میرے والد ……..تحریر……… ساجد ابن شفا
,سب سے پہلے میں دل کی گہرائی سے ان تمام دوستوں، بزرگوں، چاہنے والوں، رشتہ داروں، میرے والد کے ساتھیوں، پولیس ڈیپارٹمنٹ چترال کے افسران و جوانوں، ان کے اسٹاف، ادبی حلقے سے وابستہ دوستوں، سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز اور صفحات کے منتظمین، اور ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے مختلف انداز اور مختلف الفاظ میں میرے والد کے لیے محبت، احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔یہ جو عزت، یہ جو پیار اور یہ جو اجتماعی خلوص آج سوشل میڈیا پر نظر آ رہا ہے، یہ کسی رسمی موقع یا محض ریٹائرمنٹ کا ردِعمل نہیں۔ یہ برسوں کی دیانت دار خدمت، اصول پسندی اور انسانوں کے ساتھ برتے گئے رویّے کا حاصل ہے۔چترال بھر سے، بلکہ یوں کہیے کہ چترال کی اجتماعی آواز کے طور پر جو احترام سامنے آ رہا ہے، وہ میرے والد نے خود اپنے کردار اور عمل سے کمایا ہے۔ میں آپ سب کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ آپ نے اس محبت کو اتنے وقار کے ساتھ بیان کیا۔یہ سن 2004 کی بات ہے جب میں پہلی بار چترال آیا، اسی لمحے سے میرا ایک غیر معمولی تجربہ شروع ہوا۔ میں نے اپنے والد کو پہلی مرتبہ پولیس کی وردی میں دیکھا، اور اس کے بعد طویل عرصے تک ان کے ساتھ رہا۔ میں ان کے ساتھ ان جگہوں پر رہا جہاں پولیس افسر حقیقت میں کام کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے اور دباؤ جھیلتا ہے۔ میں ان کے ساتھ ان کے دفتر میں رہا، انویسٹیگیشن کے ماحول میں رہا، تھانے کی فضا میں رہا، اور پولیس والوں کے بیچ بیٹھ کر وہ سب کچھ دیکھا جو عام آنکھوں سے اوجھل رہتا ہے۔یہ محض ساتھ رہنا نہیں تھا، یہ ایک پورے نظام کے اندر سانس لینے جیسا تجربہ تھا۔ میں نے پولیس سسٹم کو اندر سے دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ایک افسر پر کس نوعیت کا دباؤ ہوتا ہے، کس طرح ہر فیصلہ کسی نہ کسی طاقت، سفارش یا مفاد سے ٹکراتا ہے، اور کس طرح ہر لمحہ انسان کو اپنے اصول اور آسان راستے میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ یہاں غیر جانبدار رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے، اور ایمانداری کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔انہی حالات کے بیچ میں میں نے اپنے والد کو قریب سے دیکھا۔ میں نے انہیں پولیس والوں کے درمیان، اختیار کے مرکز میں، اور شدید دباؤ کے ماحول میں خود کو سنبھالتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ کس طرح بغیر شور مچائے، بغیر دکھاوے کے، اپنی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ میں نے انہیں اصولوں پر قائم رہتے دیکھا، چاہے اس کی قیمت خاموشی ہو، تنہائی ہو یا وقتی نقصان۔میرا مشاہدہ کسی جذباتی وابستگی پر مبنی نہیں ہے۔ میں فطرتاً تنقیدی نظر رکھنے والا انسان ہوں۔ میں نے اپنے والد کو بھی اسی نظر سے دیکھا۔ اگر کہیں مجھے یہ محسوس ہوتا کہ وہ جانبداری برت رہے ہیں، یا اپنے اختیار کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تو میں آج بلا جھجک اس کا اعتراف کرتا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ میں نے انہیں ہمیشہ خود کو قابو میں رکھتے، حد میں رہتے اور قانون کو اپنی ذات پر مقدم رکھتے دیکھا۔میں نے اپنی آنکھوں سے یہ بھی دیکھا ہے کہ انہوں نے سرکاری وسائل کو کبھی اپنی سہولت یا خواہش کا ذریعہ نہیں بنایا۔ سرکاری گاڑی ہو یا کوئی اور سہولت، ان کا رویہ ہمیشہ واضح رہا کہ یہ امانت ہے، ملکیت نہیں۔ اگر کبھی حالات یا خاندانی مجبوری کے تحت کوئی چیز استعمال بھی ہوئی، تو اس میں بھی خوشی یا حق جتانے کا احساس کبھی شامل نہیں تھا۔ ان کے لیے وردی کے ساتھ آنے والا اختیار ہمیشہ ایک ذمہ داری رہا، سہولت نہیں۔میرے والد نے 1986 میں پولیس فورس میں ایک عام سپاہی (کانسٹیبل) کے طور پر اپنی سروس کا آغاز کیا، اور ایس پی کے عہدے تک پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔ یہ سفر کسی شارٹ کٹ، کسی سفارش یا کسی آسان راستے کا نتیجہ نہیں تھا۔ ایک سپاہی سے افسر بننے تک کا یہ سفر برسوں کی محنت، مستقل مزاجی، سیکھنے کے عمل اور خود کو ہر مرحلے پر ثابت کرنے سے طے ہوتا ہے۔ پولیس جیسے سخت اور درجہ بندی والے ادارے میں اس مقام تک پہنچنا بذاتِ خود ایک غیر معمولی ریکارڈ اور ایک خاموش جدوجہد کی داستان ہے، جسے وہ بنا شور کے، بنا دعوے کے طے کرتے رہے۔اس کے علاوہ میرے والد کی شناخت صرف ایک پولیس افسر تک محدود نہیں رہی۔ وہ چترال کی ایک معتبر ادبی شخصیت ہیں۔ وہ فن کو سمجھنے والے انسان ہیں، گلوکار ہیں، شاعر ہیں، اور ایک اعلیٰ درجے کی حسِ مزاح رکھتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ انہوں نے وردی کے سخت ماحول میں بھی اپنی انسانیت، شائستگی اور تخلیقی پہچان کو زندہ رکھا۔ وہ محفل میں بھی وقار کے ساتھ رہے، اور دفتر میں بھی۔ لوگوں سے ان کا تعلق صرف اختیار کا نہیں تھا، انسان کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں بھی رہے، انہیں صرف افسر کے طور پر نہیں بلکہ ایک مہذب، خوش گفتار اور ذہین انسان کے طور پر پہچانا گیا۔یہ سب باتیں میں نے دور سے نہیں سنیں، میں نے قریب سے دیکھی ہیں۔ پولیس والوں کے درمیان رہ کر، نظام کے اندر رہ کر، اور برسوں کے مشاہدے کے بعد میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے ایک مشکل، دباؤ والی اور آزمائشوں سے بھری سروس کو غیر معمولی استقامت، دیانت اور وقار کے ساتھ نبھایا۔آخر میں بطور بیٹا میرا فخر کسی لمحاتی جذبے کا نہیں، بلکہ برسوں کی گواہی کا حاصل ہے۔یہ فخر محض رشتے کا نہیں .یہ فخر کردار کا ہے یہ فخر اصول پر کھڑے رہنے کا ہے اور یہ فخر اس عزت کا ہے جو مانگ کر نہیں، جینے کے طریقے سے کمائی جاتی ہے۔










