آج پشاور ہائی کورٹ نے چترال کےعوامی زمینوں کی سرکار سے بازیابی کا تاریخی فیصلہ سنا دیا ہے۔ چترال کے عوام کے لئے آج تاریخی فتح کا دن ہے , چترال کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہوا ہے ۔ممتاز قانون دان محب اللّٰہ تریچوی ایڈووکیٹ اور ان کے ساتھیوں کی شاندار وکالت ثمرہ ہے ہمارے نمائندہ سے بات کرتے ہوئے چترال کے نامور ماہر قانون پشاور ہائی کورٹ کےسینئر وکیل محب اللہ تریچوی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ
آج کا دن چترال کی تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ پشاور ہائی کورٹ نے وہ فیصلہ صادر سنا دیا ہے جس کا ہم برسوں سے انتظار کر رہے تھے۔ 1975ء کے اس متنازعہ نوٹیفکیشن، جس کے تحت چترال کی ہزاروں کنال عوامی ملکیت کی زمینوں کو سرکاری زمین قرار دیا گیا تھا، آج عدالت نے اس کے خلاف ہمارے مؤقف کو تسلیم کر تے ہوئے حق و انصاف کے مطابق فیصلہ چترالیوں کے حق میں دے دیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیس ہم نے 2019ء میں داخل کیا تھا، جب یہ محسوس ہوا کہ ریاستی ادارے تاریخی اور روایتی حق ملکیت کو نظر انداز کرتے ہوئے عوامی چراگاہوں، چراوٴ زمینوں، مشترکہ جنگلات اور دیگر علاقوں کو “سرکاری” قرار دے کر مقامی افراد کو اُن کے آبائی حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف ناانصافی تھی بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی، ثقافت اور معاشی ڈھانچے پر کاری ضرب تھی۔ہم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ہم نے دلائل، ریکارڈ، تاریخی شواہد اور مقامی روایات کے آئینے میں یہ ثابت کیا کہ یہ زمینیں چترال کے باسیوں کی ملکیت رہی ہیں نہ صرف استعمال میں بلکہ قانونی حیثیت میں بھی۔ پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے آج ہماری موقف کی تائید کی اور سچ کے حق میں فیصلہ سنا کر چترال کے عوام کو ان کا حق واپس دینے کا فیصلہ صادر کیا ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ فیصلہ کسی ایک فرد یا وکیل کی کامیابی نہیں بلکہ یہ پورے چترال کے عوام کی کامیابی ہے۔ یہ ان بزرگوں کی دعاؤں کا ثمر ہے جنہوں نے اپنی زمینوں کی حفاظت کے لیے آواز اٹھائی، یہ ان نوجوانوں کی جیت ہے جنہوں نے شعور کے ساتھ اپنے حقوق کو پہچانا، اور یہ اس عدالتی نظام کی فتح ہے جو حق اور سچائی کا فیصلہ سناتا ہے۔میں اس موقع پر اپنے تمام ساتھی وکلاء، عوامی نمائندوں، بزرگوں، نوجوانوں، صحافیوں اور چترال کے ہر فرد کو دل کی گہرائی سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ کامیابی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر ہم پرعزم ہوں، متحد ہوں اور آئینی و قانونی راستہ اختیار کریں، تو حق کو دبایا نہیں جا سکتا۔ہماری یہ جدوجہد اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ ہمیں اب اس فیصلے کے عملی نفاذ کے لیے بھی اسی جذبے سے کام کرنا ہوگا، تاکہ کوئی طاقت دوبارہ عوامی حقوق کو پامال نہ کر سکے۔محب اللہ تریچوی ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھاکہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں، جس نے ہمیں حق پر ثابت قدم رکھا اور فتح عطا فرمائی۔چترال کے غیور عوام کو یہ عظیم کامیابی مبارک ہو
