علم و دیانت کے سائے میں تجارت کا آغاز۔۔۔قلم کی آواز: عبدالحی
تاجر اور تجارت ہر دور میں اہم رہے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کر کے جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد سوق المدینة یعنی مسلمانوں کے لیے علحیدہ ایک مارکیٹ قائم کی۔ یہ دنیا کا پہلا”ماڈل اسلامی بازار تھا” اس بازار میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عثمان غنی، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بزنس کرتے تھے۔اس لئے معاملات اور تجارت کے احکام کو شریعت نے اتنی اہمیت دی ہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ دنیا کے کسی مذہب نے، تاریخ کے کسی نظریے نے اور کسی فلسفے نے معیشت وتجارت کو وہ مقام اور اہمیت نہیں دی جو اسلام نے دی ہے۔ دنیا کے کسی نظام نے معیشت اور تجارت کو اخلاق اور روحانیات سے اس طرح وابستہ نہیں کیا جس طرح اسلام نے ان دونوں کو وابستہ کر دیا ہے۔ دنیا کے کسی نظام میں معیشت وتجارت کی عمارت اخلاقی بنیادوں پر اس طرح قائم نہیں ہوتی جس طرح اسلام نے قائم کی ہے۔تجارت کی اہمیت اور اس کی معاشرتی افادیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے مفتی غیاث الدین صاحب نے چترال بازار میں فیض کتاب گھر کے قریب، اپنی کپڑوں کی دوکان کا افتتاح فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس کاروبار میں برکت، وسعت اور ترقی عطا فرمائے۔مفتی صاحب کا میدان تجارت میں قدم رکھنا چترال بازار کے تاجروں کے لیے بھی ایک خوش آئند اور باعثِ مسرت امر ہے، تاکہ تاجر برادری نہ صرف دیانت،امانت،صداقت اور اعتدال کی عملی مثال دیکھے بلکہ تجارتی معاملات اور مسائل کے حوالے سے ان کی رہنمائی سے بھی باآسانی استفادہ کر سکے۔




