پشاور(پریس ریلیز)ضلع چترال اپر میں زیرالتوا صحت کے مختلف منصوبوں کے حوالے سے ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی زیر صدارت ایک اعلی سطحی اجلاس انکے چیمبر میں منعقد ہوا. اجلاس میں سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی و صوبائی وزیر صحت میاں خلیق الررحمان کے علاوہ سیکرٹری صحت, ڈی جی ہیلتھ سروسز ڈایریکٹر آئی ایم ایو, ڈی ایچ او اپر چترال و دیگر افسران موجود تھے.
ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی نے اس بات پر غم و غصے کا اظہار کیا کہ ابتک نرسنگ کالج میں کلاسز شروع نہی کی جاسکی جو کہ افسوسناک ہے. انہوں نے محکمہ صحت کے اعلی حکام کو ہدایات دی کہ مختص 15 کنال زمین کو جلد محکمہ صحت کے حوالے کیا جاے اور اس سلسلے میں ضروری کاروائی کو جلد از جلد مکمل کیا جاے. جبکہ ڈی جی پی ایچ ایس اے کو ہدایات دی کہ
پاکستان نرسنگ کونسل کو کرائے کی عمارت میں نرسنگ کونسل کا دورہ جلد کروایا جاے .
ٹی ایچ کیو بونی کو کیٹگری سی میں بدلنے کے حوالے سے آلات کی خریداری, نئے پوسٹوں کی منظوری و دیگر لوازمات کو جلد مکمل کیا جاے تاکہ اس اہم منصوبے, جسکا ابتک 75 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے, افتتاح کیا جاسکے. انہوں نے ہدایات دیتے ہوے کہا کہ محکمہ ہذا محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ساتھ مل کر بقایا کام کو مکمل کیا جائے تاکہ وہاں کی غریب عوام کو صحت کی بہتر سہولیات میسر ہو, اسکے علاوہ دیگر آر ایچ سیز اور بی ایچ یوز میں سٹاف کی کمی کو جلد از جلد پورا کیا جاے.
آر ایچ سی شاگرام کو پبلک پراییویٹ پارٹرنرشپ کے تحت آوٹ سورس کرنے کے عمل کو تیز کیا جاے. انہوں نے کہا کہ شاگرام ایک دورافتادہ و پسماندہ علاقہ ہے اس لیے وہاں کی عوام کو صحت کی سہولت سے محروم رکھنا زیادتی ہے اور اس ضمن میں ہم کوئی سمجھوتہ نہی کرینگے.
ٹی ایچ کیو بونی و دیگر ہسپتالوں میں صحت سہولت کارڈ پلس کے تحت اعلی معیار کی سہولیات دیگر اضلاع سے بہتر دیئے جاییں کیونکہ اپر چترال دور افتادہ علاقوں پر مشتمل ہے, وہاں کی غریب عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن حد تک جاینگے تاکہ کسی بھی مریض کو پشاور یا دیگر بڑے شہروں میں منتقل کرنے کی نوبت نا آئے اور وہاں کی عوام کو مفت صحت کی سہولت گھر کی دہلیز پر میسر ہو. ڈپٹی سپیکر نے آخر میں تمام معزز اراکین مجلس کا شکریہ ادا کیا اور سپیکر بابر سلیم سواتی و وزیر صحت میاں خلیق الرحمان کا اس ضمن میں خصوصی دلچسپی لینے پر ممنویت کا اظہار کیا.



