سن 2025 کا بھی آخری سورج غروب ہو گیا۔ ایک اور سال وقت کے دریچے سے گزر کر ماضی کا حصہ بن گیا۔ اگر علاقائی تناظر میں اس سالِ گزشتہ کے اہم واقعات پر نظر دوڑائی جائے اور مختلف علاقوں کے لوگوں کی اجتماعی سوچ، سماجی شعور اور حقوق کے لیے جدوجہد کو پرکھا جائے تو ایک حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ 2025 میں چترال کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں تورکہو فائق و ممتاز رہا۔
سال بھر بونی بزند روڈ کی بازگشت وقفے وقفے سے سنائی دیتی رہی۔ کبھی کام کی سست رفتاری اور بند ہونے کی خبریں آتی رہیں تو کبھی ٹی ٹی آر ایف کی جانب سے زبردستی کام شروع کروانے کی باتیں سامنے آتی رہیں۔ خدشات، افواہیں اور امید۔۔ ساری باتیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔ مگر اس تمام عرصے میں جو چیز نمایاں اور مرکز ِ نگاہ بنی رہی وہ اہلِ تورکھو کی طرف سے اس منصوبے کی کڑی نگرانی تھی۔
اہل تورکھو اور تریچ نے ٹی آر ایف (تورکھو تریچ روڈ فورم) کے پلیٹ فارم سے ایسی تحریک اٹھائی کہ اسے نظر انداز کرنا ارباب بست و کشاد کے لیے ممکن نہیں رہا ۔ ٹی ٹی آر ایف نے باور کرایا کہ بونی بوزند روڈ ہمارے لیے محض ایک سڑک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہمارا مستقبل بھی ہے اور ہمارا آئینی حق بھی۔
باشندہ گان ِ تورکھو و تریچ بالخصوص ٹی ٹی آر ایف کی قیادت نے اپنے اتفاق و اتحاد، سمجھداری و ہوشیاری اور بھرپور پرامن احتجاجی تحریک کے ذریعے نہ صرف روڈ منصوبے پر جاری کام کو رکنے سے بچایا بلکہ پورے چترال کو یہ پیغام بھی دیا کہ اگر عوام چاہیں تو نہ صرف اپنے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ حق غصب ہونے سے پہلے ہی اس کا راستہ بھی روک سکتے ہیں۔ ٹی ٹی آر ایف کی یہ جدوجہد محض قابلِ تحسین ہی نہیں رہی بلکہ دیگر علاقوں کے لیے قابلِ تقلید کارنامہ بن بن کر تاریخ کا حصہ بھی بن گئی۔
یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ حق لینے کے لیے محض ایک آدھ گھنٹے کا وقتی احتجاج کافی نہیں ہوتا۔ صرف لوگوں کو سڑکوں پر نکال دینے سے کبھی مقصدِ احتجاج حاصل نہیں ہوتا۔ منزل تک پہنچنے کے حکمت ِ عملی بنانی پڑتی ہے، قیادت کو فرنٹ پر آنا پڑتا ہے، قربانی دینی پڑتی ہے اور اپنے مستقبل کو داؤ پر لگانا پڑتا ہے سب سے بڑھ کر مستقل مزاجی دکھانی ہوتی ہے۔ یہ تمام چیزیں ٹی ٹی آر ایف کی تحریک میں ہمیں نظر آئیں ۔
اس پوری جدوجہد میں ٹی ٹی آر ایف (Turkhow–Torkhow Rights Forum) ان کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن رہا۔ ٹی ٹی آر ایف نے ثابت کیا کہ ہمارا یہ فورم محض سیاست اور نعرے بازی کا فورم نہیں ہے، ہمارا مقصد خواہ مخواہ حکومت سے الجھنا نہیں ہے بلکہ ہمارا مقصد اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے حقوق کی پاسبانی و نگہبانی ہے۔ اس فورم نے عوامی آواز کو یکجا کیا، معاملات کو سنجیدگی سے اٹھایا، متعلقہ اداروں تک اپنی صدا پہنچائی، میڈیا کو بروئے کار لایا اور احتجاج کو نتیجہ خیز بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔
تورکہو کی اس اجتماعی جدوجہد نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ جب پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر، ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر، خلوصِ نیت کے ساتھ عوامی حق کے لیے آواز بلند کی جائے تو نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔ یہ تحریک صرف بونی بزند روڈ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے چترال کے دیگر علاقوں کے لیے ایک واضح راستہ بھی دکھایا کہ حق مانگا نہیں جاتا، منظم ہو کر لیا جاتا ہے۔
سن 2025 رخصت ہو گیا، مگر تورکہو نے اس سن میں جو مثال قائم کی ہے، وہ حال و مستقبل میں دیگر علاقوں کے لیے ایک روشن حوالہ بن کر باقی رہے گی ۔
