,شاگرام (نمائندہ نوائے چترال )ٹی ٹی آر ایف کے رہنما اور بزرگان اجتماعی گرفتاری دینے تھانے کی جانب روانہ 6 سال سے زیرِ تعمیر بونی بزند روڈ کی جلد تعمیر کا مطالبہ کرنے اور اس روڈ پر کرپشن کے بڑھتے ہوئے بازار کے خلاف احتجاج کرنے پر صوبائی حکومت، ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے تورکھو-تریچ یو سی کے 80 سال سے زائد عمر کے بزرگ، بوڑھے اور نوجوانوں کے خلاف دہشت گردی کے کیس سمیت چار ایف آئی آر درج کی تھیں۔چونکہ تورکھو-تریچ یو سی کے تقریباً 300 افراد کے خلاف دہشت گردی سمیت چار ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، اور ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق صرف سیکشن 7 انسداد دہشت گردی ایکٹ کو خارج کیا گیا ہے، جبکہ چاروں ایف آئی آر میں نامزد تمام افراد سے ہائی کورٹ نے ضمانت کرانے کا کہا تھا، ٹی ٹی آر ایف کے عمائدین اور رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ وہ ضمانت کے بجائے اجتماعی گرفتاری دیں گے۔ان کا مؤقف ہے کہ وہ کسی اخلاقی یا قانونی جرم میں ملوث نہیں ہیں اور نہ ہی کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے، بلکہ ان کا جرم صرف روڈ کی جلد تعمیر کا مطالبہ کرنا اور کرپشن روکنا ہے۔ چونکہ صوبے میں کرپشن کے خلاف پی ٹی آئی کی حکومت ہے، لوگوں کو توقع تھی کہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والوں کا خیرمقدم کرے گی، لیکن اس کے برعکس، کرپشن کے خلاف بات کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اب تورکھو اور تریچ یو سی کے مختلف علاقوں سے لوگوں کا قافلہ شاگرام تھانے کی جانب روانہ ہے تاکہ گرفتاری دینے اور گرفتاری دینے والوں سے اظہار یکجہتی کیا جا سکے۔ وہاں پہنچ کر علاقے کے بزرگ اور اساتذہ کرام، جنہیں پی ٹی آئی حکومت نے دہشت گرد قرار دیا ہے، گرفتاری پیش کریں گے۔اس وقت تریچ، کھوت، ریج، شاگرام، شوتخار، استاروں، ورکوپ، مڑپ اور دیگر علاقوں سے قافلے شاگرام تھانے کی جانب رواں دواں ہیں۔ٹی ٹی آر ایف کے بعض ذمہ داران، جو کسی کے علاج معالجہ اور کسی کے روزگار کے سلسلے میں پشاور میں موجود تھے، انہوں نے ہر ذاتی مجبوری کو ایک طرف رکھتے ہوئے قانون کے احترام میں اجتماعی گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ تمام ساتھی کل تورکھو پولیس اسٹیشن جا کر رضاکارانہ طور پر گرفتاری دیں گے۔اسی سلسلے میں پشاور کے ٹی ٹی آر ایف کے ذمہ داران نے دلاور اڈے میں آ کر انہیں ایک منظم، باوقار اور پرعزم انداز میں چترال کی جانب رخصت کیا۔یہ سفر کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس شعور کا اظہار ہے کہ ہم قانون سے بھاگنے والے نہیں، بلکہ قانون پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں۔ٹی ٹی آر ایف کی یہ اجتماعی پیش رفت اس بات کی گواہ ہے کہ ہماری جدوجہد پُرامن، آئینی اور منظم ہے۔






