Skip to content

وینزویلا کاامریکہ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ ۔۔۔حقیقت جان کر جیو۔۔۔تحریر   حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

وینزویلا کا امریکہ کے ساتھ مسئلہ کیا ہے؟ ۔۔۔حقیقت جان کر جیو۔۔۔تحریر   حافظ نصیر اللہ منصور چترالی

وینزویلابراعظم جنوبی امریکہ کے شمال میں وقع ایک  چھوٹا ساملک ہے ۔ بحیرہ کیریبین میں ایک براعظمی زمینی علاقے  کے علاوہ بہت سے جزائر اور  چھوٹے چھوٹے جزیروں پر  مشتمل ہے۔اس کے دارالحکومت کا نام کاراکاس ہے۔وینزویلا کی کرنسی کانام بولیوار ہے۔اقوام متحدہ کی شماریات کے مطابق2012ء میں وینزویلا کی آبادی تقریبا 29954782 تھی۔اسی شماریات کے مطابق وینزویلا کا رقبہ کل ملا کرتقریبا 916445 مربع کلو میٹر ہے۔1499ء میں الونسو ڈی اوجیڈا کی قیادت میں ایک  بحری  مہم کے دوران  وینزویلاکودریافت کیا گیا پھر اس خطے کا نام وینس کے ساتھ مشابہت کی بنیاد پر وینزیولا یا “چھوٹا وینس” رکھ دیا گیا۔ ہسپانوی  زبان کا یہ لفظ وینزیولا، وینزویلا سے تبدیل ہو گیا۔ بہر حال اس نام کے حوالے سے اور بھی تاویلات کی گئی ہیں۔ اس براعظمی خطے کے شمال میں بحیرہ کیریبین اور بحیرہ اوقیانوس مغرب میں کولمبیا ،جنوب میں برازیل،شمال مشرق میں ٹرینیڈاڈااور ٹوباگواور مشرق میں گیانا واقع ہیں۔

    وینزویلا دنیا کا قدیم ترین انسانی اثرات رکھنے والے علاقوں میں سے ایک ہے۔قدیم انسانی اثرات کی وجہ سے اس خطے میں کئی معاشرے جنم لئےاور مختلف قسم کی ثقافتیں یہاں اجاگر ہوئیں۔ یہاں کے قدیم  لوگ لکڑی اور پتھر کے بنے ہوئے  گھروں میں رہتے تھے اور انتہائی پر امن ہوتے تھے ۔ ان کا زریعہ معاش عموماکھیتی باڑی ہوتی تھی۔ فصلیں اگانے پر انحصار کرتے تھے۔آلو کی فصل یہاں بہت مشہور ہے۔وینزویلا ایک صدارتی جمہوریہ  ملک ہے جو 23 ریاستوں، کیپٹل ڈسٹرکٹ اور وفاقی علاقے پر مشتمل ہے جس میں وینزویلا کے سمندری جزائر بھی شامل ہیں۔ وینزویلا لاطینی امریکا کے سب سے زیادہ شہری آبادی والے ممالک میں شامل ہے۔ وینزویلا کی اکثریت شمال کے شہروں اور دار الحکومت میں رہتی ہے۔تاریخ بتاتی ہے کہ وینزویلا کی  سلطنت پر مختلف اوقات میں فوجی یلغار کے علاوہ بھی اتار چڑھاو آتے رہے ہیں۔1520ء میں اسپین نے ونیز ویلا کو اپنے نو آبادیات میں شامل کیا ۔1811ء میں ہسپانیہ سے آزاد ی حاصل کرنے کے بعد وفاقی جمہوریہ کولمبیا کا حصہ بنا۔پھر یہاں سے آزادی حاصل کرکے امریکہ کے زیر تسلط رہا۔ 1830ء میں ایک مکمل خود مختار ملک کے طور پر الگ ہو گیا۔ انیسویں صدی کے دوران، وینزویلا کو سیاسی انتشارکا سامنا کرنا پڑا،اس مملکت پر  بیسویں صدی کے وسط تک علاقائی فوجی آمروں کا غلبہ رہا۔ 1958ء کے بعد سے، ملک میں جمہوری حکومتوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ۔لیکن اس کا تسلسل بھی کامیاب نہ رہا ۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں اقتصادی بحرانوں نے  بڑے پیمانے  پر سیاسی بحرانوں اور سماجی بد امنی کو جنم دیا، جن میں 1989ء کے مہلک کاراکازو کے تباہ کن  فسادات،  1992ء میں بغاوت کی دو بڑی  کوششیں اور عوامی فنڈز کے غبن کے الزام میں صدر کا مواخذہ کرنا  شامل ہیں۔پیڑول اور گیس کی پیداوار سے مالا مال ملک ایک مرتبہ بھی مہنگائی ،قحط ، بے تحاشہ کرپشن کے سبب انتشار کے دلدل میں پھنس گیا ۔