سایورج خان مرحوم کا تعلق بالائی چترال یارخون گزیں سے ہے آپ کے آباؤاجداد گلگت بلتستان کے دریل تانگیر سے نقل مکانی کر کے بالائی غزر تیرو آئے وہاں سے ریاست چترال میں داخل ہوکر گزیں یارخون میں سکونت اختیار کی آپ قبیلہ شین یا یشکون سے تعلق رکھتے ہیں یہ قبیلے گلگت بلتستان میں سب سے قدیم مانے جاتے ہیں شینا زبان بھی دردک زبانوں میں سب سے پرانی زبان ان قبائل سے منسوب ہے ان قبائل کی تعداد شمالی علاقہ جات میں سب سے زیادہ ہے انہوں نے ہی اس علاقے کو آباد کیے ان پر حکمرانی بھی کی یہ قداور سخت جان محنتی لوگ ہیں سایورج خان مرحوم نے کوئی نوکری کی نہ علاقے سے باہر گئے سایورج خان کے چار اصول تھے اللہ پاک کی یاد سخت محنت مہمان نوازی اور تعلیم سے لگاؤ آپ دراز قد پہلوان نما وجیح شخصیت کے مالک تھے وہ انتہائی مہمان نواز اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے والے تھےآپ کے کچھ زمینات بروعیل روڈ سے متصل بھی تھے گھر سے روٹی چائے لاکر راہ چلتے مسافروں کو پیش کرتے بھوک عربت کے دنوں جب علاقے میں کوئی سرکاری گودامز۔موجود نہیں تھے لوگوں کو خوراک کی مشکلات ہوتی تو سایورج خان ان کی مدد کرتے اس طرح آپ نے زندگی بھر ضرورت مندوں کی مدد کی جس دور میں تعلیم کا وجود اس علاقے میں نہیں تھا نہ کوئی تعلیمی ادارے موجود تھے سایورج خان تعلیم کی اہمیت کو جانتے تھے اس نے اپنے چھوٹے بچے محترم خوش محمد خان کو تعلیم کیلئے گھر سے سینکڑوں کلومیٹر دور بھیجا یہ وہی خوش محمد خان ہیں جس نے1987 میں پاکستان آرمی میں کمیشن حاصل کرکے علاقے کا پہلا کمیشن آفیسر بن گیا خوش محمد خان پاکستان آرمی کے شعبہ تعلیم سے وابستہ ہوکر آرمی کے نامور تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دیے اور کچھ اداروں کے سربراہ بھی رہے پاکستان کے کئی نامور جنرل آپ کے شاگرد رہے آپ کے ،شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو ملک کے بڑے بڑے اداروں کو چلا رہے ہیں انہی خدمات کی وجہ سے 19 جون 2013کو آپ پاکستان آرمی کے بریگیڈیئر کے عہدے پر فائز ہوئے اس سے پہلے اس علاقے میں کوئی بھی آفیسر اس عہدے تک نہیں پہنچے تھے بریگیڈیئر خوش محمد خان ایک انتہائی قابل ماہر تعلیم کے علاؤہ ادارے بنانے چلانے اور تدریس کے اعلیٰ معیار کے وسیع تجربے کے ساتھ ریٹائر ہوئے اور اپنے تجربات کو قوم کیلئے استعمال کرنا چاہتے تھے اسلئے 16جون 2015 کو آغا خان ایجوکیشن سروسز پاکستان میں بحثیت جنرل منیجر گلگت بلتستان چترال تقرری قبول کی اور مختصر عرصے میں آغا خان ایجوکیشن سروسز کے تعلیمی اداروں کو ناقابل یقین بلندیوں تک پہنچایا آپ نے اسٹاف کی تقرریوں میں میرٹ کو ہی معیار بنایا اساتذہ کو ان کا اصل مقام دیا اور یوں معاشرے کے انتہائی قابل افراد کو ادارے سے منسلک کرنے میں کامیاب ھوئے اور ساتھ ہی اپنی اثرو رسوخ اور تجربے کے باعث نیشنل لیڈرشپ سے کروڑوں روپے کی بجٹ ان خستہ حال اداروں کیلئے لائے سینکڑوں سکولز بلڈنگ دوبارہ تعمیر کیے کئ جدید سائنسی لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا کئ نجی عوامی تعلیمی ادارے جو کہ بند ہونے کے قریب تھے آغا خان ایجوکیشن سروسز کے ساتھ منسلک کیے سب سےبڑھ کر اساتذہ میں ولنٹریری جذبہ ابھارا آج ادارے کے اساتذہ ایک مشنری جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں آپ نے مختصر مدت میں بےشمار نئے اداروں کی منظور ی لی اربوں روپے کے جدید تعلیمی ادارون کا قیام ممکن بنایا سکولوں میں معیار تعلیم اور نظم ضبط کو جدید طرز میں استوار کیے اساتذہ کو انتظامیہ کا حصہ بناکر ہر مضمون کے استاذ کی مدد کا نظام قائم کیا اور ایک مربوط خود کار نظام تخلیق کرکے سیکھنے اور سیکھانے کے عمل کو آسان بنایا طلبا میں مقامی ثقافت کو اجاگر کرنے کے پروگرام تشکیل دیے بریگیڈیئر خوش محمد خان اور آغا خان ایجوکیشن کے اساتذہ کے بدولت آج دنیا بھر کے تعلیمی اِدارے اس ادارے طلبا کیلئے کھل چکے ہیں اور بے شمار طلبا دنیا بھر کے نامور تعلیمی اداروں میں مکمل سکالرشپ کے ساتھ زیر تعلیم ہیں یہ سب کچھ مرحوم سایورج خان کے تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے کی وجہ سے ممکن ھوا نیت صاف ہو تو عربت پسماندگی کوئی رکاوٹ نہیں سایورج خان کے بیٹے محترم بریگیڈیئر خوش محمد خان کے علاؤہ محمد وزیر خان ایک سیاسی ورکر کے طور پر علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کر رہا ھے آپ کا پوتا طارق محمود سول سروس میں بحثیت ڈپٹی کمشنر انتہائی مشکل علاقہ کوھستان میں خدمات انجام دئے اور پورے علاقے میں مثالی آمن سامان قائم کیے ڈاکٹر تاج محمد خان سویڈن کےنامور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی آپ کی پوتی عابدہ پاسباں راولپنڈی خدمات انجام دے رہی ہیں دوسرا پوتا قیصر محمود اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ڈائریکٹر ہیں یوں سایورج خان نے انتہائی دور افتادہ گاؤں گزیں یارخون سے ملک کی تعمیرو ترقی میں حصہ ڈالا اللہ پاک مرحوم کی خدمات کو عبادت کے طور پر قبول کرے ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے



