پاکستان کا سب سے بڑا قومی ائیر لائن (پی آئی اے )خریدنے والا عارف حبیب کون؟تحریر ۔۔۔حافظ نصیر اللہ منصور چترالی
کراچی کی گلیوں کوچوں میں کھیل تماشہ دیکھتا ایک غریب مگر ایک ذہین لڑکا رہتا تھا۔لڑکے کی سوچ کے مطابق گھر میں آسائشیں اور راحتین کم تھیں، مگر ان کے خواب… آسمان سے بھی اونچے تھے اور اس ذہین فطین لڑکے کا نام عارف حبیب تھا ہجرت کے بعد کراچی میں ان کے خاندان نے نئے سرے سے زندگی کاآغاز کیا۔تعلیم صرف میٹرک تھی، مگر اس بچے کے سیکھنے کا جنون کسی بڑی یونیورسٹی سے کم نہ تھا۔1970 میں اس نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں ایک چھوٹے بروکر کی حیثیت سے قدم رکھ کراپنی عملی زندگی کا آغاز کر دیا۔وہ روزانہ گھنٹوں مارکیٹ کو دیکھتا، سمجھتا، اور نوٹ کرتا رہا پر وقت گزرتا گیااس کی ایمانداری، محنت اور دور اندیشی نے اسے دوسروں بروکروں سے آگے نکالنے کا موقع فراہم کیا۔یہ ننھا بروکر آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے پاکستان کے بڑے سرمایہ کاروں میں شمار ہونے لگا۔پھر ایک دن اس نے وہ قدم اٹھایا جس نے اسکی زندگی بدل کر رکھ دی اس نے عارف حبیب گروپ کی بنیاد رکھی ۔ایک ایسا گروپ جو آج اسٹیل، سیمنٹ، فرٹیلائزر، انرجی، رئیل اسٹیٹ اور فنانس اور بینکنگ جیسے بڑے شعبوں میں کام کرتا ہے۔ عارف حبیب صاحب عارف حبیب گروپ کی ہولڈنگ کمپنی عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ وہ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ، عائشہ اسٹیل ملز لمیٹڈ، جاویدان کارپوریشن لمیٹڈ (نیا ناظم آباد کے مالک) اور سچل ونڈ اور کے چیئرمین بھی ہیں۔جناب عارف حبیب ماضی میں چھ بار کراچی اسٹاک ایکسچینج کے منتخب صدر/چیئرمین رہے ہیں اور سینٹرل ڈپازٹری کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ کے بانی ممبر اور چیئرمین رہ چکے ہیں ۔ انہوں نے نجکاری کمیشن، بورڈ آف انویسٹمنٹ، ٹیرف ریفارمز کمیشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج آرڈیننس ریویو کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام بھی دیں ہیں ۔جناب عارف حبیب صاحب فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، وہ پاکستان سینٹر فار فلانتھراپی (PCP)، کراچی ایجوکیشن انیشیٹو (KSBL) اور کراچی اسپورٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ ساتھ میمن ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور فاطمید فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی میں سے ایک ہیں۔عائشہ سٹیل ملز لمیٹڈ عارف حبیب کنسلٹنسی (پرائیویٹ) لمیٹڈ عارف حبیب فاؤنڈیشن بلیک گولڈ پاور لمیٹڈ فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ جاویدان کارپوریشن لمیٹڈ نیا ناظم آباد فاؤنڈیشن پاکراب فرٹیلائزرز لمیٹڈ ،سچل انرجی ڈویلپمنٹ (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے بطور ڈائریکٹر عارف حبیب ایکویٹی (پرائیویٹ) لمیٹڈ ،عارف حبیب رئیل اسٹیٹ سروسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، فاطمہ سیمنٹ لمیٹڈ ،انٹرنیشنل بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (پرائیویٹ) لمیٹڈ، این سی ای ایل بلڈنگ مینجمنٹ لمیٹڈ، پاک عرب انرجی لمیٹڈ، پاکستان بزنس کونسل ،پاکستان انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ ،پاکستان مواقع لمیٹڈ کے بطور اعزازی ٹرسٹی/ڈائریکٹر پاکستان سینٹر فار فلانتھروپی کے بھی ڈائریکٹر ہیں۔ عارف حبیب صرف ایک بزنس مین کا نام نہیں بلکہ وہ پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والوں میں سے ایک مضبوط کردار ہے۔ ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار فراہم کیا ان کے گروپ کی کمپنیوں میں ہزاروں خاندانوں کا چولھا چلتا ہے۔اس نے ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جہاں نوکریاں کم ہوتی تھیں اور اس نے قوم کے بچوں کو نوکریاں فراہم کی،یہ فاؤنڈیشن تعلیم، صحت، کھیل، اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر بھی کام کرتی ہے۔غریب خاندانوں کی مدد، اسکولوں کی سپورٹ اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنااس کے اہم مقاصد ہیں۔اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو سپورٹ کرتے ہیں اور مختلف اسپتالوں، ٹرسٹس، اور تعلیمی ادارے ان کی فنڈنگ چل رہے ہیں تاکہ غریب مریضوں کا علاج ہو سکےاور بچوں کو تعلیم مل سکے۔ کھیل اور نوجوانوں کی ترقی میں اسٹیڈیم، گراؤنڈز اور کھیلوں کی سہولیات ان کی اس سوچ کی علامت ہیں کہ“صحت مند نوجوان ہی مضبوط قوم بناتے ہیں۔ اور آج… سب سے بڑا سنگِ میل عبور کیا جب پاکستان کی سب سے بڑی قومی کمپنی پی آئی اے نیلامی کے لئے میدان میں آئی تو اس نے پاکستان کی قومی ایئرلائن کا 75٪ حصہ ایک سو پینتیس ارب روپے میں خرید لیا۔ 135 ارب روپے کی اس تاریخی ڈیل نے پورے ملک کو حیران و ششدر کرکے رکھ دیا۔یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی پرائیویٹائزیشن ڈیل ہے ہے۔کامیاب بولی کے بعد انہوں نے کہا کہ پی آئی سے کو مضبوط بنایا جائے گا اور پی آئی اے میں کام کرنے والے ملازمین کو نہیں نکالا جائے گا اور مزید 20 طیارے پی آئی اے میں شامل کئے جائیں گے۔ایک وقت تھا جب وہ اسٹاک مارکیٹ کے باہر کھڑے ہو کرسینئر بروکرز کو دیکھتا اور اپنے تجربات میں اضافہ کرتا جاتا تھا۔آج وہ ایک ایسی ایئرلائن کا مالک ہےجس کے جہاز دنیا بھر کے آسمانوں پر اُڑتے نظر آتے ہیں ناظرین یہ کہانی ایک شخص کی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر کامیاب فرد کی کہا ہے یہ امید کی کہانی ہےیہ کہانی ایک جہد مسلسل کی کہا نی ہے یہ کہانی ایک مخلص دیانتدار ایماندار پاکستانی کی کہانی ہے ۔یہ کہانی بتاتی ہے کہ“کامیابی ڈگریوں سے نہیں، حوصلے سے ملتی ہے“اصل طاقت ماں باپ کے کمائے ہوئے پیسوں میں نہیں ، انسان کے اندروالی اخلاص میں ہوتی ہے۔“اگر نیت صاف ہو اور محنت دل کی کی جائے تو دنیا کی کوئی منزل دور نہیں ہوتی…اس کی واضح مثال ہے کہ ایک میٹرک پاس لڑکا بھی قومی ایئرلائن کا مالک بن سکتا ہے۔