جس کی وجہ سے بیرون مداخلتوں نے ملک کو کنگال کرکے رکھ دیا۔اس چھوٹی سی سلطنت میں کئی سیاسی پارٹیاں موجو دہیں جنہوں نے 1998ء   کےصدارتی انتخابات میں وینزولا میں بولیویرین انقلاب کا انہدام بھی  دیکھا، جس کا آغاز  1999ء کی آئین ساز اسمبلی سے ہوا، جہاں وینزویلا کا نیا آئین نافذ کیا گیا ۔ حکومت کی عوامی سماجی بہبود کی پالیسیوں کو حکومت کے ابتدائی سالوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے، سماجی اخراجات میں عارضی طور پر اضافہ اور معاشی عدم مساوات اور غربت کو کم کرنے سے تقویت ملی تھی۔ تاہم،  2010ء میں  پھر سے غربت میں تیزی سے اضافہ ہونا شروع ہوا۔ وینزویلا کے 2013ء کے صدارتی انتخابات کو بڑے پیمانے پر متنازع بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر احتجاج ہوا، جس نے ایک اور ملک گیر بحران کو جنم دیا جو آج تک جاری رہا ہے۔ وینزویلا نے ایک آمرانہ ریاست میں بدلتے ہوئے جمہوری پسپائی کا  بھی تجربہ کیا ۔ آزادی صحافت اور شہری آزادی کی بین الاقوامی اعدادو شمار  میں اس کا درجہ کم سے کم تر ہوتا گیا اور اس میں بدعنوانی کی  سطح بڑھتی گئی۔اب وینزویلا ایک ترقی پزیر ملک ہے جس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے  تیل کے ذخائر موجود ہیں   اور یہ دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کرنے والے ملکوں  میں سے ایک  ہے۔ پہلے، ملک کافی اور کوکو جیسی زرعی اجناس کا ایک چھوٹا برآمد کنندہ تھا، لیکن تیل تیزی سے برآمدات اور حکومتی محصولات پر حاوی ہو گیا۔ موجودہ حکومت کی زیادتیوں اور ناقص پالیسیوں نے وینزویلا کی پوری معیشت کو تباہ کر دیا۔ ملک میں ریکارڈ افراط زر، بنیادی اشیا کی قلت، بے روزگاری، غربت، بیماری، بچوں کی شرح اموات، غذائی قلت، سنگین جرائم اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام  اور اقتدار کی منتقلی سے گریزاں ہونے نے ملک کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ ان عوامل نے وینزویلا کے پناہ گزینوں کے بحران کو بھی  جنم دیا جہاں ستر لاکھ سے زیادہ لوگ ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے۔  2017ء تک، وینزویلا کو کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے ذریعے قرض کی ادائیگیوں کے سلسلے میں ڈیفالٹ قرار دیا گیا تھا۔ وینزویلا کے بحران نے انسانی حقوق کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کو بڑھاوا دیا ۔ خبررساں ادارے روئٹرز کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو سے متعلق چند اہم حقائق پیش کیے گئےہیں۔ ٹرمپ حکومت صدر نکولاس مادورو پر منشیات کے نیٹ ورکس چلانے اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کرتی رہی ہے اور گزشتہ کئی ماہ سے انہیں اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ میں رکھا گیا ۔امریکی حکومت نے کئی مرتبہ صدر نکولاس مادورو کو وارننگ دی تھی کہ کہ منشیات کا کاروبار بند ہونا چاہئے وہ مادورو کو منشیات سمگلنگ کرکے امریکہ لانے  میں ملوث تصور کرتے رہے۔صدر ٹرمپ کو صدر نکولاس مادورو کے ایران کے حمائتی ہونے پر بھی اعتراض تھا جبکہ مادورو بھی امریکہ کو اپنا دشمن طاقت سمجھتا تھا ۔ وینزویلا کو ایران کے قریب ترین بین الاقوامی اتحادیوں میں شمار کیا جاتا  رہاہے۔ دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی امریکہ کو حریف سمجھتی ہے اور وہ ممکنہ طور پر خفیہ ذرائع سے قریبی اقتصادی اور عسکری تعاون بھی رکھتے ہیں۔

