Skip to content

انوارِ رسالت اور یادگارِ صحابہ کے روشن نقوش۔۔۔۔قسط8۔۔۔۔تحریر ۔۔۔حافط نصیر اللہ منصور چترالی

انوارِ رسالت اور یادگارِ صحابہ کے روشن نقوش۔۔۔۔قسط8۔۔۔۔تحریر ۔۔۔حافط نصیر اللہ منصور چترالی
مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد: مسجد ابوبکر صدیق اور مسجدِ اِجابہ
مستند تاریخی حقائق اور فضائل کی روشنی میں
مدینہ منورہ کی سرزمین کا ہر گوشہ عہدِ رسالت اور دورِ صحابہ کی لازوال داستانوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ مسجدِ نبوی شریف کے گرد و نواح میں واقع تاریخی مساجد زائرین کے لیے ایمان افروز یادگاریں ہیں۔ انہی میں سے دو اہم ترین مساجد، مسجدِ ابوبکر صدیق اور مسجدِ اِجابہ (مسجدِ بنو معاویہ) ہیں، جن کی تاریخ اور عظمت کے مستند گوشے درج ذیل ہیں:

۱۔ مسجدِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

مسجدِ علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے چند قدم آگے بڑھیں تو مسجدِ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ واقع ہے۔ یہ وہ مبارک مقام ہے جہاں سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانۂ خلافت میں عید کی نماز کی امامت ہوتی تھی۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں سنتِ نبوی پر عمل کرتے ہوئے اسی جگہ نمازِ عیدین قائم فرمائی۔

ایک عوامی مغالطے کا ازالہ:

بعض لوگ کم علمی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں شاید خلیفۂ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا مکان یا گھر تھا، حالانکہ تاریخی طور پر ایسی بات بالکل نہیں ہے۔ تاریخِ مدینہ کے مستند مصادر کے مطابق ان کا اصل گھر تو مسجدِ نبوی شریف کے مغربی جانب، موجودہ دو نمبر گیٹ کے پاس تھا، جسے “بابِ ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ” کہا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے وہاں آج بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نامِ نامی اسمِ گرامی جلی حروف میں لکھا ہوا نظر آئے گا، جو عہدِ رسالت میں ان کے گھر کا رخ مسجدِ نبوی کی طرف ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
یہاں پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانے میں عید کی نماز کی امامت ہوتی تھی اور اس تاریخی مسجد کے دروازے پر اس کی عثمانی دور کی تعمیرِ نو کی تاریخ کندہ ہے، جو 1254 ہجری درج ہے۔ یعنی آج سے تقریباً 194 سال پہلے اس موجودہ مسجد کو عثمانی سلطنت کے نامور حکمران سلطان محمود ثانی نے نہایت خوبصورت اور مضبوط طرزِ تعمیر پر بنوایا تھا۔

۲۔ مسجدِ اِجابہ (مسجدِ بنو معاویہ)

یہ مسجد مدینہ منورہ کے شمال مشرقی جانب، جنت البقیع کے قریب واقع ہے۔ عہدِ رسالت میں یہ مسجد انصار کے قبیلے بنو معاویہ کی مسجد تھی اور اسے مسجدِ بنو معاویہ بھی کہا جاتا ہے۔ لفظ “اِجابہ” کے معنی “دعا کی قبولیت” کے ہیں۔ یہاں پر چونکہ آقائے نامدار حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں قبول ہوئیں، اسی لیے اسے اسلامی تاریخ میں “مسجدِ اِجابہ” (قبولیتِ دعا کی مسجد) کے نام سے شہرت ملی۔

قبولیتِ دعا کا خاص واقعہ اور احادیث کا استناد:
یہاں پر وہ خاص اور تاریخی واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر صحیح مسلم اور دیگر کتبِ احادیث میں تفصیل سے ملتا ہے۔ غزوۂ تبوک سے واپسی پر یا ایک سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں تشریف لائے، دو رکعت نماز ادا کی اور پھر بارگاہِ الٰہی میں طویل مناجات فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دعائیں اللہ سے مانگی تھیں، جن میں سے دو دعائیں اللہ رب العزت نے قبول فرما لیں اور ایک سے روک دیا گیا۔

پہلی قبول شدہ دعا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی دعا یہ تھی کہ میری امت پر کوئی ایسا بیرونی دشمن مسلط نہ ہو جو پوری کی پوری امت کو صفحۂ ہستی سے ختم کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی۔

دوسری مقبول دعا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری دعا یہ فرمائی تھی کہ میری امت پر ایسا عام قحط مسلط نہ ہو کہ پوری امت اس کی لپیٹ میں آ جائے اور ہلاک ہو جائے۔ اللہ رب العزت نے یہ دوسری دعا بھی قبول فرما لی۔

تیسری دعا (جس پر امت کو آزمایا گیا): آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا کہ میری امت میں آپس میں اختلاف اور خانہ جنگی نہ ہو، یہ قبول نہیں ہوئی (یعنی امت کو باہمی اتحاد قائم رکھنے کی ذمہ داری دی گئی اور اختلاف کی صورت میں آزمائش رکھی گئی)۔

تاریخی اہمیت:
یہ مسجدِ الاجابہ کی وہ مستند تاریخ ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ امتِ مسلمہ بحیثیتِ مجموعی کبھی قحط یا کسی ایک دشمن کے ہاتھوں بالکل تباہ نہیں ہوگی، تاہم باہمی اتحاد کی حفاظت امت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دورِ نبوی سے لے کر اب تک اس مسجد کو مختلف ادوار میں تعمیر کیا گیا، جس میں شاہ فہد بن عبدالعزیز کے دورِ حکومت میں کی گئی جدید توسیع و تعمیر بھی شامل ہے، تاکہ اس کی تاریخی حیثیت برقرار رہے۔

حاصلِ کلام:
مدینہ منورہ کی یہ دونوں مساجد محض پتھروں اور محرابوں کا مجموعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ تاریخِ اسلام کے سنہری ادوار، خلافتِ راشدہ کی یادگاروں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت کے لیے تڑپ اور دعاؤں کی زندہ علامات ہیں۔ زائرین کے لیے ان مقامات کی زیارت دین سے وابستگی کو مزید گہرا کرتی ہے۔(جاری ہے)