرمز کہتے ہیں۔
سٹریٹس اصل میں سمندر کے ایسے پتلے حصوں کو کہتے ہیں جو دو بڑے سمندروں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں اب یہ جانئے کہ ایسی کیا خصوصیات ہیں جو اسے اتنا پاور فل اور اہم بناتے ہیں۔ ہماری زمین کے 70 فیصد حصے پہ سمندر ہیں اور انہی سمندروں کے ذریعے دنیا کی 80 فیصد تجارت ہوتی ہے۔ کسی بھی وقت تقریبا 50 ہزار سمندری جہاز ان سمندروں کو کراس کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ان سمندروں سے گزرنا بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ قدرتی جغرافیہ کی وجہ سے ان سمندروں میں سٹریٹ یا چوک پوائنٹس بنے ہوئے ہوتے ہیں جو اگر کسی بھی وجہ سے بند ہو جائیں تو پوری دنیا کی معیشت ہل کے رہ جائے گی۔ یہی ہوا تھا مارچ 2021 میں جب ایک کارگو شپ سوئزکنال(یہ مصر میں واقع نہر سوئز پر مصنوعی آبی گزرگا ہ ہے) میں چھ دنوں کے لیے پھنس گئی تھی اور پوری دنیا کو 10 بلین ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس آبنائے ہرمز کے علاوہ بھی دنیا میں بہت سے چوک پوائنٹس اور بھی ہیں جیسا کہ ”پانامہ کینال چوک“ یہ اہم چوک بحر الکاہل اور بحر اوقیانوس کے درمیان دوطرفہ ٹریڈ کو کنٹرول کرتی ہے تیسرا اہم چوک”سٹریٹ آف گڈ ہوپ“جو پورے افریقہ کی ٹریڈکو کنٹرول کرتا ہے چوتھا اہم پوائنٹ”سٹریٹ آف جبرالٹر“یہ چوک بحیرہ روم اور بحیرہ اوقیانوس کے درمیان واقع ہے۔جو افریقہ اور یورپ کے زیادہ تر ٹریڈکو کنٹرول کرتا ہے پانچواں اہم چوک”ڈینش سٹریٹ“ بالٹک سی اور نارتھ سی کے درمیان ٹریڈ کو کنٹرول کرتا ہے چھٹے نمبر پر”ٹرکش سٹریٹ“ ہے جو بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کے درمیان واقع ہے۔یہ یورپ اور ایشاء کے درمیان ٹریڈ کوکنٹرول کرتا ہے اور آخر میں ”سٹریٹ آ ملاکا“ جو بحیرہ ہند او ربحر الکاہل کے درمیان ٹریڈ کو کنٹرول کر تا ہے ان میں سے کوئی بھی پوائنٹ اتنا خطرناک اور اہم نہیں ہے جتنا سٹریٹ آف ہرمز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرشین گالف اور گالف آف عمان کو کنٹرول کرنے کا یہ واحد راستہ ہے اور یہیں سے سارے سمندری جہاز نکل کے پوری دنیا میں جاتے ہیں۔دنیا میں آئل اینڈ گیس کی 50 فیصد رسد یہاں سے ہوتی ہے اب پرشین گالف بہت ہی اہم جگہ ہے
کیونکہ اٹھ ممالک اپنی ساحلی پٹی اس کے ساتھ شیئر کرتے ہیں جس میں ایران،عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان شامل ہیں۔ ان میں سے چار ملکوں کے لیے باقی دنیا سے رابطہ کرنے کا واحد راستہ سٹریٹ آف ہرمز ہے۔
تیل آج بھی ہماری دنیا کا سب سے بڑا انرجی کا زریعہ ہے۔ پوری دنیا کی 33 فیصد انرجی کنزمشن تیل سے ہوتی ہے۔ چاہے وہ ٹرانسپورٹ کے ذریعے ہوں جیسے کہ گاڑی ٹرین جہاز یا پھر بجلی بنانے والے پاور پلانٹس ہوں توان تمام سیکٹرز میں 70 فیصد آئل استعمال ہوتا ہے۔ اب آئل کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دنیا میں بہت کم جگہوں پر پایا جاتا ہے۔مندرجہ بالا اٹھ ممالک کے پاس کل ملا کر دنیا کے 50 فیصد آئل پروڈیوس ہوتا ہے مطلب پوری دنیا کا آدھا تیل ان اٹھ ممالک کے پاس ہے اور بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی،بلکہ دنیا کے 40 فیصد نیچرل گیس کے ذخائر بھی اسی سرکل میں موجود ممالک کے پاس ہیں۔ اب دیکھے کہ نیچرل گیس،تیل اور کوئلے کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے بڑا آنرجی سورس ہے۔ ایک سروے کے مطابق ایران کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پورے پرشین گالف میں تیل اور نیچرل گیس کے اتنے زیادہ ذخائر ہیں جتنے شاید ہماری پوری دنیامیں کہیں بھی نہیں ہیں۔ اور اسی لیے پوری دنیا کے 15 فیصد انرجی سپلائی اسی پرشین گالف میں موجود ممالک سے آتی ہے اور فی الحال اس سپلائی لائن کا پوری دنیا کے پاس کوئی اور الٹرنیٹ روٹ بھی نہیں ہے لیکن اس 30 میل کے ایریا سے گزر کے جانا اتنا بھی آسان نہیں۔ سب سے پہلے یہاں پہ اٹھ ایسے آئس لینڈ ہیں جنہیں ہر سمندری جہاز کومشکل سے کراس کرنا پڑتا ہے۔ یہ اٹھ میں سے سات آئس لینڈز ایران کے کنٹرول میں ہیں۔ان تین آئس لینڈز کو یو اے ای کنٹرول کرنا چاہتا تھا مگر 1970 میں ایرانین ملٹری نے ان پر بھی کنٹرول کیا تھا تب سے یہ ایران کے پاس ہیں اور ان جگہوں میں سمندر بہت گہرا ہوتا ہے اور آئل ٹینکرز کے لیے یہاں سے گزرنا تقریبا ناممکن ہو جاتا ہے اتنی مشکلات کے بعد پرشین گالف سے نکلنے والا میجورٹی تیل مشرقی ایشیا کی طرف جاتا ہے جس میں سے 76 فیصد تو صرف پانچ ممالک کے پاس جاتا ہے ان میں سب سے پہلے نمبر پر چائنہ ہے۔ چائنہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معاشی اور دنیا میں سب سے زیادہ پیٹرولیم امپورٹ کرنے والا ملک ہے۔ چائنہ کی ٹوٹل پیٹرولیم امپورٹ کا تقریبا 45 فیصد اسی سٹریٹ آف ہرمز سے گزر کر جاتا ہے اسی طرح جاپان دنیا کی تیسری سب سے بڑی اکانومی ہے جسے اپنی 100 فیصد انرجی امپورٹ کرنی پڑتی ہے اور اس 100 فیصد امپورٹڈ انرجی سپلائی میں سے تقریبا 80 فیصد اسی چوک پوائنٹ سے گزر کر جاتی ہے۔اسی طرح انڈیاکا 70 فیصد آئل اور 50 فیصد گیس انہی گالف ممالک سے امپورٹ ہوتا ہے اور وہ بھی اسی راستے سے گزر کر جاتا ہے
اگر یہ چھوٹا سا پوائنٹ کسی بھی وجہ سے لمبے عرصے کے لیے بلاک ہو جائے تو دنیا کی دوسری تیسری چھٹی اور دسویں بلکہ ان تمام عرب ممالک کا سورس آف ریونیو بھی ختم ہو جائے گا جس کے نتیجے میں پوری دنیا میں ایک زبردست اکانومی کرائسز آ جائے گی اسی لیے یہ جگہ دنیا کا سب سے خطرناک اور امپورٹنٹ چوک پوائنٹ ہے اور اسی لیے دنیا کے سارے سپر پاور کنٹریز کی اس پہ کڑی نظر ہوتی ہے یہاں تک کہ امریکہ نے بھی اسی لیے یو اے ای، عمان، عراق، سعودی عرب اور بحرین میں درجنوں ملٹری بیسز بنائی ہوئی ہیں تاکہ وہ ایران پر کڑی نظر رکھ سکے اور آئل کی سموتھ سپلائی کو یقینی بنا سکے دوسری طرف ایران پہلے ہی کسی بھی جنگ کی صورت میں کئی دفعہ یہ سٹریٹ بلاک کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے اور اب بند کر دیا تھا لیکن پاکستان کی ثالثی کی کامیاب کوششوں سے ایک مرتبہ بھی دو ہفتوں کے لئے انٹر نیشنل تجارت کے لئے کھول دیا ہے اگر یہ سمندری تجارتی راستہ کسی صورت بند ہوجائے تو نہ صرف گلوبل اکانومی ہل کے رہ جائے گی بلکہ عین ممکن ہے کہ ورلڈ وار تھری کی بھی شروعات اسی سے ہو جائیگی اور دنیا تباہی کے دھانے پر پہنچ جائے گی۔۔۔۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔۔۔۔پسند آئے تو پیج کو فالو کیجئے لائیک اور شیئر کیجئے