صدر نکولاس مادورو 23 نومبر 1962ء کو ایک محنت کش خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ٹریڈ یونین رہنما کے بیٹے ہیں اور 1992ء میں فوجی افسر اوگو چاویز کی ناکام بغاوت کے دوران بس ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے۔انہوں نے چاویز کی جیل سے رہائی کے لیے مہم چلائی اور ان کے بائیں بازو کے ایجنڈے کے پرجوش حامی بن گئے۔ چاویز کے 1998ء کے انتخاب کے بعد مادورو پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔بعد ازاں وہ قومی اسمبلی کے صدر اور پھر وزیر خارجہ بنے، جہاں انہوں نے تیل سے مالی امداد کے ذریعے بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کے لیے دنیا بھر کے دورے کیے جس پر بھی امریکہ کو تشویش تھا۔چاویز نے مادورو کو اپنا جانشین نامزد کیا اور چاویز کی وفات کے بعد 2013 ء میں صدر نکولاس مادورو معمولی فرق یعنی فارم سینتالیس سے صدر منتخب ہوئے۔

ان کے دورِ حکومت میں ملکی معیشت شدید بحران کا شکار ہوئی، جس میں بے قابو مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت شامل تھی۔ ان کی حکمرانی پر مبینہ دھاندلی زدہ انتخابات، خوراک کی کمی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگے، جن میں 2014 اور 2017 میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف سخت حکومتی کریک ڈاؤن شامل تھا۔اس دوران وینزویلا کے لاکھوں شہری ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے گئے۔اسی وجہ سے بھی امریکہ بہادر صدر مادورو پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے۔ امریکہ میں صدر نکولاس مادورو پر منشیات دہشت گردی کے الزامات عائد ہیں۔ گزشتہ ہفتے سی آئی اے نےوینزویلا پر  ایک ڈرون حملہ بھی کیا تھا جس میں مبینہ طور پر وینزویلا کے منشیات کارٹلز کے زیر استعمال ایک ڈاکنگ ایریا کو نشانہ بنایا گیا۔  وینزویلا کےاٹارنی جنرل پام بونڈی  نے تصدیق کی کہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ کو منشیات سے متعلق الزامات کا سامنا ہے اور وہ جلد ہی امریکی سرزمین پر ’’امریکی انصاف کے پورے غضب‘‘ کا سامنا کریں گے۔امریکہ کی جانب سے یہ غیر معمولی اقدام وینزویلا کی قیادت کو ہٹانے کی ایک غیرمعمولی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو صدر نکولاس مادورو کی آمرانہ حکومت پر واشنگٹن کے کئی ماہ سے بڑھتے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔ پام بونڈی نے ایکس پر لکھا کہ  صدر نکولاس مادورو پر منشیات پر مبنی دہشت گردی کی سازش، کوکین درآمد کرنے کی سازش، اور امریکہ کے خلاف مشین گنز اور تباہ کن ہتھیار رکھنے کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی سماجی رابطہ کی ویب سائیڈ ایکس پر لکھا ہےکہ صدر  مادورو    وینزویلا کے صدر نہیں ہیں اور ان کی حکومت ناجائز حکومت  ہے۔روبیو نے الزام عائد کیا کہ مادورو’کارٹیل ڈی لوس سولیس‘ کے سربراہ ہیں، جسے انہوں نے منشیات کا دھندہ کرنے والی ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مادورو امریکہ میں منشیات اسمگل کرنے کے الزامات کے تحت پہلے ہی فردِ جرم کا سامنا کر رہے ہیں۔مادورو کی حکومت کو امریکہ اور دیگر طاقتوں کی جانب سے سخت پابندیوں کا سامنا رہا۔ 2020ء میں واشنگٹن نے ان پر بدعنوانی اور دیگر الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی، جنہیں  صدر نکولاس مادورو نے مسترد کر دیا۔مادورو نے جنوری 2025 میں تیسری مدت کے لیے حلف اٹھایا بین الاقوامی مبصرین اور اپوزیشن نے بڑے پیمانے پر دھاندلی زدہ قرار دیا اور اپوزیشن نے ایوان کا بائیکاٹ بھی کیا۔ حکومت کی فتح کے اعلان کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں افراد کو جیل میں ڈال دیا گیا۔اقوام متحدہ کے ایک فیکٹ فائنڈنگ مشن نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ وینزویلا کی بولیوارین نیشنل گارڈ نے ایک دہائی سے زائد عرصے کے دوران سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتے ہوئے سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور انسانیت کے خلاف جرائم کیےجن پر ان کا  کوئی احتساب نہیں ہوا ۔ بلاخر امریکہ نے مختلف حیلہ بہانوں کی مدد سے وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر پر نظر رکھے ہوئے تھے صدر ٹرمپ نے اس کا اظہا ر بھی کیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کرنے کے بعد واشنگٹن نہ صرف ملک کے مستقبل میں بلکہ تیل سے مالا مال وینزویلا کی آئل انڈسٹری میں بھی ’’بہت مضبوط‘‘ انداز میں شامل ہوگا۔انہوں نے وینزویلا کے تیل کا حوالےسے مزید کہا کہ امریکہ کے پاس ’’دنیا کی سب سے بڑی اور بہترین آئل کمپنیاں ہیں، اور ہم اس شعبے میں بڑی شمولیت  کے لیے جا رہے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق مادورو کو ایک انتہائی سخت حفاظتی حصار میں قائم ’’قلعہ نما‘‘ مقام سے گرفتار کیا گیا ۔ اس فوجی کاروائی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا دوسری جانب وینزویلا کی حکمران جماعت کے رہنما نہوم فرنانڈیز نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ صدر  صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ کوفوجی تنصیب فورٹ تیونا کے اندر واقع اپنی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا ہے اور تاحال ان کے زندہ ہونے کے ثبوت بھی نہیں مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،  ’’یہی وہ جگہ ہے جہاں بمباری کی گئی، اور وہیں صدر اور خاتونِ اول کو اغوا کیا گیا۔وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی نے کہا ہے کہ امریکہ کے فضائی حملوں میں ملک کے مختلف مقامات پر فوجی اور عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملے زیادہ تر فوجی اڈوں، ہوائی اڈوں، مواصلاتی تنصیبات اور بندرگاہوں کو نشانہ بناتے رہے۔   امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی وینزویلا کےعوام کے  لیے ’’نیا سویرا‘‘ ہے اور صدر نکولاس مادورو ’’اپنے جرائم کا حساب دیں گے۔جبکہ دنیا کے دیگر ممالک چین روس وغیر ہ نے امریکی کاروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ قرار دیا ہے ۔اسی طرح امریکہ ایک مرتبہ پھر عراق کے بعد دنیا کے سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والے ملک کے سیاہ و سفید کے بھی مالک بن گئے۔وینزویلہ کی عوام کا صدر نکولاس مادورو پر اعتماد کا اٹھ جانا اور عوام پر زبردستی مسلط ہونا شاید اس تمام قضئے کا نتیجہ رہا ۔